صحافت ہر دور میں انسانی معاشرے کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ ابلاغ اور دوسروں تک اپنی بات پہنچانا دراصل انبیائے کرام کی سنت اور فریضہ رہا ہے۔ کسی بھی پیغام کو صوتی، بصری یا تحریری شکل میں قارئین اور سامعین تک پہنچانا ہی صحافت، ابلاغ اور پیغام رسانی کہلاتا ہے۔ صحافت کا بنیادی مقصد عوام تک خبر پہنچانا، خبر کو سمجھانا، اس کے پس منظر اور پیش منظر سے آگاہ کرنا، اس کے عواقب و نتائج پر روشنی ڈالنا اور معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت کرنا ہے۔
سن 1605ء میں دنیا کا پہلا باقاعدہ اخبار شائع ہوا۔ اخبار سے شروع ہونے والا یہ سفر رفتہ رفتہ رسائل، ریڈیو، ٹیلی وژن اور انٹرنیٹ سے ہوتا ہوا آج جدید ترین ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ تک جا پہنچا ہے۔ ایک زمانے میں صحافت کا مقصد یہ سمجھا جاتا تھا کہ لوگوں تک سچائی، امانت داری، دیانت داری اور غیر جانب داری کے ساتھ خبر پہنچائی جائے، معلومات کی تصدیق کی جائے، عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے، زبان و بیان کو مہذب اور شائستہ رکھا جائے اور ملکی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ذمہ دارانہ پیغام رسانی کی جائے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کے یہ اصول مزید نکھرتے چلے گئے اور ان میں معروضیت شامل ہوئی، یعنی حقائق کو جوں کا توں پیش کرنا، اس طرح کہ صحافی کے ذاتی خیالات اور جذبات خبر میں شامل نہ ہوں۔ معلومات کی فوری رسائی کو بھی اہمیت حاصل ہوئی تاکہ بروقت خبریں عوام تک پہنچ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داری، شفافیت اور احتساب جیسے اصول بھی جدید صحافت کا لازمی حصہ بنتے چلے گئے۔
ابلاغ کے میدان میں سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی کہ ماضی میں ذرائع ابلاغ زیادہ تر حکومتوں یا سرمایہ دار طبقے کے زیرِ اثر رہے، لیکن جدید ڈیجیٹل ذرائع نے یہ اختیار بڑی حد تک عوام کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ اب کوئی بھی فرد، چاہے اس کا سماجی درجہ کچھ بھی ہو، اپنی بات دنیا تک پہنچا سکتا ہے، اطلاعات کی ترسیل کا ذریعہ بن سکتا ہے اور جدید پلیٹ فارمز تک وہی رسائی حاصل کر سکتا ہے جو کبھی صرف مقتدر حلقوں کو حاصل تھی۔
آج فرد اور چھوٹے گروہ خود مواد تخلیق کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب اور بلاگز کے ذریعے معلومات تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہی ہیں۔ اب مواد کی تخلیق اور تقسیم بڑے اخباری اداروں کی محتاج نہیں رہی، بلکہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس عمل میں شریک ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد مواد کی تخلیق میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ موجودہ دور کو”انفارمیشن ایج”کہا جانے لگا ہے، یعنی وہ زمانہ جب معلومات کی اس قدر بہتات ہو گئی ہے کہ سچی اور جھوٹی، اصلی اور جعلی خبروں میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ایسے حالات میں صحافت کا سب سے اہم فریضہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا اور مستند و غیر مستند خبروں کے درمیان واضح حد قائم کرنا بن چکا ہے۔ عوامی شراکت داری جتنی زیادہ بڑھی ہے، صحافت کو درپیش چیلنجز بھی اتنے ہی سنگین ہو گئے ہیں۔ یہ مقولہ آج پوری طرح صادق آتا ہے کہ”سچ ابھی جوتے پہن ہی رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ پوری دنیا کا چکر لگا کر واپس آ چکا ہوتا ہے۔”
قدیم صحافت، مثلاً اخبارات اور رسائل، محدود رسائی رکھتے تھے، جبکہ جدید سوشل میڈیا غیر محدود اور عالمی رسائی رکھتا ہے۔ جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہو کر اچھا اور معیاری مواد بیک وقت دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کر لیتا ہے اور اپنے قارئین و ناظرین خود تلاش کر لیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی اسی ہمہ گیر رسائی کا نتیجہ ہے کہ آج سماجی تحریکیں پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور طاقت ور ہو چکی ہیں۔ دنیا کے کسی ایک خطے میں جنم لینے والی تحریک چند ہی لمحوں میں عالمی سطح پر حمایت حاصل کر لیتی ہے۔ڈیجیٹل دور نے دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ آج ایک خطے کے لوگ دوسرے خطے کے لوگوں کے مسائل، خیالات اور نظریات کو پہلے کی نسبت زیادہ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ کئی نئے خطرات اور چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے دور میں غیر جانب داری کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ ہر آنے والی خبر اور ہر پھیلنے والا مواد اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی جانچ کی جائے: آیا یہ کسی ملک دشمن ایجنڈے کے تحت پھیلایا جا رہا ہے یا واقعی عوامی مفاد میں ہے؟ عوامی مواد میں شامل غیر ملکی یا منفی اثرات بعض اوقات اتنے باریک اور پیچیدہ ہوتے ہیں کہ انہیں پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ کی غیر جانب داری اور ساکھ کی جانچ ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ فیک نیوز، یعنی جعلی خبروں کا مسئلہ بھی نہایت سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ فیک نیوز اس قدر تیزی سے پھیلتی ہے کہ سچائی پیچھے رہ جاتی ہے۔ کہا جاتا تھا کہ کوئی بات جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے، مگر آج جعلی خبریں آگ سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ جدید تحقیقات کے مطابق ایک جھوٹی خبر، سچی خبر کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ توجہ اور پذیرائی حاصل کر لیتی ہے۔ سوشل میڈیا کے ٹرینڈز اکثر یہ طے کرتے ہیں کہ کون سی خبر زیادہ دیکھی اور سنی جائے گی، چاہے وہ حقیقت پر مبنی ہو یا نہیں۔
ایسے حالات میں جدید ذرائع ابلاغ کے لیے لازم ہے کہ وہ غیر جانب داری، شفافیت، عوامی جواب دہی اور متوازن رپورٹنگ کو اپنا شعار بنائیں۔ ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال، ڈیجیٹل لٹریسی کا فروغ اور ملکی قوانین کی پاسداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فیک نیوز، جعلی خبروں، کلک بیٹ مواد اور عوامی جذبات کو بھڑکانے سے گریز ہی وہ راستہ ہے جو جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے وقار کو برقرار رکھ سکتا ہے اور صحافت کو اس کے اصل مقصد سے جوڑے رکھتا ہے۔

