آخری قسط:
جس زمانے میں دارالعلوم دیوبند دو حصوں میں تقسیم ہوا اُس زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور شیخ الحدیث حضرت مولانا معراج الحق صاحب اور حضرت مولانا سعید احمد اکبر آبادی صاحب پاکستان تشریف لائے۔ مولانا اکبر آبادی پرانے بزرگوں اور فضلا میں سے ہیں، معروف دانشور ہیں۔ اپنے موقف کی وضاحت کے لیے دارالعلوم دیوبند قدیم کی طرف سے ان دو بزرگوں نے پاکستان کا دورہ کیا۔ گوجرانوالہ تشریف لائے، جامعہ نصرت العلوم میں ان کا بیان ہوا۔ جامعہ قاسمیہ میں ناشتے کے دوران میں نے مولانا اکبر آبادی سے پوچھا کہ حضرت! یہ قصہ کیا ہوا، مولانا سندھی متنازع کیوں ہوئے؟ حالانکہ بہت بڑی شخصیت ہیں اور ان کی بہت بڑی قربانیاں ہیں۔ اس پر انہوں نے بڑی زبردست بات بتائی، میں نے کسی کالم میں لکھی بھی ہے۔ فرمایا کہ ایک دفعہ میری حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی سے بات ہوئی۔ (یہ بھی مولانا سندھی کے شاگرد تھے) تو مولانا سیوہاروی نے مجھے کہا کہ سعیدبھائی! ہم نے مولانا سندھی سے بڑی زیادتی کی ہے۔ ہم ان کے شاگرد تھے، ان کے مزاج اور ان کے علوم کو سمجھتے تھے، ہم نے بے پروائی برتی۔ مولانا سندھی کی اپنی زبان مغلق اور لہجہ تلخ ہے، ان کے دوسرے طرز کے شاگردوں نے مولانا کو اپنے حق میں استعمال کرلیا۔ اصل قصور ہمارا ہے۔ بات اتنی ہی ہے۔ مولانا سندھی جب جلاوطنی کے بعد واپس تشریف لائے تو یہ بات درست ہے کہ ان کا رخ بظاہر بدلا ہوا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ دنیا دیکھ کر آئے تھے، انقلابات دیکھ کر آئے تھے اور دوسرا یہ کہ مولانا سندھی پر مسلسل شکستوں کے اثرات بھی تھے۔ ایک آدمی مسلسل جدوجہد کرے اور ہر جدوجہد آخر میں ناکام ہوجائے اور وہ ہو بھی نومسلم، خاندانی پس منظر بھی کوئی نہ ہو تو پھر جو ذہنی اثرات ہوتے ہیں سو ہوتے ہیں۔ مولانا سندھی اس بات کے داعی تھے جو ہم بھی کہتے ہیں کہ علماء کرام کو آج کے تقاضے سمجھنے چاہئیں، وقت کی ضروریات اور وقت کے تقاضوں کو سمجھنا چاہیے، جدید فلسفے اور جدید علوم کو سمجھنا چاہیے، لیکن یہ بات ذرا سخت لہجے میں اور پیچیدہ زبان میں کہتے تھے۔ اس کے بعد مولانا سندھی نے ساری زندگی قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر میں گزاری، دہلی میں نظارت قرآنیہ کے نام سے ادارہ قائم کیا۔ مولانا احمد علی لاہوری وہیں ان کے ساتھی بنے اور ان کے رشتہ دار بھی بنے۔ مولانا احمد علی کی والدہ محترمہ کا نکاح ہوا۔ مولانا احمد علی لاہوری کا تعلق گکھڑ کے قریب گاؤں جلال سے ہے، یہ بھی سکھ دھرم سے مسلمان ہوئے تھے۔
مولانا سندھی کی بین الاقوامی سطح پر خدمات ہیں۔ جاپان، جرمنی، خلافت عثمانیہ اور افغانستان کے ساتھ رابطے قائم کرنے میں اور تحریک کے تانے بانے بن کر اس کو منظم کرنے میں مین کردار ان کا ہے اور آج بھی جب آزادی کی جنگ کی بات ہوتی ہے تو جو دو چار بڑے بڑے نام آتے ہیں ان میں ایک نام مولانا سندھی کا بھی ہے۔ ہمارے بڑوں میں سے ہیں اور ان کا تذکرہ ہم اس حوالے سے ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کی خدمات، ان کی قربانیاں اور ان کے علوم و افکار آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
دارالعلوم دیوبند سے مولانا سندھی نے استعفا دیا تھا۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ تحریک آزادی میں دراصل دارالعلوم کے اپنے تحفظات تھے اور ان کی تحریک کا اپنا مقصد تھا۔ تحریکوں میں اور مدارس میں ہمیشہ فاصلہ رہا ہے۔ تحریکوں کے مقاصد اور ہوتے ہیں اور مدارس کا تحفظ اور ہوتا ہے، ہم نے اس معاملے میں بہت زیادہ ٹھوکر کھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا شیخ الہند جو کہ دارالعلوم کے شیخ الحدیث تھے، جب انہوں نے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے دارالعلوم سے استعفا دیا کہ میرا انگریز سے مقابلہ ہوگا تو اس کی سزا دیوبند کیوں بھگتے؟ مدرسے کو بچاؤ۔ اعلان کیا کہ میرا مدرسے سے کوئی تعلق نہیں ہے، جو بات کرنی ہے مجھ سے کریں۔ یہ بڑی بصیرت کی بات تھی کہ میری تو لڑائی ہوگی تو ہم نے کبھی پکڑا جانا ہے، کبھی مارا جانا ہے تو اس سے مدرسہ کیوں متاثر ہو؟ مدرسہ کا ماحول کیوں خراب ہو، اس لیے مدرسہ چھوڑ دیا۔ انہی معاملات سے ان کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔ وہ اختلاف مسائل کا نہیں تھا، پالیسی کا اختلاف تھا۔ دوسرا حلقہ مولانا انور شاہ کشمیری کا، تعبیرات کا مسئلہ تھا۔ بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ہم بڑی مشکل سے مدرسہ چلا رہے ہیں آپ ہمارے لیے کیا مصیبتیں کھڑی کر رہے ہیں، ہم مدرسہ کو مورچہ نہیں بنانا چاہتے۔ اصل جھگڑا پالیسی کا تھا، مسائل کا اختلاف نہیں تھا، لیکن ہمارا مزاج ہے کہ جب ہم نے جھگڑا کھڑا کرنا ہو تو اس کے لیے مسائل پیدا کر لیتے ہیں کہ اس نے یہ لکھا ہے، یہ لکھا ہے، ہم اعتراض کی باتیں تلاش کرتے ہیں۔ ہمیں کوئی مسئلہ اختلاف کا اس وقت تک سمجھ نہیں آتا، جب تک ہم اس کو کفر اسلام کا بنا نہ لیں۔ اس کے علاوہ ہمیں اختلاف کی کوئی چیز سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ بھی کوئی اختلاف ہے۔ محض تعبیرات کا جھگڑا تھا، البتہ پروفیسر سرور مرحوم اور علامہ موسیٰ جار اللہ جو کہ مولانا سندھی کے شاگرد تھے، کمیونزم سے متاثر ہو گئے تھے اور اس لہجے میں بات کرتے تھے۔ حضرت مولانا سعید احمد رائے پوری ایک بار یہاں تشریف لائے تھے، میں نے ان سے کہا کہ میرا آپ سے عقائد کا جھگڑا نہیں ہے، میرا آپ سے اختلاف یہ ہے کہ میں مولانا سندھی کو مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور مولانا احمد علی کے ذریعہ پڑھتا ہوں، آپ مولانا سندھی کو پروفیسر سرور مرحوم کے ذریعے پڑھتے ہیں، بس اتنا ہی اختلاف ہے۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ عم محترم حضر ت صوفی عبدالحمید صاحب حضرت سندھی کے براہ راست شاگرد نہیں تھے لیکن ان کی زیارت اور ملاقات کی ہے۔ ہمارے شیخ حضرت مولانا عبید اللہ انور براہ راست شاگرد تھے۔ حضرت قاری محمد طیب صاحب کہتے ہیں کہ مجھے حجة اللہ البالغہ اور مولانا قاسم ناناتوی کی کتابیں مولانا سندھی سے سبقاً سبقاً پڑھنا پڑی ہیں تب سمجھ آئی ہیں۔ مولانا سندھی کے براہ راست شاگردوں میں میرے علم میں آخری بزرگ مولانا غلام مصطفی قاسمی تھے۔

