حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن معرکہ شروع

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
یمنی سرکاری فوج نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کردی ہے، جبکہ سعودی عرب نے حکومتی افواج کو فضائی اور عملی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری طرف حوثیوں نے سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اتوار کو قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ ملک تیاری اور دفاع کے مرحلے سے نکل کر “آزادی کے مرحلے” میں داخل ہوگیا ہے۔ حکومت نے ملک کے باقی ماندہ علاقوں کو حوثیوں کے قبضے سے واپس لینے اور پورے یمن میں ریاستی اداروں اور حکومت کی عمل داری بحال کرنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کردی ہے۔ العلیمی نے کہا کہ حکومت نے کشیدگی کم کرنے کے تمام مواقع آزما لیے ہیں اور اب مسلح افواج کو اپنے طے شدہ فرائض انجام دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول کارروائی کا مقصد کسی قبیلے، علاقے یا فرقے کے خلاف جنگ نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی بحالی اور مسلح حوثی اقتدار کا خاتمہ ہے۔
چار بڑے محاذوں پر کارروائیاں
یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے آج 5 اکتوبر کو اعلان کیا کہ فوج نے حوثیوں کے خلاف 1122 کارروائیاں کی ہیں۔ یہ کارروائیاں صعدہ، الجوف، تعز اور ساحلی محاذ پر کی گئیں۔ حملوں میں حوثیوں کی توپ خانے کی پوزیشنوں، راکٹ لانچروں، دفاعی مورچوں، آمدورفت کے راستوں، رسد کی لائنوں، فوجی کمک، جنگی اجتماعات اور کمانڈ و کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائیوں میں جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلوں، راکٹ لانچروں اور اسنائپرز کا استعمال کیا گیا۔ فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 1747 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک یا زخمی کیا گیا، جبکہ 364 فوجی گاڑیوں، آلات اور رسد پہنچانے والی گاڑیوں کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ تاہم یہ اعداد یمنی حکومت اور فوج کے جاری کردہ ہیں۔ آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
تعز: جنگ کا اہم مرکز
موجودہ کارروائی میں تعز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ گزشتہ دنوں حوثیوں نے تعز کے اطراف اپنی پیش قدمی بڑھانے کی کوشش کی اور اہم زمینی راستوں پر دباؤ بڑھایا۔ تعز یمن کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہونے کے باعث دارالحکومت صنعاء، مغربی ساحل اور عدن کے درمیان رابطوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی نے تعز کے اطراف صورتحال کو مزید سنگین کیا ہے، جبکہ حکومتی افواج سعودی فضائی مدد کے ساتھ جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے اطراف پیش قدمی نے جنگ کی تزویراتی اہمیت بھی بڑھا دی ہے۔
باب المندب کیوں اہم ہے؟
باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے اور بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے۔ اکسیوس کے مطابق حوثیوں کے جنوبی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اثر و رسوخ بڑھنے سے انہیں باب المندب پر دباؤ ڈالنے اور عالمی تجارت، سعودی تیل کی برآمدات اور بین الاقوامی بحری نقل و حرکت پر اثرانداز ہونے کی نئی صلاحیت حاصل ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کے لیے اس علاقے کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا موجودہ فوجی مہم کا اہم مقصد بن گیا ہے۔
سعودی عرب کی کھلی حمایت
سعودیہ نے یمنی حکومت کی نئی فوجی مہم کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان کے مطابق اتحاد یمنی حکومت اور فوج کو اس وقت تک عملی مدد فراہم کرتا رہے گا جب تک ریاستی ادارے بحال نہیں ہوجاتے اور حوثیوں کا خطرہ ختم نہیں ہوجاتا۔ سعودی فضائیہ پہلے ہی حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں شریک ہے، جبکہ یمنی حکومتی فوجیں زمینی محاذوں پر پیش قدمی کر رہی ہیں۔ اکسیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہزاروں حکومتی حامی جنگجو اس جوابی کارروائی میں شریک ہیں اور سعودی فوج بنیادی طور پر فضائی مدد اور حوثی اہداف پر حملوں کا کردار ادا کر رہی ہے۔
امریکا کا کردار؟
موجودہ صورتحال میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کی درخواست کے باوجود امریکا براہ راست حوثیوں کے خلاف جنگ میں کیوں شامل نہیں ہوا۔ امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق واشنگٹن سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہے، لیکن امریکی افواج کو فی الحال حوثیوں کے خلاف براہ راست جنگی کارروائی سے روک دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کو یمن میں براہ راست حملوں پر تحفظات ہیں کیونکہ اس سے ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں سے توجہ ہٹ سکتی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ واشنگٹن فی الحال یمن میں براہ راست فوجی کارروائی نہیں کرے گا، تاہم اگر حالات بدلتے ہیں تو پالیسی بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔ Axios کے مطابق امریکی فوج گزشتہ دو ہفتوں میں سعودی عرب کو حوثیوں کے 200 سے زیادہ اہداف سے متعلق معلومات فراہم کرچکی ہے، جنہیں سعودی فورسز نے نشانہ بنایا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا جنگ سے مکمل طور پر الگ نہیں بلکہ براہ راست حملوں کے بجائے انٹیلی جنس اور ہدف بندی کی مدد تک محدود رہنا چاہتا ہے۔
حوثیوں کا آرامکو پر جوابی وار
حکومتی افواج کی نئی کارروائی کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ تنظیم نے ریاض اور خریص کے علاقے میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حوثیوں نے کہا کہ حملے ان کے خلاف سعودی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے اور اہداف پر براہ راست حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ رائٹرز کے مطابق ان دعوؤں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ تاہم سعودی حکام اور آرامکو نے فوری طور پر حوثیوں کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
بحیرہ احمر میں جہاز کے قریب دھماکے
یمنی ساحل کے قریب سمندری راستوں پر بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ برطانوی UKMTO کے مطابق 4 اکتوبر کو ایک تیل بردار جہاز کے عملے نے یمن کے ساحلی شہر المخا (موکا) سے تقریباً 60 بحری میل جنوب میں جہاز کے قریب متعدد دھماکے دیکھے۔ جہاز کا عملہ محفوظ رہا اور کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو احتیاط برتنے اور کسی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہم بات یہ ہے کہ UKMTO نے اس واقعے کے ذمہ دار کسی گروہ کا نام نہیں لیا اور یہ بھی نہیں کہا کہ جہاز براہ راست نشانہ بنا یا اسے نقصان پہنچا۔ اس لیے اسے فی الحال حوثیوں کا تصدیق شدہ حملہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یمنی حکومتی فوج واقعی تعز سے آگے بڑھتے ہوئے بحیرہ احمر کے ساحل اور باب المندب واپس لینے میں کامیاب ہوجائے گی، یا حوثی ایک بار پھر محاذوں کو طویل جنگ میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ آنے والے دن اس کا جواب دیں گے۔