رواداری فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں بے تعصبی، برداشت، تحمل اور دوسروں کے نقطہ نظر کی رعایت رکھنا۔ اس کے مترادف الفاظ میں فراخ دلی، وسیع القلبی، بردباری اور تحمل شامل ہیں۔ کسی بھی موضوع پر اپنے نظریات اور عقائد پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے نظریات کو برداشت کرنا رواداری کہلاتا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنے نظریات اور عقائد کو قربان کر کے دوسروں کے نظریات کو قبول کرے تو یہ رواداری نہیں بلکہ بزدلی اور فکری کمزوری کہلائے گی۔
رواداری کو اس مثال سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اپنا مذہب چھوڑ دے یا دوسروں کے مذہب پر عمل شروع کر دے۔ اسی طرح کسی معاشرے میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق دینا رواداری ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اکثریت اپنے مذہبی تشخص سے دستبردار ہو جائے یا اقلیتوں کے مذہبی اعمال کو اختیار کر لے۔
حقیقی رواداری یہ ہے کہ انسان جس بات کو حق سمجھتا ہے اس پر خود قائم رہے، اپنے عقیدے کا صاف اور واضح اظہار کرے، دوسروں کو اس کی دعوت دے، مگر اس کے ساتھ ساتھ کسی کی دل آزاری نہ کرے، بدکلامی سے بچے، دوسروں کے عقائد پر حملہ نہ کرے، کسی کی عبادات میں رکاوٹ نہ ڈالے اور کسی کو زبردستی اپنے مسلک یا عقیدے پر لانے کی کوشش نہ کرے۔ہمارے معاشرے میں رواداری کے نام پر بعض لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ تمام مذاہب برحق ہیں۔ یہ دعویٰ نہ عقل کے معیار پر درست ہے اور نہ شریعت کے پیمانے پر۔ تمام مذاہب کو بیک وقت حق قرار دینا ایک ایسی بات ہے جسے عقل بھی تسلیم نہیں کرتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کے وجود کا اقرار کرے اور وہ بھی درست ہو اور جو خدا کا انکار کرے وہ بھی درست ہو؟ ایک شخص توحید کا علمبردار ہو اور دوسرا شرک میں مبتلا ہو اور دونوں کو برابر حق کہا جائے؟ ایسا ممکن نہیں۔ اسی حقیقت کی طرف علامہ محمد اقبال نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ حقیقی رواداری عقل اور روحانی وسعت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ رواداری اسی شخص کے اندر پیدا ہوتی ہے جو روحانی طور پر مضبوط ہو، جو اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دوسروں کو جینے کا حق دے اور ان کی عزت کر سکے۔ ایک سچا مسلمان ہی اس درجے کی رواداری کا اہل ہوتا ہے۔رواداری کی تلقین کرنے والے بعض لوگ اس شخص پر عدم رواداری کا الزام لگا دیتے ہیں جو اپنے مذہب کی حدود کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ اس طرزِ عمل کو اخلاقی کمزوری سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں دین کی بقا اور اس کی اقدار کی حفاظت پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی بات مسئلہ ختمِ نبوت اور قادیانیت جیسے نازک موضوعات میں بخوبی سمجھی جا سکتی ہے۔
رواداری کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ معاشرے میں جرائم کے لیے نرمی برتی جائے یا قانون کو معطل کر دیا جائے۔ جرائم کے معاملے میں رواداری نہیں بلکہ عدل و انصاف کا تقاضا پورا کرنا ضروری ہے۔ اتحاد اور اتفاق کے نام پر حق بات کہنا چھوڑ دینا بھی درست نہیں، ورنہ قرآنِ مجید میں جس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے، اس پر عمل کیسے ہو گا؟اسی نکتے کی وضاحت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے یوں فرمائی ہے: ”خوب سمجھ لو کہ اتفاق اسی وقت مطلوب اور محمود ہے جب وہ دین کے لیے مفید ہو، اور نااتفاقی اسی وقت مذموم ہے جب وہ دین کے لیے مضر ہو۔ اگر اتفاق دین کے لیے نقصان دہ ہو اور نااتفاقی دین کے لیے مفید ہو تو اس وقت نااتفاقی ہی مطلوب ہوگی۔” (حوالہ: اشرف الجواب، ص 463)
اسلام نے دیگر مذاہب کے ساتھ تعلقات میں بھی یہی متوازن رویہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ مجید کا واضح حکم ہے:یعنی دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو زبردستی مسلمان کرنا جائز نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کسی ملک کے قوانین کو معطل کر دیا جائے یا جرم و سزا کے نظام کو ختم کر دیا جائے۔
اسلامی رواداری کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد کے حالات کا مطالعہ ضروری ہے۔ مدینہ میں یہودی موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ معاہدے کیے اور شہر کی اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے باہمی تعاون طے کیا، لیکن جب انہوں نے معاہدات کی خلاف ورزی کی، کفارِ مکہ سے خفیہ سازشیں کیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تو اسلام نے ان کی ان حرکات پر سخت موقف اختیار کیا، مگر اس کے باوجود دین کے کسی اصول پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی یہی حکیمانہ طرزِ عمل اپنایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نجران کے عیسائیوں سے معاہدہ کیا، جس میں ان کی جان، مال، عقائد اور عبادت گاہوں کی حفاظت کی ضمانت دی گئی اور یہ ضمانت صرف موجود لوگوں تک محدود نہیں تھی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی تھی۔ اسی طرح بیت المقدس کی فتح کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں کے باشندوں کے ساتھ تاریخی معاہدہ کیا، جو اسلامی رواداری کی روشن مثال ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ بھی قابلِ غور ہے جب انہوں نے ایک عیسائی عبادت گاہ میں نماز پڑھنے سے اس خدشے کے تحت انکار کر دیا کہ کہیں آئندہ مسلمان اسے گرجے پر قبضے کا جواز نہ بنا لیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی رواداری حکمت اور بصیرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، محض جذباتی نعرہ نہیں۔اسلام غیر مسلم والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، صلہ رحمی اور ادب کا حکم دیتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ کفر و شرک پر ہوں تب بھی ان کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت نہیں۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے کہ والدین خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، ان کا نفقہ اولاد پر واجب ہے۔یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام رواداری کا دین ہے، مگر ایسی رواداری جو حق کے دائرے میں ہو۔ جہاں رواداری اور اسلامی ہدایات میں تصادم پیدا ہو جائے، وہاں دین کی حفاظت کو ترجیح دینا ہی حقیقی دانائی ہے۔

