نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کچھ عناصر خطے کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں، تنازع کشمیر کا پْر امن حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہوناچاہیے۔ نائب وزیراعظم نے برسلز میں یورپی یونین کے وزارتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ضروری ہے، تقسیم اور طاقت کی دوڑ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت دنیا کا نقشہ بدل رہی ہے، اقوام متحدہ کے اصولوں کی پاسداری پاکستان کی ترجیح ہے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات برسلز میں منعقد ہونے والے چوتھے یورپی یونین انڈو پیسیفک وزارتی فورم کے موقع پر ہوئی۔دوران ملاقات پاکستان اور سلووینیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے وسیع تر فریم ورک کے اندر تعاون کو وسعت دینے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان اور جمہوریہ سلووینیا کے مابین باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ فریقین نے پاکستان اور سلووینیا کے مابین تجارتی و اقتصادی تعاون کو بڑھانے پر زور دیا۔ملاقات کے دوران دونوں اطراف نے علاقائی اور عالمی سلامتی سے متعلق پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں فریقین نے پاکستان اور سلووینیا کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت سے متعلق ایک مفاہمت نامے پر بھی دستخط کیے۔سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور یورپی یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ کیلئے پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی بھی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے ہمراہ اس ملاقات میں موجود تھے۔
علاوہ ازیںنائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے برسلز میں سنگاپور، برونائی، ڈنمارک، پولینڈ اور کمبوڈیا کے وزرائے خارجہ اور جاپان کے نائب وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ ملاقات یہاں یورپی یونین کی اعلی نمائندہ اور نائب صدر کاجا کالاس کی طرف سے چوتھے یورپی یونین انڈو پیسیفک فورم کے موقع پر دیے گئے گالا ڈنر کے موقع پر ہوئی۔

