اسلام آباد:پاکستان کا آئی ایم ایف کیساتھ آئندہ بجٹ کیلئے ٹیکس پالیسی، بجٹ سازی،پبلک فنانس مینجمنٹ میں تبدیلی پر اتفاق ہوگیا۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ تجاویز پر ٹیکنیکل رپورٹ جنوری میں وزارت خزانہ کو دی جائے گی،بجٹ میں اہم تبدیلیاں کرنے کی تجاویز دے کر آئی ایم ایف ٹیکنیکل وفد واپس روانہ ہو گیا۔وزارت خزانہ آئندہ ماہ تک آئی ایم ایف کو بجٹ عملدرآمد میں تبدیلی کیلئے حتمی تجاویز تیار کر کے دے گی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکنیکل وفد کیساتھ بجٹ عملدرآمد کے پراسس میں تبدیلی کیلئے 15 تجاویز زیرغور رہیں،پبلک فنانس مینجمنٹ ڈیجیٹائزڈ پلان تشکیل دینا، پی ایف ایم ڈیجیٹائزڈ پلان کی نگرانی کیلئے کمیٹی کی تشکیل شامل ہے۔
بجٹ تیاری کیلئے مکمل ای آفس، ای پیڈز کا استعمال کرنا، ڈیٹا سے تضادات ختم کرنا شامل ہیں، نئے ڈیٹا کی بنیاد پر بجٹ سازی، بجٹ تیاری میں تمام وزارتوں کیساتھ مشاورت کا عمل بڑھانا بھی شامل ہیں، آئندہ نئے بجٹ کیلئے ٹیکس پالیسی پر بھی ٹیکنیکل مشن نے اہم تبدیلیوں کیلئے تجویز پر غور کیا۔
دوسری جانب پاکستان نے آئی ایم ایف کا گزشتہ 10 سال کی سپلیمنٹری گرانٹس کے اسپیشل آڈٹ کا مطالبہ بھی مان لیا۔پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے درمیان 10 روزہ ٹیکنیکل بات چیت مکمل ہو گئی۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق بات چیت میں دونوں فریقین نے متعدد اہم نکات پر اتفاق کیا ہے۔پاکستان نے گزشتہ 10 سال کی سپلیمنٹری گرانٹس کے اسپیشل آڈٹ کا مطالبہ مان لیا جبکہ آئی ایم ایف نے سپلیمنٹری گرانٹ پر وفاقی حکومت کے اختیارات محدود کرنے کے مطالبات کو تسلیم کر لیا۔ذرائع نے کہا سپلیمنٹری گرانٹس کے میکنزم، شفافیت اور مزید مؤثر بنانے کیلئے آڈیٹر جنرل آڈٹ کرے گا۔

