شگون

(حصہ دوم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ”، اِس کے معنی یہ ہیں کہ ماہِ صفر کو جو لوگ منحوس تصور کرتے ہیں اور اِس ماہ کی تیرہ تاریخ کو بعض لوگ تیرہ تیزی کہتے ہیں اور اِس مہینے میں شادی نہیں کرتے، شریعت کی رُوسے یہ سب باتیں بالکل بے اصل اور باطل ہیں۔ اعلیحضرت احمد رضا قادری سے سوال ہوا :” صفر کے آخری بدھ کے متعلق لوگوں میں مشہور ہے کہ اُس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحت یاب ہوئے تھے، لہٰذا وہ اِس خوشی میں شیرینی تقسیم کرتے ہیں، بعض لوگ اِس دن کو نَحس جان کر برتن توڑتے ہیں ”۔ آپ نے جواب دیا :”آخری بدھ کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور اس دن برتن توڑنا مال ضائع کرنا ہے اور گناہ کا سبب ہے۔ اُس دن آپ کی صحت یابی کا بھی کوئی ثبوت نہیں، بلکہ جس مرض میں آپ کا وصال ہوا، اُس کاآغاز صفر 11ھ کے آخری بدھ کے دن ہواتھا اور ایک روایت کے مطابق حضرت ایوب علیہ السلام کی ا بتلا بھی بدھ ہی کے دن شروع ہوئی تھی”۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ” ستارے کی کوئی اصل نہیں ”، یعنی نجومیوں کے یہ نظریات کہ ستاروں کی چالیں یااُن کا کسی خاص برج میں ہونا انسانوں کی تقدیر پر اَثر انداز ہوتا ہے، یہ سب باتیں شریعت کی نظر میں باطل ہیں، علامہ اقبال نے کہاہے :
ستارہ کیا مِری تقدیر کی خبردے گا
وہ خود فراخیٔ ِ افلاک میں ہے، خوار وزبوں

بدشگونی کے شرک ہونے کے بارے میں علامہ علی القاری لکھتے ہیں:”اگر کسی نے یہ اعتقاد کیا کہ نفع پہنچانے یا ضرر کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز مستقل مؤثر ہے تو یہ شرکِ جلی ہے، آپ نے اس کو شرک اس لیے فرمایاکہ وہ یہ اعتقاد کرتے تھے کہ جس چیز سے انہوں نے بدفالی لی ہے، وہ مصیبت پہنچانے میں ذاتی طور پرمؤثر ہے اور مؤثر بالذات مانے بغیر ان اسباب کا لحاظ کرنا شرکِ خفی ہے، خصوصاً جبکہ اس کے ساتھ جہالت اورضُعفِ اعتقاد بھی ہو، تو اس کا شرکِ خفی ہونا اور بھی واضح ہے، (مرقاة، ج: 9، ص:6)”۔ مُستقل مؤثر یا مؤثر بالذات ہونے کا معنی یہ ہے کہ جب وہ چیز ظاہر ہو تو نفع یا نقصان لازم ہو، جبکہ عام طور پر عالَمِ اسباب میں اسباب مؤثر بالذات نہیں ہوتے، جیسے دعا اور دوا وغیرہ، جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو مؤثر ہوجاتے ہیں اور اس کی مشیت نہ ہو تو مؤثر نہیں ہوتے۔

علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں: ”خلاصہ یہ ہے کہ تمام دن اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور کوئی دن (اپنی ذات میں)نامسعود اور نامبارک نہیں ہے، اسی طرح تمام انسان اور اشیاء اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں اور ان میں سے کوئی چیزاپنی ذات میں منحوس نہیں ہے۔ پس حادثات و آفات، بلائوں اور مصیبتوں کے نازل ہونے میں کسی چیز کا دخل نہیں ہے، ان تمام چیزوں کا تعلق اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر سے ہے، کسی دن یا کسی چیزکا کسی شر کے پیدا ہونے یا کسی آفت کے نازل ہونے میں کوئی دخل اور اثر نہیں ہے، ہرچیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور بس!اسی لیے کسی بھی جائز اور صحیح کام کو کسی دن اور کسی چیز کی خصوصیت کی وجہ سے ترک کرنا جائز نہیں ہے اور کوئی دن اپنی ذات میں نحس نہیں ہے، (شرح صحیح مسلم، ج:7، ص:613)”۔

بعض لوگ الحجر کی بستی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ٹھہرنے، وہاں کے پانی سے فائدہ نہ اٹھانے اور وادی مُحَسِّر میں تیزی سے گزرنے سے نحوست کے اثرانداز ہونے کا ستدلال کرتے ہیں، تواس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں ایسے مقامات میں سیر وسیاحت کے لیے نہ جانا چاہیے، نہ وہاں ٹھہرنا چاہیے، بلکہ ان سے عبرت پکڑنی چاہیے اور ان قوموں کے انجام کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان پر عذاب کا سبب بننے والے کرتوتوں سے باز رہنا چاہیے۔

ایک مومن ہر نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ کی ذات کو سمجھتا ہے، وہ ہر خیر اور ہر برائی اللہ کے اذن سے پہنچنے کا عقیدہ رکھتاہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”جس شخص کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے پہنچتی ہے، (التغابن: 11)”۔ حدیث پاک میں ہے:”جان لو! اگرسب لوگ اس بات پر متفق ہوجائیں کہ تمہیں کوئی نفع پہنچائیں تو بھی صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکیں گے، جتنا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے(لوح تقدیر میں) لکھ دیا ہے اور اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانے پر اتفاق کرلیںتو ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے (تقدیر میں) لکھ دیا ہے، قلم اٹھادیے گئے ہیں اورصحیفے خشک ہوچکے ہیں، (ترمذی:2516)”، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آدمی کا شگون اس کی گردن میں ہے، (مسند احمد:14765)”، یعنی جو تقدیر میں لکھا ہے وہی ہوکر رہتا ہے۔ اگرکوئی بدشگونی کا شکار ہوجائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا علاج بھی بتایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا وہ سمجھ لے کہ اس نے شرک کیا، صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کا کفارہ یہ ہے کہ) تم یوں کہو: ”اَللّٰہُمَّ لَا خَیْرَ ِلَّا خَیْرُکَ، وَلَا طَیْرَ ِلَّا طَیْرُکَ، وَلَا ِلٰہَ غَیْرُکَ”، ترجمہ: ”اے اللہ! تیری طرف سے ملنے والی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں اور تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، (مسند احمد:7045)”۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی بدشگو نی کو توکل سے دور کرنے کا حکم فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ”بدشگونی شرک ہے!اور ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس طرح کی کوئی بات نہ آتی ہو، مگر اللہ پر توکل سے یہ دور ہوجاتی ہے، (ابودائود:3910)”، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں میری امت کو لازم ہیں، بدشگونی، حسد اور بدگمانی، ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ جس شخص میں یہ خصلتیں ہوں وہ ان کا تدارک کس طرح کرے، آ پ نے فرمایا:جب تم حسد کرو تو استغفار کرو اور جب بدگمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو اور جب بد شگونی کروتو وہ کا م کر گزرو، (المعجم الکبیر للطبرانی:3227)”۔ بدشگونی سے بچنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بے حساب جنت میں داخل ہونے کی بشارت دی ہے، فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جو دم کراتے ہوں گے نہ بدشگونی کرتے ہوں گے اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہوں گے، (بخاری:6472)”۔

دم کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ دم کرنے سے لامحالہ قطعی طور پر یہ بیماری دور ہوجائے گی اور دم ہی کو شافی سمجھے یا دم کرنے والے کو ہی کارسازسمجھ لے یا جس دم میں شرکیہ الفاظ ہوں، یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور توکل کے خلاف ہے، اسلام سے پہلے جاہلیت میں لوگوں کی عادت تھی کہ وہ پرندہ کو اڑاتے اگر وہ دائیں جانب چلا جاتا تو اس سے نیک فال لیتے اور اگر وہ بائیں جانب اڑتا تو اس سے بد فالی لیتے اور ”طیرة” اسے کہتے ہیں جو برائی میں ہوتی ہے اور ”فال” اس کو کہتے ہیں جو نیکی میں ہوتی ہے اور جو ان سب سے اعراض کرکے صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، تو توکل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بے حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی لینے والوں سے براء ت کا اظہار فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ ہم میں سے نہیں ہے جو بدشگونی لے یا جس کے لیے بدشگونی لی جائے، جو کہانت (غیب کی خبریں دینے کا دعویٰ)کرے یا جس کے لیے کہانت کی جائے اور جو جادو ٹونا کرے یا جس کے لیے جادو کیا جائے، (المعجم الاوسط:4262)”۔ حضرت فضل بن عباس بیان کرتے ہیں: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دن باہر نکلا تو اچانک ایک ہرن نمودار ہوا اور وہ بائیں جانب مائل ہوا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹ کرکہنے لگا: یارسول اللہ! آپ نے براشگون لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی وہ ہے، جو کام کرنے پر آمادہ کرے یا واپس لوٹا دے، (مسند احمد :1824)”، یعنی انسان کے دل میںوہم آئے اور وہ اس کو نظر انداز کرکے اپنا کام جاری رکھے تو یہ بد شگونی نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ سے اپنا ارادہ بدلنایا اس کام سے رک جانا بد شگونی ہے۔