قراردادِ مقاصد کی منظوری کے وقت کی ایک یادگار تقریر

10 مارچ 1949ء میں دستور ساز اسمبلی کراچی میں رکن اسمبلی میاں افتخار الدین نے اس کے نفاذ پر ایک تائیدی تقریرکی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب دینی شخصیات اور سیکیولرطبقے کے درمیان حد درجہ ردو کد اور جنگ چھڑی ہوئی تھی۔
(ملک کی بنیاد اسلامی یا غیراسلامی کی ہمیشہ کی بحث چھیڑنے والے دانشوروں اور حکومتی ذمے داروں کی یاددہانی کے لیے ذیل کی ایک یادگار ی تقریر بے حد اہمیت رکھتی ہے، اس لیے اسے نذر قارئین کیا جارہا ہے)

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کی موجودگی میں میاں افتخارالدین خان نے اسمبلی فورم پر قرارداد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا تھا:
”سب سے پہلے میں معزز وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان کو اس بات کی مبارکباد دیتا ہوں کہ ڈیڑ ھ سالہ جدو جہد کے بعد دیرینہ قراردادِ مقاصد کوآئین کا دیباچہ بنا دیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر بعض صحافی حضرات نے اس قرارداد کے بارے میں کہنا شروع کردیا ہے کہ اس میں تمام اختیارات کا مالک کسی ”اعلیٰ ترین ہستی” کو قرار دیا گیا ہے۔ تو عرض ہے کہ ہم مانیں یا نہ مانیں، تمام اختیارات کی اصل مالک تو ”وہی اعلیٰ ترین ہستی ”ہے۔ اسی طرح پاکستانی کانگریس پارٹی کی جانب سے قرارداد پرجو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کا تعلق اس اعلان سے ہے کہ’ تمام اختیارات خدا تعالیٰ کی جانب سے آئے ہیں’۔ کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے یہ آئین ایک طر ح سے ”مولویانہ” (پاپائیت) لگنے لگا ہے۔ تاہم اپنی جانب سے میں ان مخالف ارکان کو یقین دلاتا ہوں کہ دیباچے کے الفاظ سے کسی صورت بھی یہ مولویانہ یا مذہبی آئین نہیں لگتا۔ یہاں میرے محترم نمائندے مولانا شبیراحمد عثمانی بھی موجود ہیں۔ اگر وہ اس قرارداد کو یہ کہتے ہوئے منظور کررہے ہیں کہ ان کے نقطۂ نظر کے مطابق یہ ان کی خواہشات کے عین مطابق ہے تو میرے پاس ا ن کے بعد مزید اضافہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ قرارداد میں لفظ ”اسلامی” لانا میرے نزدیک کسی بھی لحاظ سے قابل اعتراض نہیں ہے۔ اگر ہم ”رومن لا” یا ”برطانوی پارلیمانی نظام ” کہتے ہوئے کوئی پس و پیش نہیں کرتے تو آخر محض ”اسلامی ” استعمال کرنے میں کیوں بے چینی محسوس کرتے ہیں؟ اگر ہم دنیا کو فی الواقع یک اسلامی دستور، ایک عمدہ نظریہ اور اصل جمہوریت کے حصول کی ایک نئی راہ دے سکتے توایک کارنامۂ عظیم انجام دیتے۔ اپنے کانگریسی ارکان کومیری وضاحت ہے کہ اسلام میں خدا کے رحیم و مہربان ہونے کا تصور دوسرے مذاہب کے خدائے رحمان و مہربان ہونے کے تصور سے ہرگز بھی مختلف نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے اس بارے میں جو کچھ بھی خدشات ظاہر کئے ہیں وہ ہرگز قابل ِ لحاظ نہیں ہیں۔ اس لئے قرارداد ِ مقاصد کو آئین میں سموتے ہوئے ہم نے کوئی غیرمعمولی اقدام نہیں کیا ہے۔

اس طرح کے آئینی دیباچے تودنیا کے جدید ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک کے دساتیر کم و بیش انہی طرح کے الفاظ سے شروع ہوتے ہیں۔ آئرلینڈ بھی انہی میں سے ایک ملک ہے جس کے آئین کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ اس کا آغاز بھی خدا کے بارے میں انہی جیسے الفاظ سے ہوتا ہے بلکہ برطانوی سلطنت کے دیگر تمام ممالک کے دساتیر بھی بادشاہ کی جانب اپنے اختیارات اُسی خد کی ذات کو منتقل کرتے ہیں۔ دساتیر میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ”شاہ بادشاہ خداکے فضل وکرم سے” وغیرہ۔ لہٰذا کانگریس ممبران کو بھی قرا رداد ِ مقاصد کے ان الفاظ سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ آئر لینڈ کے عوام اپنے آئین کے ان الفاظ سے خوف زدہ نہیں ہوتے ہیں۔ یاد رکھنے کے قابل یہ امر بھی ہے کہ ہمارے دین میں مولویوں کا کوئی الٰہی ادارہ طے نہیں ہے۔ پادریوں کی مانند ہمارے پاس خدائی اجازت عطا کردہ مولوی نہیں ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہو کہ عیسائیوں کی کائونسل کی مانند ہم طبقۂ علما ء کے پاس حتمی فیصلے کے لیے جائیں!”۔ (خلاصۂ تقریر۔ حوالہ ان کی کتاب نامہ اعمال۔ جلد اوّل۔ شائع شدہ لاہور)

میاں افتخار الدین خان مرحوم کی مندرجہ بالا تقریر خود بیان کررہی ہے کہ پاکستان کے قیام کا اصل مقصد یہاں ایک مکمل اسلامی نظام کا قیام تھا۔ کس خوبصورتی و دلائل سے میاں صاحب نے قوم کوقرارداد کو آئین میں سمونے کی ضرورت کا احساس دلایاہے۔ واضح رہے کہ اس ضمن میں پاکستان کے جید علما (مفتی محمد شفیع عثمانی، مولا نا ظفر احمد عثمانی، سید مودودی اور مولاناظفر احمد انصاری وغیرہ) نے بھی حکومت ِ وقت پر پاکستانی عوام کے جوش وجذبے کی نمائندگی کرتے ہوئے مسلسل دبائو ڈالے رکھا تھا کہ پاکستان کے تشکیل دیے جانے والے آئین میں اس ملک کی تخلیق کا اصل مقصد ضرور شامل کیا جائے۔ اللہ کے فضل و کرم سے وہ جدوجہد کامیاب رہی یہاں تک کہ وہ قرارداد، آج محض دیباچے سے آگے بڑھ کرآئین کا عملی حصہ بھی اختیا رکر چکی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کارنامہ سابق صدر ضیاء الحق کا تھا۔ اسی طرح کراچی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور تحریک پاکستان کے کارکن جناب شریف المجاہد مرحوم نے بھی اس ضمن میں مغربی دنیا کے بعض ممالک کے دساتیر کی بعض مثالیں پیش کی ہیں اور ان کے دساتیر کی وہ شقیں سامنے لائے ہیں جن میں آئین کے اندر کسی برتر ہستی پر اعتقاد دکھا یا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مثلاً (١) ”کولمبیا کے آئینی دیباچے میں قرار دیا گیا ہے کہ خدا کے نام سے جو تمام قوتوں سے برتر قوت ہے۔ ہم کولمبیا کے لیے مندرجہ ذیل سیاسی آئین کا نفاذ کررہے ہیں”۔ (٢)”یونا ن کا آئین کہتاہے کہ مقدس اور غیرمرئی تثلیث کے نام سے ایتھنز کی دوسری قومی یونانی اسمبلی (آئین کا)’ نفاذ کرتی ہے”۔ (٣)۔ آئرلینڈ کے آئین میں دیا ہوا ہے کہ ریاست اقرار کرتی ہے کہ تما م عبادتیں خدائے تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔ شہریوں کی عظیم اکثریت کے ایمانی عقا ئد کے نگراں کی حیثیت سے رومی چرچ اور مقدس کیتھولک چرچ کے خصوصی مقام کا اعتراف کرتی ہے”۔ (٤) پیراگوئے کے آئین کے ابتدائی الفاظ بھی اسی طرح سے ہیں:”پیراگوئے کی قوم خدائے قادر اور کائنات کے اعلیٰ ترین قانون دینے والے کی مدد سے اس آئین کانفاذ کر تی ہے ” وغیرہ۔

ان کا سوا ل ہے کہ ”ہماری ریاست کے صدر کے مسلمان ہونے کی شرط پر جو لوگ نکتہ چیں ہوتے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ ذرا ‘مہذب ممالک’ کے دستوروں کا بھی قرار ِ واقعی مطالعہ کریں۔ ہمارا ملک جب لاکھوں مسلمانوں کے خون سے تشکیل پایا ہے تو کسی مہذب ملک کو” ہمارے صدر ِمملکت ”کے مسلم عقیدے پر ہونے پر اعتراض کیوں کر ہوسکتا ہے؟۔ (ملاحظہ ہو پروفیسر شریف المجاہدکی انگریزی کتاب ”آئیڈیا لوجی آف پاکستان’ شائع شدہ بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، پاکستان” )

ان دو معتبر حوالوں کے بعد پھر متفقہ دستور پر مسلسل اعتراض اٹھانا بہت گمراہ کن بات لگتی ہے۔ افسوس کہ تنقید کرنے والے حضرات بھول جاتے ہیں کہ یہ آئین، سیکولرفرد ذولفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں منظور ہوا تھا جسے خود بھٹو صاحب اور ان کی پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی بہت بڑا کارنامہ تسلیم کرتی ہے۔