فیصل آباد دھماکا، اموات 20، ابتدائی تحقیقات سامنے آگئیں

فیصل آباد:فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹ گیا جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے زور دار دھماکا ہوا، دھماکے کے باعث فیکٹری میں آگ لگ گئی، دھماکے سے فیکٹری اور قریب مکانوں کی چھتیں بھی گر گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جائے وقوعہ سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے، اب تک 20 افراد کی نعشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ کئی افراد کے ملبے تلے دبنے ہونے کا خدشہ ہے۔
ترجمان ریسکیو پنجاب کے مطابق منہدم عمارت سے کئی لوگوں کو زندہ ریسکیو کیا گیا تاہم شدید چوٹوں کی وجہ سے کچھ لوگ بعد میں دم توڑ گئے۔
ریسکیو ترجمان فاروق احمد کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ گیس لیکج کی وجہ سے سٹیمر بلاسٹ سے ہوا۔ یہ فیکٹری ملک پور، شہاب ٹائون میں واقع ہے جس کے قریب کبڈی سٹیڈیم گرانڈ موجود ہے۔
ان کا کہناتھا کہ اس مقام پر چار اکٹھی فیکٹریاں تھیں جن میں سے یہ حادثہ کیمیکل صمد بونڈ والی فیکٹری میں ہوا ہے جبکہ باقی تین فیکٹریوں میں گلو، سیلیکون اور ایمبرائیڈری کا کام ہوتا ہے اور یہ فیکٹریاں بند تھیں۔ریسکیو حکام کے مطابق اس حادثے میں نو گھر بھی متاثر ہوئے۔ متاثرین میں تین مزدور اور باقی رہائشی ہیں۔
پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس فیکٹری میں کیمیکل بنایا جاتا تھا اور اب پولیس کی طرف سے حادثے کی ممکنہ وجوہات پر تحقیقات شروع کی گئی ہے اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری میں بوائلر دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اور سوگوار خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی و تعزیت کی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے واقعہ کا نوٹس لے کر کمشنر فیصل آباد سے سانحہ کی رپورٹ طلب کر لی۔