چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نئے تنازع کی زد میں ہیں

بھارتی چیف الیکشن کمشنر نے 95 ہزار مسلم ووٹرز ختم کردیے، کانگریس کا اعلان جنگ

بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے ووٹوں کو چن چن کر ختم کرنے کی مذموم سازشیں ایک بار پھر بے نقاب ہو چکی ہیں، جہاں متعدد ریاستوں میں مخالف ووٹوں کا صفایا کرنے کے بعد اب اتراکھنڈ میں بھی ہندوتوا ایجنڈے کے تحت ووٹر لسٹوں سے مسلمانوں اور اپوزیشن کے حامی ووٹرز کو باہر نکالنے کا گھناؤنا کھیل شروع کر دیا گیا ہے۔

اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے نام پر 95 ہزار سے زائد ووٹرز کے ووٹ منسوخ کیے جانے پر سیاسی بھونچال آ گیا ہے، جس پر کانگریس پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سڑکوں پر آ کر جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر اعتراضات کے نام پر بڑے پیمانے پر مسلمانوں اور مودی مخالف ووٹرز کو نشانہ بنایا گیا، اور کانگریس کی اتراکھنڈ انچارج کماری شیلجا نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں فارم اے ای آر او اور ای آر او کے نام پر خود بخود درج کیے گئے جبکہ یہ تمام ووٹرز پہلے ہی باقاعدہ ڈرافٹ لسٹ میں شامل تھے تاکہ اقلیتی برادریوں کے ووٹوں کا صفایا کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کئی ریاستوں میں مسلمانوں اور دلتوں کے ووٹ بھاری تعداد میں لسٹوں سے غائب کیے جانے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا، مگر حکومتی کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

معاملہ اس وقت مزید سنسنی خیز ہو گیا جب میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف ہوا کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے بھی ووٹر رجسٹریشن اور ناموں کے اخراج جیسے متنازع معاملات پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو خط لکھ کر شدید اعتراضات درج کرائے اور دوٹوک تنبیہ کی کہ جمہوریت کو اس طرح تباہ نہ کیا جائے۔ اس دھاندلی اور مسلم کش انتخابی سازش کے خلاف کانگریس نے جارحانہ قدم اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں اور کے سی وینوگوپال سمیت تمام رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے اشارے پر کام کرنے والے اس کرپٹ نظام کے خلاف احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک گیانیش کمار کو ان کے عہدے سے ہٹا کر گرفتار نہیں کیا جاتا اور ان کے تمام متنازع فیصلے کالعدم قرار نہیں دیے جاتے۔