چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین اس صدی کی سب سے بڑی نا انصافی ہے۔ اسرائیل مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیرروکے اور نئی بستیوں کی تعمیر کا فیصلہ واپس لے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ باتیںا ذر بائیجان کے دار الحکومت باکو میں منعقدہ کانفرنس کے موقع پر اسرائیلی صدر اسحق ہرزوگ سے ملاقات کے دوران کیں اور ناجائز صہیونی ریاست کے صدر پر واضح کیا کہ دوریاسی حل ہی مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کا درست راستہ ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق باکو کانفرنس میں اسرائیلی صدر کی تقریر کے دوران پاکستان سمیت 10 سے زائد ممالک کے مندوبین نے واک آوٹ کیا جس سے صہیونی ریاست کے صدر کو خفت کا سامنا کرنا پڑا۔
قابض و غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے فرزندان زمین پر جاری ظلم و تعدی کے خلاف عالمی سطح پر اٹھنے والی ا وازیں اب روز افزوں بلند تر ہوتی جارہی ہیں اور قاتل و دہشت گرد صہیونی رجیم کو ہر جگہ کٹہرے پر کھڑا کیا جارہا ہے جو کہ ایک حوصلہ افزا امر ہے۔چین کے وزیر خارجہ کی جانب سے اسرائیلی صدر اسحق ہرزوگ کو ان کے منہ پر شرم اور احساس دلانے کی کوشش بلاشبہہ ایک غیر معمولی پیشرفت ہے اور چینی وزیر خارجہ کایہ بیان کہ مسئلہ فلسطین صدی کی سب سے بڑی نا انصافی ہے،درحقیقت عالمی ضمیر کی پکار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ صدی کی اس نا انصافی کی بنیاد تہذیب و انسانیت کی نام نہاد علم بردار مغربی اقوم نے اسی وقت رکھ دی رتھی جب پہلی جنگ عظیم کے دوران بالفور ڈکلیئریشن کے ذریعے ارض فلسطین کے قلب میں سراسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر ایک ناجائز صہیونی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا گیا، پھرایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت دنیا بھر میں خوار پھرنے والے لاکھوں یہودیوں کو ارض فلسطین میں لالاکر بسایا گیا اور پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد 1948ء میں باقاعدہ صہیونی ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا،فلسطینی عربوں نے اپنی جدی پشتی سرزمین پر یورپ اور لاطینی امریکا سے آئے ہوئے غاصبین کے قبضے کی مخالفت اور مزاحمت کی تو مغربی ممالک نے صہیونی دہشت گرد ملیشاوں کو جدید ہتھیار اور بمبار طیارے دے کر ان کے ذریعے فلسطینی عربوں کو اپنی بستیوں سے نکلنے اور اردن کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔یوں طاقت،دھونس اور زبردستی کے زور پر ایک ناجائز صہیونی ریاست کو تحفظ دینے کا آغاز ہوا جو آج آٹھ عشرے گزرجانے کے بعد بھی جاری ہے۔
تاہم آج سے تین سال قبل فلسطینیوں نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بالآخر اپنی بقا کی فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور طوفان اقصیٰ آپریشن کے ذریعے ایک بار پھر دنیا کی توجہ فلسطین کے مسئلے کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی،گوکہ انہیں اس کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑی اور اس وقت بھی وہ ناقابل تصور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، تین سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے غزہ کی سرزمین پر امریکا کی سرپرستی میں صہیونی درندوں اور ارض فلسطین پر قابض گروہ اسرائیل کی چکی ایک ایک کرکے لاکھوں نہتے فلسطینی مسلمانوں کو پیستی چلی جا رہی ہے، ظلم و سفاکیت کی اس صہیونی چکی میں اب تک غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق74 ہزار سے زائد فلسطینی بچے، مائیں، جوان اور بوڑھے بری طرح پیسے جا چکے ہیں اور آج سے ایک سال قبل بظاہر جنگ بندی ہونے کے باوجود ظلم و ستم کی یہ چکی مسلسل اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ فلسطینیوں کی یہ سر عام خونریزی اور غزہ کی سرزمین پر سفاکیت کا یہ جنونی اور وحشیانہ کھیل کب تک جاری رہے گا اور کتنے فلسطینیوں کا لہو بہانے کے بعد تھمے گا۔ عالم یہ ہے کہ بظاہر جنگ بندی کے باوجود بھی گزشتہ ایک سال سے ہر نئے دن کا سورج ظلم و سفاکیت کی ایک نئی داستاں کی لہو رنگ خبر لیکر طلوع ہوتا ہے اور دنیا بے بسی سے دیکھتی رہ جاتی ہے۔ غزہ کی سرزمین تمام روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کی خونی تجربہ گاہ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اس سے اسرائیل اور انسانیت کے خود ساختہ چیمپئن امریکا کی سفاکیت، انسانیت دشمنی اور بے رحمی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق غزہ پٹی میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں 8 فلسطینی شہید اور 9 زخمی ہوگئے۔ اسرائیل جنگ بندی کی آڑ میں فلسطینیوں کا مرحلہ وار قتل عام جاری رکھے ہوئے۔ اس بھیانک خونی منصوبے کا مقصد غزہ کے باشندوں کو موت قبول کرنے یا پھر جبری انخلاا ختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ ان دنوں صہیونی ریاست کے اندر عام انتخابات قریب ہیں اور غزہ کے قصاب نیتن یاہو کو شکست کا خوف لاحق ہے،اس لیے وہ فلسطینیوں کا مزید خون پی کر اپنی خون آشامی کی تسکین کرنا چاہتا ہے۔
فلسطین میں یہ سب ہوا ہے اورہو رہا ہے اور شاید اس لیے ہورہا ہے کہ اسرائیل تاحال خود کو جوابدہی سے بالاتر سمجھتا آیا ہے تاہم اب بظاہر حالات کا رخ بدلنے لگا ہے۔اس وقت عالم یہ ہے کہ امریکا کا صہیونیت نواز صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے انتخابی جلسوں میں اسرائیل کانام لینے سے کترارہا ہے ۔ امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں صاف کہہ دیا کہ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے اور اس نے فلسطینیوں کی اراضی پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ سابق امریکی صدر کے اس بیان پر قاتل صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو کی تلملاہٹ دیکھنے کے لائق ہے اور انہوں نے ایک بیان میں اس پر شدید ”غم و غصے” کا اظہار کیا ہے کہ امریکا جیسے دوست ممالک کے سابق صدر نے کس طرح اسرائیل کو غاصب قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ بھی فلسطینیوں پراسرائیل کے مظالم کو ناقابل قبول قرار دے کر دوریاستی حل کو مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا حل قرار دے چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ” صدی کی سب سے بڑی انصافی ”کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اب قابض و غاصب صہیونی ریاست کا تعاقب کرنے کو تیار ہیں۔چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے صہیونی ریاست کے صدر کو سامنے بٹھاکر جو ایک واضح پیغام دیا ہے،یہ عالمی سیاست میںچین کے بدلتے مزاج کی بھی ایک علامت ہے۔چین کی حکومت عام طور پر عالمی تنازعات کے بارے میں نہایت محتاط الفاظ کا انتخاب کرتی ہے اور کسی سربراہ مملکت کے ساتھ تخاطب میں ویسے بھی بہت نپا تلا انداز گفتگو اختیار کیا جاتا ہے،یہاں چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے فلسطین میں جاری قتل عام کو” صدی کی سب سے بڑی نا انصافی” قرار دیا ہے جوکہ ایک معنی خیز امر ہے۔
