گزشتہ سے پیوستہ:
بیک وقت 2جنگیں لڑنا
کولڈ وار کے خاتمے کے بعد ایک عرصے تک امریکی دفاعی منصوبہ بندی میں یہ تصور اہم رہا کہ فوج بیک وقت 2بڑے علاقائی تنازعات سنبھال سکے۔ تب دنیا مختلف تھی۔ چین آج کی فوجی اور صنعتی طاقت نہیں تھا، روس سوویت یونین کے انہدام کے بعد شدید کمزوری کے دور سے گزر رہا تھا اور ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت بھی آج جیسی نہیں تھی۔ آج منظر بدل چکا ہے۔ یورپ میں روس اور یوکرین، مشرق وسطی میں ایران اور اسرائیل، بحرالکاہل میں چین اور تائیوان اور کوریائی جزیرہ نما پر شمالی کوریا۔ ان مسائل کو الگ الگ دیکھیں تو امریکا کے پاس ہر ایک سے نمٹنے کی زبردست صلاحیت ہے۔ اصل ڈراؤنا خواب تب شروع ہوتا ہے جب دو یا تین بحران ایک ساتھ پھٹ پڑیں اور امریکا کے حریف بھی یہ بات خوب جانتے ہیں۔
بہت طاقتور، مگر کیا اتنا کافی ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ امریکی طاقت پر ہماری بحث میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ ہم دو انتہاؤں میں سے ایک چن لیتے ہیں۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے امریکا ناقابل شکست ہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ دوسرا ہر امریکی ٹھوکر کو اس کے زوال کا حتمی ثبوت بنا ڈالتا ہے۔ ہمارے سوشل میڈیا پر تو ہر دوسرے مہینے امریکا کے خاتمے کا اعلان ہو جاتا ہے اور اگلے مہینے وہی امریکا پھر کچھ کرتا نظر آتا ہے۔ دونوں تصویریں ادھوری ہیں۔ امریکا آج بھی غیر معمولی طاقتور ہے۔ دنیا کے کسی ملک کے پاس اس جیسی عالمی فوجی رسائی نہیں۔ چند دنوں میں ہزاروں میل دور بڑی فوجی طاقت پہنچانے کی صلاحیت بھی غیر معمولی ہے۔ عالمی رسائی مگر لامحدود طاقت کا دوسرا نام نہیں۔ 11کیریئرز ہیں مگر ہر وقت 11دستیاب نہیں، میزائل ہزاروں ہیں مگر لامحدود نہیں، ایک ٹریلین ڈالر کا دفاعی خرچ ہے مگر پیچیدہ انٹرسیپٹر بنانے کے لیے فیکٹری کو پھر بھی وقت چاہیے۔ دنیا بھر میں اڈے ہیں، مگر ایک ہی طیارہ بیک وقت خلیج اور تائیوان کے اوپر نہیں اڑ سکتا۔ آخری اصول یہ بنا کہ طاقت اور فتح ایک چیز نہیں۔ ویت نام میں امریکا نے بے پناہ فوجی طاقت استعمال کی اور پھر بھی آخرکار اسے نکلنا پڑا۔ افغانستان میں بیس برس اور کھربوں ڈالر لگا کر جو نتیجہ نکلا، وہ ہم سے بہتر کون جانتا ہے۔ ہم نے تو اس جنگ کا ملبہ بھی اٹھایا اور قیمت بھی چکائی بلکہ بھاری قیمت۔
جنگ کا نیا حساب
شاید آنے والے برسوں میں فوجی طاقت ناپنے کا پیمانہ ہی بدل جائے۔ پہلے سوال ہوتا تھا کہ آپ کے پاس کتنے ٹینک ہیں؟ اب سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ 100ٹینک تباہ ہو جائیں تو کتنی جلدی نئے بنا سکتے ہیں؟ کتنے میزائل موجود ہیں سے زیادہ اہم یہ ہو سکتا ہے کہ 500میزائل ایک ہفتے میں خرچ ہوگئے تو دوبارہ بنانے میں 5ماہ لگیں گے یا 5سال؟ ڈرون نے یہ حساب مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ اگر دشمن بڑی تعداد میں سستے ڈرون بنا سکتا ہے اور آپ ہر ڈرون کو گرانے کے لیے لاکھوں ڈالر کا میزائل داغ رہے ہیں تو بھائی لوگو، بتائیے کہ معاشی جنگ کون جیت رہا ہے؟ یوکرین اور بحیرہ احمر (ریڈ سی) اس نئے حساب کی جھلک دکھا چکے ہیں۔ اسی لیے آنے والے دور میں دفاعی صنعتی صلاحیت خود فوجی طاقت کا بنیادی حصہ ہوگی۔
اب ذرا واپس ایران کی طرف
ایران امریکا سے زیادہ طاقتور نہیں اور امریکا چاہے تو اس کے خلاف ہولناک تباہی پھیلا سکتا ہے۔ تہران کیلئے مگر کھیل شاید یہ ہے ہی نہیں کہ وہ امریکا کو میدان جنگ میں شکست دے۔ کمزور فریق کبھی کبھی جیتنے کے لیے نہیں لڑتا، وہ طاقتور دشمن کے لیے جنگ کی کاسٹ بڑھانے اور اسے بہت مہنگا، ناقابل برداشت بنانے کے لیے لڑتا ہے۔ زیادہ میزائل خرچ ہوں، زیادہ بحری بیڑے وہاں رکے رہیں، زیادہ طیارے علاقے میں پھنسے رہیں، جنگ لمبی ہو اور ذخائر گھٹیں۔ تب جنگ کا حساب صرف یہ نہیں رہتا کہ کس کے کتنے طیارے گرے اور کتنے ٹھکانے تباہ ہوئے؟ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ امریکا نے ایران کو دبانے کے لیے وہ کتنی صلاحیت خرچ کردی، جس کی اسے کل کسی دوسرے بڑے معرکے کے لیے ضرورت پڑ سکتی ہے۔ شاید یہی اس ساری جنگ کا سب سے بڑا سبق ہے کہ سپر پاور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وسائل لامحدود ہیں۔
امریکا ہر جنگ لڑ سکتا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اگر کئی جنگیں ایک ساتھ اس کے دروازے پر آ کھڑی ہوں تو وہ پہلے کس کو چنے گا اور کس کو اس کے حال پر چھوڑ دے گا؟ ہمارے جیسے ممالک کے لیے اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جب وہ چناؤ کر رہا ہوگا، تب ہم اس فہرست میں کہاں کھڑے ہوں گے؟

