اسلام کا شورائی نظام

دنیا میں مختلف سیاسی اور سماجی نظام آزمائے جا چکے ہیں۔ انسانیت ان تمام نظاموں کے تجربات سے گزر کر آج ایک شدید فکری بحران کا شکار ہے۔ جمہوری نظام نے یورپ اور مغرب میں ایسے ایسے قوانین متعارف کروائے ہیں جن پر خود انسانیت ماتم کناں ہے۔ کمیونزم اور سوشلزم کے علمبردار بھی آج اپنے ہی نظاموں سے علانیہ بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام نے دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ کر انسان کو معاشی غلامی میں دھکیل دیا ہے۔

ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر اسلام کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ اسلام صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات ہے، جو قیادت کے انتخاب، اقتدار کے استعمال اور اجتماعی فیصلوں کے لیے ایک متوازن اور عادلانہ اصول پیش کرتا ہے۔ اسلام قیادت اور حکمرانی کے لیے جس نظام کو پیش کرتا ہے وہ شورائی نظام ہے۔ جب پوری دنیا متبادل نظامِ حکومت کی تلاش میں سرگرداں ہے تو یہ وقت کا تقاضا ہے کہ اسلام کے شورائی نظام کو واضح انداز میں پیش کیا جائے۔

”شوریٰ” عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں: مشورہ کرنا، رائے لینا اور اجتماعی غور و فکر کے ذریعے فیصلہ کرنا۔ شوریٰ اسلامی حکومت کی اساس اور بنیاد ہے۔ اسلامی نظامِ حکومت میں شوریٰ کے قیام کے بعد تمام اہم فیصلے باہمی مشورے اور اتفاقِ رائے سے کیے جاتے ہیں۔ شوریٰ دراصل رائے عامہ کے اظہار کا منظم طریقہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اہلِ رائے افراد کی آرا معلوم کی جائیں اور اجتماعی عقل کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔ یہی اصول آج کے دور میں پارلیمانی نظام میں بھی کسی حد تک اختیار کیا جاتا ہے، اگرچہ اس میں شوریٰ کی روح اور اخلاقی بنیاد مفقود ہے۔

قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر مشورے کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ خاندانی معاملات جیسے بچے کو دودھ پلانے کی مدت کے تعین میں بھی مشورے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں فرماتے ہیں:

”اور اگر ماں باپ باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں، اور اگر تم اپنی اولاد کو کسی اور عورت سے دودھ پلوانا چاہو تو بھی کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ معروف طریقے سے اس کا معاوضہ ادا کرو۔”

جب ایک گھریلو مسئلے میں بھی مشورے کی تاکید کی گئی ہے تو ریاستی، سیاسی اور اجتماعی امور میں اس کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیاتِ مبارکہ شورائی عمل کی عملی تفسیر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے نزول کے باوجود صحابہ کرام سے مسلسل مشورہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”مشورہ کرنے والا کبھی شرمندہ نہیں ہوتا، اور استخارہ کرنے والا ناکام نہیں ہوتا۔”

٭ جنگِ بدر کے موقع پر حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کے مشورے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔ ٭ جنگِ خندق میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی آرا کو تسلیم کیا گیا۔ ٭ جنگِ احد میں مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ صحابہ کے مشورے سے ہوا۔ ٭ بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی مشاورت کی گئی۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ام المؤمنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے مشورے پر عمل فرمایا گیا۔

یہ تمام واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ شوریٰ محض ایک نظری اصول نہیں بلکہ عملی نظام ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طرزِ حکومت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خواتین سے بھی مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ ایک شوریٰ قائم کر رکھی تھی، جس میں قرآن و حدیث کے ماہر صحابہ کرام شامل تھے، جو اہم امور میں مشورہ دیتے تھے۔

حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں: ”میں نے کسی شخص کو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سرگرم نہیں دیکھا۔” (فتح الباری)
علامہ راغب اصفہانی فرماتے ہیں کہ شوریٰ کا مقصد مختلف آرا کو اکٹھا کرنا اور صحیح رائے تک پہنچنا ہے۔
علامہ شوکانی لکھتے ہیں: ”مسلمان اجتماعی نظم میں شوریٰ کے ساتھ کام کرتے ہیں، جلد بازی اور مطلق العنان انفرادی رائے ان کے مزاج میں شامل نہیں۔” (فتح القدیر)
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب شوریٰ کا حکم نازل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اللہ اور اس کا رسول مشورے سے بے نیاز ہیں، لیکن یہ حکم اس لیے دیا گیا تاکہ امت کے لیے رحمت بن جائے۔” (روح المعانی)

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کن امور میں مشورہ کیا جائے، تو ہر اس مسئلے میں شوریٰ کی جا سکتی ہے جس کے بارے میں کوئی صریح شرعی نص موجود نہ ہو۔ جن معاملات میں قرآن و سنت کا واضح حکم موجود ہو، وہاں شوریٰ کا مقصد حکم کو نافذ کرنے کی صورت طے کرنا ہوتا ہے، نہ کہ حکم کو بدلنا۔ شوریٰ کے ارکان ایسے افراد ہونے چاہئیں جو صاحبِ رائے ہوں، معاملات کو سمجھنے والے ہوں، دیانت دار، متقی، باکردار اور باصلاحیت ہوں۔ محض اکثریت یا عوامی شور کو شوریٰ کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آ جائے جس کے بارے میں نہ قرآن میں حکم ہو اور نہ حدیث میں رہنمائی ملتی ہو تو کیا کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری امت کے اہلِ رائے کو جمع کرو، باہمی مشورہ کرو اور کسی ایک فرد کی رائے پر فیصلہ نہ کرو۔”

اسلام کا شورائی نظام نہ آمریت ہے اور نہ مغربی جمہوریت۔ یہ ایک ایسا متوازن نظام ہے جو عدل، حکمت، دیانت اور اجتماعی عقل پر قائم ہے۔ اگر آج امتِ مسلمہ اپنے معاملات کو شوریٰ کے اصول پر طے کرنا شروع کر دے تو بہت سے سیاسی، سماجی اور فکری بحران خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ذاتی، اجتماعی اور ریاستی امور کو شریعت اور شوریٰ کے اصولوں کے مطابق طے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔