… اور اب تعدد ازواج کو روکنے کا قانون!

دوسری قسط:
چنانچہ منصف مزاج غیر مسلم دانشوروں نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے، علم تمدن کے معروف عالم ڈاکٹر گستاولی بان لکھتے ہیں : مغرب میں بھی… ایک ہی شادی کی رسم کا وجود صرف کتابوں ہی میں ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ کوئی شخص انکار نہ کرے گا کہ یہ رسم ہماری واقعی معاشرت میں نہیں پائی جاتی ہے، میں نہیں جانتا کہ مشرقیوں کا جائز تعدد کسی امر میں مغربیوں کی ناجائز تعدد ازدواج سے کمتر سمجھا جاتا ہے؟ بلکہ میں یہ کہوں گا کہ اول کو ہر طرح دوسرے پر ترجیح ہے۔ (تمدن عرب)

جناب مالک رام باویجا حقیقت پسند اصحابِ دانش میں تھے، ان کا یہ اقتباس پڑھنے کے لائق ہے :
تعدد ِازدواج کی تائید میں متعددد لائل پیش کیے جاسکتے ہیں، مثلاً یہ کہ عام حالت میں دنیا میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے، اگر ایک مرد، ایک عورت کے اصول پر عمل کیا جائے تو ان زائد عورتوں کا کیا بنے گا؟ کیا ہم ان پر نکاح کا راستہ بند کر کے ان کی اور ان کے ساتھ شادی شدہ مردوں کی بھی گمراہی کا سامان تو پیدا نہیں کر رہے ہیں… اگر آپ ان عورتوں کو نکاح کرنے کا موقع نہیں دیتے تو گویا انھیں قعر مذلت میں دھکیل رہے ہیں اور انھیںمجبور کر رہے ہیں کہ وہ گناہ کی زندگی بسر کریں کیوں کہ یہ جذبہ فطری ہے، اگر عورت سماج کی اجازت سے اس کی تسکین نہیں کرسکے گی توسماج کو دھتا بتائے گی اور گھونگھٹ کی اوٹ میں شکار کھیلے گی، اس صورت میں آپ کو کسی اور حرام اولاد کا وجود قانوناً تسلیم کرنا پڑے گا، حق انتخاب آپ کو حاصل ہے، ایک طرف آپ اس عورت کو قابل عزت بیوی اور گھر کی مالکہ اور محترم ماں بنانے پر قادر ہیں، دوسری صورت میں وہ قابل نفرت داشتہ یا کسی خانماں برباد اور اپنے اور تمام سماج کیلئے کلنک کا ٹیکابننے پر مجبور ہے۔

پس حقیقت یہ ہے کہ تعدد ازدواج کی گنجائش ایک عفیف و پاک د امن سماج کیلئے ضرورت کے درجہ میں ہے اور یہ کوئی نظری فلسفہ نہیں ؛ بلکہ مغرب کا عصمت باختہ سماج اس کی عملی مثال ہے۔
تعددِ ازدواج میں ایک پہلو عورت کے ساتھ رحمدلی کا بھی ہے، اگر ایک عورت دائم المرض ہو اور کسی مناسب یا نامناسب وجہ سے مرد دوسرے نکاح پر مصر ہو تو اگر تعدد ازدواج کی گنجائش نہ رکھی جائے تو یا تو وہ اسے طلاق دے دے گا، جس کا مذموم ہونا ظاہر ہے یا وہ غیرقانونی تعدد ازدواج کا راستہ اختیار کرے گا اور غیر قانونی بیوی قانونی بیوی سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے ؛ کیوں کہ وہ مرد کو زیادہ بلیک میل کر سکتی ہے اور اپنے خنجر ناز سے قانونی بیوی کو گھائل کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسی صورتوں میں تعدد ازدواج رحمت ثابت ہوتی ہے نہ کہ زحمت، مطلقہ اور بیوہ خواتین کے مسائل کا حل اکثر یہی تعدد ازدواج بنتا ہے اور یہ تعدد ازدواج بھی دوسری بیوی کی رضامندی اور خوشنودی ہی سے وجود میںآتا ہے؛ کیوں کہ کسی عورت کو دوسری بیوی بننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

خود عورتوں کو بھی اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ جب عورتوں کی شرح آبادی مجموعی طور پر مردوں سے زیادہ ہے تو وہ بحیثیت عورت اپنی ان بہنوں کیلئے قانونی طور پر رشتہ نکاح میں منسلک ہونا پسند کریں گی یا یہ بات کہ وہ وقتاً فوقتاً مختلف مردوں کی غیر قانونی بیوی بنتی رہیں؟ اوران حقوق و فوائد سے بھی محروم رہیں جو ایک بیوی کو اپنے شوہر سے حاصل ہونے چاہئیں؟

تعددِ ازدواج کے مسئلہ میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے والوں کا رویہ بھی قابل توجہ ہے کہ ایک طرف وہ قرآن مجید کی اجازت سے فائدہ اُٹھاکر دوسرا نکاح کرتے ہیں اور دوسری طرف قرآن ہی کی لگائی ہوئی عدل و انصاف کی شرط کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ تعدد ازدواج ایک سنجیدہ فیصلہ ہے نہ کہ پہلی بیوی سے انتقام کا طریقہ، عوام تو عوام، خواص اور اہل علم بھی جب دوسرا نکاح کرتے ہیں تو کھلے ہوئے ظلم و جور سے اپنا دامن آلودہ کر لیتے ہیں اور زیادہ تر پہلی بیوی کو اور بعض واقعات میں دوسری بیوی کو ”معلقہ” بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ صریحاً ظلم اور گناہ ِ عظیم ہے اور اللہ کی شریعت سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے، جو شخص عدل پر قادر نہ ہو (جیسا کہ مذکور ہو) اس کیلئے ایک ہی بیوی پر قناعت کرنا واجب ہے، ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا درست نہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ”اگر تمہیں اندیشہ ہوکہ ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان عدل نہیں کر سکوگے تو تمہیں ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہیے۔”

اس لیے حقیقت یہ ہے کہ تعدد ازدواج کی اجازت ایک سماجی وعمرانی ضرورت اورعفت وپاک دامنی کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور اپنے نتائج واثرات کے اعتبار سے خود عورتوں کیلئے بعض حالات میں باعثِ رحمت ہے، البتہ یہ بات ضروری ہے کہ تعدد ازدواج کیلئے شریعت نے جو حدود وقیود مقرر کی ہیں، ان کا لحاظ رکھا جائے ورنہ یہ قانون حکمِ شریعت کا استعمال نہیں بلکہ ”استحصال” ہوگا۔