دنیاوی مصروفیات میں آخرت کی تیاری

تحریر: سمانہ اسد
آج کا نوجوان مختلف قسم کی الجھنوں اور ذہنی انتشار کا شکار ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ اللہ سے محبت نہیں کرتا یا اُسے آخرت اور روزِ جزا پر یقین نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی مصروفیات، آسائشوں کی خواہش اور کامیابی کی دوڑ میں وہ کبھی کبھی اپنے رب سے تعلق کو نظرانداز کر بیٹھتا ہے۔لیکن یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ وہ اپنے بندوں کو بھٹکنے کے بعد واپسی کا راستہ دکھاتا ہے۔ کبھی کوئی واقعہ، کبھی کوئی سانحہ اور کبھی زندگی کا کوئی تجربہ انسان کے دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ دنیا کی مصروفیات کے ساتھ دین کے لیے بھی وقت نکالنا چاہیے، کیونکہ اصل زندگی تو آخرت کی ہے جبکہ دنیا کے معاملات تو وقتی ہیں۔
ایسے میں بعض نوجوان پوچھتے ہیں:”ہم دنیا کے کام تو کر ہی رہے ہیں لیکن دین کے لیے بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“ میں ان سے کہتی ہوں: ’ہمارا دین ایسا نہیں ہے کہ اُس کے لیے دنیا کو بالکلیہ چھوڑ دینا پڑے!‘ ذرا سوچیے! ہم دنیا میں کیا کرتے ہیں؟ تعلیم حاصل کرتے ہیں، کام کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، گھر سنبھالتے ہیں اور اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ان تمام معاملات میں ہمارے لیے حلال و حرام کی حدود مقرر ہیں۔اگر ہم حلال روزی کماتے ہیں، اپنے کام میں ایمانداری اختیار کرتے ہیں، کسی کا حق نہیں مارتے اور دھوکا دہی سے بچتے ہیں اور ان سب میں ہماری نیت صاف ہے تو یہ بھی دین ہے۔ اگر ہم جھوٹ نہیں بولتے، غیبت سے پرہیز کرتے ہیں، کسی کی دل آزاری نہیں کرتے اور رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے ہیں تو یہ بھی دین ہے۔ اگر ہم کسی حرام محفل میں جانے سے گریز کرتے ہیں، اپنی نگاہوں اور زبان کی حفاظت کرتے ہیں اور برائی سے خود کو دُور رکھتے ہیں تو یہ بھی دین ہی کا حصہ ہے۔ بعض اوقات ہم یہ تمام کام اپنے ہی فائدے کے لیے کرتے ہیں۔ ہم کام میں دھوکا نہیں دیتے تاکہ اپنی نوکری برقرار رکھ سکیں، اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں تاکہ ترقی کے مواقع حاصل کر سکیں اور کسی حرام محفل میں جانے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرتی وقار اور اچھا تاثر قائم رہے، لیکن جب ہم اپنی نیت کا رخ اللہ کی طرف موڑ دیتے ہیں، جب یہی کام اللہ کی رضا کے لیے کرنے لگتے ہیں تو ہمارے یہ معمولی سے اعمال بھی عبادت بن سکتے ہیں اور اجر کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ بس فرق نیت کا ہے؛ کام وہی رہتے ہیں، مگر مقصد بدلتے ہی اُن کی قدر و قیمت بدل جاتی ہے۔
یقینا نماز، روزہ اور دیگر عبادات کی اپنی خاص اہمیت ہے، ان فرائض سے غفلت نہیں برتی جا سکتی، لیکن ان عبادات کے ساتھ ہمارا کردار، ہمارے معاملات اور ہماری نیتیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔دین صرف مسجد میں نہیں، ہمارے رویوں میں بھی نظر آنا چاہیے۔ہمیں دنیا چھوڑنے کی نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہم اپنی دنیا بھی اسی زندگی میں بناتے ہیں اور اپنی آخرت کی تیاری بھی اسی زندگی میں کرتے ہیں، تو کیوں نا ہم اپنے روزمرہ کے معمولات کو بھی ایسا بنا لیں کہ وہ ہماری آخرت سنوارنے کا ذریعہ بن جائیں؟ دین ’دنیا کو بالکلیہ ترک کرنے‘ کا نام نہیں، اصل کمال یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے دین کو نہ بھولیں۔