تین مسلم طاقتیں، ایک دفاعی عزم

عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، بلکہ مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی چھوٹی، بڑی اورکمزور، طاقتور ریاستیں اپنے قومی، معاشی اور دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف اتحادوں اور بلاکس کا حصہ بنتی ہیں۔ شمالی اوقیانوس کے ممالک کا دفاعی اتحاد نیٹو ہو، یورپی یونین کی سیاسی و معاشی شراکت داری ہو یا ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں قائم ہونے والے مختلف علاقائی تعاون کے فورمز، ہر جگہ ریاستیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتی نظر آتی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کے تحت ایک دوسرے کی سلامتی کے ضامن بننے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اسے غیر معمولی نہیں بلکہ ایک فطرتی سفارتی اور دفاعی پیش رفت سمجھا جانا چاہیے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ بین الاقوامی تعلقات میں اسے اجتماعی دفاع کا اصول کہا جاتا ہے۔ یہی تصور نیٹو سمیت دنیا کے کئی دفاعی اتحادوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس اصول کا بنیادی مقصد جنگ کو روکنا، جارحیت کی حوصلہ شکنی کرنا اور ممکنہ دشمن کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ کسی ایک ملک کو تنہا سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنی اپنی حیثیت میں مسلم دنیا کے اہم ستون ہیں۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ایک بڑی فوجی صلاحیت رکھتا ہے۔ ترکی جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت کے باعث عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا چکا ہے۔ سعودی عرب نہ صرف عالمِ اسلام کے مقدس ترین مقامات کا امین ہے بلکہ خطے کی ایک بڑی معاشی طاقت بھی ہے۔ اگر یہ تینوں ممالک دفاعی، سفارتی اور تزویراتی تعاون کو ایک منظم شکل دینے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس معاہدے کے اعلان کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ایران کے چند سیاسی اور پارلیمانی رہنماؤں نے اسے زیادہ مؤثر قرار نہیں دیا اور بعض نے اسے محض علامتی یا کاغذی معاہدہ کہا۔ یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر دنیا کی دیگر ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دفاعی اتحاد قائم کر سکتی ہیں تو مسلم ممالک کو ایسا کرنے پر تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جائے؟ اگر اس معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ رکن ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے تو اسے منفی زاویے سے دیکھنے کی بجائے مثبت امکانات کے تناظر میں جانچنا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا اس وقت شدید انتشار، باہمی اختلافات اور بیرونی دباؤ کا شکار ہے۔ فلسطین سے لے کر کشمیر تک اور شام سے لے کر یمن تک کئی تنازعات ایسے ہیں جنہوں نے امتِ مسلمہ کی اجتماعی کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔ ایسے میں اگر چند اہم مسلم ریاستیں دفاعی اور تزویراتی تعاون بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں تو اسے تقسیم کی بجائے اتحاد کی سمت ایک قدم سمجھا جانا چاہیے۔ میری رائے میں ایران کو اس دفاعی معاہدے کو اپنے خلاف کسی محاذ یا اتحاد کے طور پر دیکھنے کی بجائے مثبت انداز میں لینا چاہیے اور اس میں شمولیت پر غور کرنا چاہیے۔ اگر مسلم دنیا کی بڑی اور بااثر ریاستیں ایک مشترکہ دفاعی پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جائیں تو یہ بیرونی طاقتوں کے لیے ایک مضبوط اور واضح پیغام ہوگا کہ مسلمان ممالک اپنے اجتماعی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ماضی میں ترکیہ اور سعودی عرب کے تعلقات کئی بار شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہے، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات بھی پیدا ہوئے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک کا حصہ بننے کا راستہ اختیار کیا۔ یہی طرزِ فکر ایران سمیت دیگر مسلم ممالک کو بھی اپنانا چاہیے تاکہ اختلافات کی بجائے اتحاد، تعاون اور مشترکہ مفادات کو فروغ مل سکے۔

پاکستان کے اندر بھی اس معاہدے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ حلقے اسے تاریخی پیشرفت قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض لوگ اس کے ممکنہ اثرات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات کو محض سیاسی تعصبات کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر کوئی معاہدہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، سفارتی حیثیت اور علاقائی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے تو اس کا جائزہ قومی مفاد کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ مستقبل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ تعاون صرف دفاعی شعبے تک محدود نہ رہے بلکہ معیشت، تجارت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور توانائی کے میدانوں تک بھی پھیلایا جائے۔ اگر مسلم ممالک صرف فوجی تعاون پر اکتفا کریں گے تو فوائد محدود رہیں گے، لیکن اگر وہ مشترکہ منڈیوں، سائنسی تحقیق، دفاعی پیداوار اور اقتصادی انضمام کی طرف بڑھیں تو ایک مضبوط اور خودمختار بلاک کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔