کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا اصل پیمانہ بلند و بانگ دعوے، اخباری اشتہارات یا افتتاحی تقریبات نہیں ہوتیں بلکہ وہ سہولتیں ہوتی ہیں جو عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا کریں۔ اگر ایک مزدور کو سستی اور باوقار سفری سہولت مل جائے، کسی بزرگ کو سرکاری دفتر کے چکر لگانے کے بجائے گھر بیٹھے اپنی دستاویز یا سرکاری خدمت میسر آ جائے، کسی مریض کو بروقت علاج مل جائے اور کسی بچے کو معیاری تعلیم اپنے ہی شہر میں دستیاب ہو تو یہی حقیقی عوامی خدمت ہے۔ اس اعتبار سے حکومتِ پنجاب کے حالیہ اقدامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
پنجاب اس وقت ترقی، ڈیجیٹل گورننس اور جدید ٹیکنالوجی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے صحت، تعلیم، سفری سہولت، ڈیجیٹل خدمات اور عوامی بہبود کے مختلف منصوبے اس امر کی علامت ہیں کہ حکمرانی کے روایتی انداز سے آگے بڑھ کر بہت کچھ نیا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خصوصاً الیکٹرک بسوں کا منصوبہ قابلِ تحسین ہے۔ جدید، آرام دہ اور ماحول دوست سفری سہولت اگر کم آمدنی والے شہریوں کو نسبتاً کم خرچ میں میسر آئے تو یہ محض ٹرانسپورٹ کا منصوبہ نہیں رہتا بلکہ شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اسی طرح ”مریم کی دستک” اور دیگر ڈیجیٹل سرکاری خدمات نے بھی ایک ایسے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے جس نے برسوں سے عام شہری کو پریشان کر رکھا تھا۔ سرکاری دفتر میں ایک معمولی کام کے لیے کئی مرتبہ جانا، مختلف کاؤنٹرز پر کھڑے ہونا، سفارش تلاش کرنا اور وقت و پیسہ ضائع کرنا ہمارے انتظامی نظام کی ایک بڑی کمزوری رہی ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری خدمات شہری کی دہلیز تک پہنچ رہی ہیں تو اسے گورننس کی مثبت تبدیلی قرار دینا چاہیے۔
صحت کے میدان میں بھی بعض اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ لاہور میں جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام اور مختلف اضلاع میں کیتھ لیبز کا فعال ہونا امید افزا اقدامات ہیں۔ دل کے مریض کے لیے ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے۔ ایسے میں جدید تشخیصی اور علاج کی سہولتیں جتنی زیادہ لوگوں کے قریب ہوں گی، اتنی ہی زیادہ زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔ حکومت پنجاب نے اس جانب پیش رفت کر کے عوام دوست ہونے کا سنجیدگی کا ثبوت دیا ہے۔ دانش اسکولز کے بعد نواز شریف ایمیننس اسکولز غریب اور متوسط خاندان کے بچوں کے لیے جدید اور معیاری تعلیم کا حصول بہت آسان بنانے کی جانب عملی قدم اٹھا دیا گیا ہے۔
تاہم یہاں ایک بنیادی سوال حکومت کی توجہ کا مستحق ہے۔ کیا پنجاب کے ہر شہری کو جدید صحت اور معیاری تعلیم کی سہولت اس کے اپنے ضلع میں دستیاب ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو اگلا مرحلہ یہی ہونا چاہیے کہ ہر ضلع میں اس کا دائرہ کار پھیلانے کے لیے عملی کام کیا جائے۔ آج ہمارے معاشرے میں غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ، ورزش سے دوری اور بدلتے ہوئے طرزِ زندگی کے باعث شوگر، بلڈ پریشر، دل، گردوں، جگر اور معدے کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں سے کئی بیماریاں طویل اور مسلسل علاج کا تقاضا کرتی ہیں۔ بوڑھے افراد کی اکثریت دل، گردوں، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے امراض میں مبتلا رہتی ہے۔ بدقسمتی سے پیچیدہ امراض کے علاج کی اعلیٰ سطح کی سہولتیں اب بھی بڑے شہروں، بالخصوص لاہور میں زیادہ مرکوز ہیں۔ نتیجے کے طور پر جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب اور دور دراز اضلاع سے مریض لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ غریب خاندان کے لیے مریض کو سینکڑوں کلومیٹر دور لے جانا، بار بار سفر کرنا، رہائش اور خوراک کے اخراجات برداشت کرنا ایک الگ آزمائش ہے۔ بعض اوقات بیماری کی شدت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ لاہور پہنچنے سے پہلے ہی حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔
لہٰذا حکومتِ پنجاب کے قابلِ تحسین اقدامات کے ساتھ ایک اہم مطالبہ بھی پیش کیا جانا چاہیے: صحت اور تعلیم کی جدید سہولتوں کو لاہور تک محدود رکھنے کے بجائے ہر ضلع کے ہیڈکوارٹر تک پہنچایا جائے۔
ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں کم از کم دل، گردوں، جگر اور معدے کے امراض کے لیے مضبوط تخصصی شعبے قائم کیے جائیں۔ جدید تشخیصی آلات، کیتھ لیبز، ڈائیلاسز مراکز، ماہر ڈاکٹرز، معیاری ادویات اور ایمرجنسی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ جہاں مکمل اور مخصوص ہسپتال فوری طور پر ممکن نہ ہوں وہاں مرحلہ وار جدید میڈیکل یونٹس قائم کیے جائیں اور انہیں بڑے تدریسی ہسپتالوں سے منسلک کیا جائے۔ یہ پالیسی صرف مریضوں کو سہولت نہیں دے گی بلکہ لاہور کے بڑے ہسپتالوں پر غیر معمولی دباؤ بھی کم کرے گی۔ بڑے شہر بھی اسی وقت بہتر خدمات فراہم کر سکتے ہیں جب ہر معمولی اور درمیانے درجے کے مریض کو دارالحکومت یا صوبائی دارالحکومت کا رخ نہ کرنا پڑے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی یہی اصول اپنانا ہوگا۔ جدید اسکول، بہتر عمارتیں، سائنس و کمپیوٹر لیبارٹریاں، تربیت یافتہ اساتذہ، فنی تعلیم اور ڈیجیٹل لرننگ کی سہولتیں ضلعی سطح پر یکساں معیار کے ساتھ فراہم کی جائیں۔ جنوبی پنجاب اور پسماندہ اضلاع کو خصوصی ترجیح دی جائے تاکہ بچے صرف اس وجہ سے معیاری تعلیم سے محروم نہ رہیں کہ وہ بڑے شہر میں پیدا نہیں ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کی ترقی کا سفر صرف لاہور کی ترقی سے مکمل نہیں ہوگا۔ لاہور مضبوط ہو، لیکن گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفرگڑھ، میانوالی، بھکر، چولستان اور دیگر اضلاع بھی صحت، تعلیم، روزگار اور ٹیکنالوجی کی سہولتوں سے مضبوط ہوں، تب ہی ایک متوازن پنجاب وجود میں آئے گا۔
حکومتِ پنجاب کا جدید اور ٹیکنالوجی سے لیس صوبے کا وژن بلاشبہ قابلِ تحسین ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وژن کو لاہور کی حدود سے نکال کر ہر تحصیل، ہر ضلع اور ہر محروم بستی تک پہنچایا جائے۔ حکومت اگر بجلی کی بسیں سڑکوں پر اور ڈیجیٹل خدمات شہریوں کی دہلیز پر پہنچا سکتی ہے تو صحت اور تعلیم کی اعلیٰ سہولتیں بھی عوام کے قریب لائی جا سکتی ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت کی کامیابی کا سب سے معتبر سرٹیفکیٹ عوام ہی دیتے ہیں۔ جب ایک غریب مریض کو اپنے ضلع میں بروقت علاج ملے گا، جب ایک بچہ اپنے شہر میں معیاری تعلیم حاصل کرے گا اور جب شہری کو سرکاری دفتر کے بجائے اپنی دہلیز پر ریاستی خدمت میسر آئے گی تو یہی وہ لمحہ ہوگا جب ترقی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کی عملی زندگی کا حصہ بن چکی ہوگی۔ پنجاب کو واقعی ایک جدید، خوشحال اور عوام دوست صوبہ بنانے کی سمت میں سب سے بڑا قدم یہی ہوگا۔

