کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جامعة الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کے دینی اور عصری تعلیم کو یکجا کرنے کے اقدام کی تحسین کرتے ہوئے ادارے کے اس ترقی پسندانہ طرزِ عمل کو سراہاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعة الرشید کے فضلاء اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں جامعة الرشید کے سرپرست اعلیٰ مفتی عبدالرحیم، الجامعة الغزالی کے چانسلر، پرووائس چانسلر ڈاکٹر ذیشان احمد، وائس چانسلر مفتی احسان وقار اور دیگربھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے دعوت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے مستقبل کے علماء سے خطاب کرنا اپنا اعزاز قراردیا۔
انہوں نے اجتماع کے مقاصد کا خیرمقدم کیا،جنہیں انہوں نے اساتذہ اور علماء کی قوم کو درپیش موجودہ چیلنجز سے آگہی اور انہیں حل کرنے کے عزم کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے کہ ہم ایسے علماء تیار کریں جو نہ صرف عصری مسائل سے واقف ہوں بلکہ انہیں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔
اسلامی مدارس کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے یاد دلایا کہ اسلامی تاریخ میں مدارس دنیا کے جدید ترین تعلیمی ادارے تھے جہاں سے عظیم سائنس دان، مفکر اور مورخ پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب نے مسلمانوں کی تحقیقات اور دریافتوں کی بنیاد پر علمی ترقی حاصل کی۔ ہم جو اس علم کے بانی تھے، پیچھے رہ گئے۔
وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی کہ ابتدائی مدارس کے نصاب میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ طب،حکمت،فلکیات،جہاز رانی اور ریاضی جیسے مضامین شامل تھے، جس کے باعث فارغ التحصیل افراد ہر میدان میں مہارت رکھتے تھے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعد میں پیدا ہونے والے ”جمود” نے ان اداروں کی ترقی روک دی اور دینی تعلیم اور عملی زندگی کے درمیان فاصلے پیدا ہوگئے۔مراد علی شاہ نے جامعہ اور الجامعة الغزالی کے بیک وقت فعال کردار پر مسرت کا اظہار کیا جو درسِ نظامی کو جدید تعلیم کے ساتھ مربوط کر رہے ہیں۔
انہوں نے بی ایس اور ایم ایس ڈگریوں کے ساتھ چار بین الاقوامی زبانوں عربی، انگریزی، ترکی،چینی اور ٹیکنالوجی کورسز کی فراہمی کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ علماء اپنا گھریلو نظام تک نہیں چلا پاتے۔ جب یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ اعلیٰ ڈگریوں اور مہارتوں کے حامل ہوں گے تو نہ انہیں بے روزگاری کا سامنا ہوگا اور نہ ہی دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جدید دنیا سے تعلق رکھنے کے لیے سائنس کو چھوڑنا نہیں بلکہ اس میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بنیادی سائنسی اصولوں کی بنیاد خود مسلمانوں نے رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی اس علمی میراث کو اپنی صلاحیت کے ذریعے دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔
پاکستان کو ترقی کی راہ پر لانے کے لیے ہمیں تعلیم، معاشی استحکام اور ٹیکنالوجی کا راستہ اپنانا ہوگا۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ موجودہ دور میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، ادب اور فلسفہ کی تعلیم کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ سب سے اہم بات انہوں نے تربیت کردار سازی پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کی بہتری کے لیے بہترین ذہنوں کے ساتھ بہترین انسانوں کی ضرورت ہے۔ جہاں مدارس اللہ سے تعلق قائم کرنے کا درس دیتے ہیں، وہیں انہیں اللہ کی مخلوق کے حقوق کی تعلیم بھی دینی چاہیے۔
ایسا کرنے سے ہم معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔ اجتماع سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے احسن آباد میں فیملی پارک بنانے کا اعلان بھی کیا جبکہ جامعة الرشید نے پارک کیلئے 6500 گز زمین دینے کا اعلان کیا۔

