مسائل تشدد سے حل نہیں ہوتے!

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں مصالحتی کمیشن بنانے کی تجویز پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جواب دیتے ہوئے تجاویز دی ہیں۔ ایکس پر بلاول بھٹو نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ایکشن کمیٹی نے کچھ تجاویز ارسال کی ہیں۔ پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہر قیمتی جان کا ضیاع ایک قومی سانحہ ہے، اس وقت میری اولین ترجیح یہ ہے کہ موجودہ بحران کے خاتمے میں مدد کی جائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسی کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر میں جلد از جلد معمولاتِ زندگی بحال کروانا بھی میری ترجیح ہے۔

آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کیلئے جاری احتجاجی تحریک اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہوتا ہے، لیکن اس حق کے استعمال کا طریقہ ہی کسی تحریک کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتا ہے۔ آزاد کشمیر کی صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب بنیادی مطالبات عوامی سہولتوں اور ترقیاتی ضروریات سے متعلق ہیں تو پھر تصادم، بدامنی اور قیمتی جانوں کے ضیاع تک نوبت کیوں پہنچی؟کالعدم کمیٹی کی جانب سے پیش کیا گیا چارٹر آف ڈیمانڈ دیکھا جائے تو اس میں زیادہ تر مطالبات عوامی ضرورتوں سے متعلق ہیں۔ ان میں سڑکوں کی تعمیر، پلوں کی تعمیر، سفری سہولیات میں بہتری اور دیگر بنیادی مسائل کا حل شامل ہے۔ ایسے مطالبات سے اختلاف کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی، کیونکہ ترقیاتی سہولتیں فراہم کرنا بہرحال ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت بھی ان میں سے کئی مطالبات کو تسلیم کرچکی ہے اور باقی معاملات پر بھی بات چیت کے ذریعے پیشرفت کی گنجائش موجود ہے۔ اس تحریک کا آغاز بجلی اور آٹے کی قیمتوں کے مسئلے سے ہوا تھا اور ریاست نے آزاد کشمیر کے عوام کو ان دونوں شعبوں میں ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں نمایاں سہولتیں فراہم کی ہیں، تاہم موجودہ تنازع میں کئی ایسے مطالبات شامل ہوگئے ہیں جو فوری فیصلوں کی بجائے وقت، منصوبہ بندی اور انتظامی مراحل کے متقاضی ہیں۔

یہ امر واضح ہے کہ اصل مسئلہ مطالبات سے زیادہ مطالبات منوانے کے طریقہ کار کا بن چکا ہے۔ تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ عوامی مسائل حل ہونے چاہئیں، مگر بدقسمتی سے ایکشن کمیٹی کی ٹکراؤ کی سیاست، سخت رویوں، تشدد اور ہٹ دھرمی نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ، چاہے وہ سڑک ہو، پل ہو یا ایئرپورٹ، ایک مکمل طریقہ کار کے تحت پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ منصوبہ بندی، منظوری، بجٹ، ٹینڈر اور عملی اقدامات تک ”ہزاروں” مرحلے ہیں ”صبح” کے ہنگام سے پہلے۔ یہ ایسے معاملات نہیں کہ ایک حکم جاری ہوتے ہی اگلے دن مکمل ہو جائیں۔ دنیا کے ہر ملک اور ہر خطے میں عوامی مسائل موجود ہوتے ہیں۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی سڑکوں، روزگار، بجلی، پانی اور بنیادی سہولتوں کے بے نہایت مسائل ہیں لیکن ان مسائل کے حل کا راستہ پرامن سیاسی و تدریجی جدوجہد ہی رہا ہے۔ اگر ہر گروہ اور ہر علاقے کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے راستے بند کرنے، تصادم اور طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کریں تو ریاستی نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ اس پر مستزاد آزاد کشمیر کی علاقائی حساسیت بھی ہے۔ اس پر براہ راست دشمن کی نظریں ہیں جو ہمیشہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتی ہیں جہاں داخلی انتشار کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ ایسے حالات میں تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جذبات کی بجائے حکمت اور تدبر سے کام لیں اور ایسی صورتحال نہ بننے دیں جس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوجائیں اور ملک و قوم کا امن و استحکام انتشار اور فساد کی نذر ہوکر رہ جائے۔

بدقسمتی سے آزاد کشمیر کے اس عوامی احتجاج کی قیادت جس کمیٹی کے ہاتھ میں ہے، اس میں ایسے عناصر شامل ہوگئے ہیں، جن کے مقاصد عوامی مسائل کے حل سے ماورا ہیں۔ یہ وہ عناصر ہیں، جو عرصے سے اپنے اصل مقاصد اور عزائم دبائے بیٹھے تھے، اب عوام اپنے مسائل کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ان میں اپنے مطالبات کو لیکر کچھ سختی، مایوسی، بے چینی اور اضطراب درآیا ہے تو یہ لوگ اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے ان میں گھس گئے ہیں اور عملاً اب وہی کمیٹی اور تحریک کی قیادت کر رہے ہیں اور مسلسل ٹکراو اور تصادم کی راہ پر ہیں۔ جہاں تک عام عوام اور محب وطن لوگوں کی بات ہے تو ان سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت بہتر یہی ہے کہ وہ اس تحریک سے خود کو الگ کردیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ عوامی مسائل ایسے حل نہیں ہوتے۔ مسائل کیلئے زیادہ سے زیادہ ٹوکن احتجاج ہوتا ہے، مرنے مارنے پر اتر آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے، آگے کا کام ان کے منتخب نمائندوں اور حکومتوں کا ہے۔ اگر وہ مخلص ہیں تو یہی راستہ ہے اور اگر مقصد فساد اور انتشار ہے تو ظاہر ہے دنیا کی کوئی بھی ریاست اس کی اجازت دے سکتی ہے اور نہ اسے برداشت کرسکتی ہے۔

نئے صوبے ناگزیر انتظامی ضرورت ہیں

ملکی نظام کی ناکامی اور فرسودگی سے متعلق وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان کئی دنوں سے قومی سطح پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سیاسی ایوانوں سے لے کر عوامی چوپالوں تک ہر جگہ اس پر گفتگو جاری ہے۔ حکومتی جماعتوں کے رہنماؤں کو یہ بات ناگوار گزری ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک کا موجودہ انتظامی اور حکومتی نظام فیل ہو چکا ہے، اگر کوئی اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ دراصل زمینی حقائق سے نظریں چرا رہا ہے، چنانچہ بنیادی نوعیت کی اصلاحات از حد ضروری ہیں اور ان اصلاحات میں سب سے اہم معاملہ نئے صوبوں کا قیام ہے۔ تقسیم ہند کے وقت متحدہ پنجاب کے 29 اضلاع تھے، 16 اضلاع پاکستان کے حصے میں آئے جبکہ 13 اضلاع بھارت کے حصے میں گئے۔ بھارت نے وقت کے ساتھ انہی 13 اضلاع کو انتظامی ضرورت کے مطابق تین صوبوں میں تقسیم کیا، جبکہ یہاں نہ صرف ان سولہ اضلاع بلکہ ریاست بہاولپور کو بھی شامل کرکے پنجاب کو ایک ہی صوبہ رکھا گیا ہے، جو بڑی زیادتی ہے۔ یہی حال باقی صوبوں کا بھی ہے۔ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر عوامی مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے۔ جتنی جلد انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام کی سمت پیش رفت ہوگی، اتنا ہی ملک کے نظام کو مضبوط اور عوامی مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔