18اور 21 سال کی عمر سے پہلے نکاح پر پابندی!

گزشتہ سے پیوستہ:
یہ (کم عمری میں شادی کی) اجازت اِس لیے دی گئی ہے کہ بعض دفعہ مصلحت کا تقاضا یہی ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں دو مصلحتیں تو بہت ہی بنیادی ہیں، ایک یہ کہ بعض اوقات اخلاقی بگاڑ کا اندیشہ ہوتا ہے، نکاح کی وجہ سے ایک جائز راستہ کھل جاتا ہے اور یہ بات اسے ناجائزرخ پر لے جانے سے بچاتی ہے۔ اگر ایسے حالات سامنے ہوں اور بلوغت کے بعد کئی سال تک نکاح کو روکے رکھا جائے تو اس سے بہت سے اخلاقی مفاسد پیدا ہوسکتے ہیں اور یہ اخلاقی بگاڑ بیک وقت صحت جسمانی کے لئے بھی مضر ہے اور ساتھ ہی ساتھ سماج کے دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں؛کیونکہ کوئی شخص جب اخلاقی مفاسد کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے لئے سماج ہی میں اپنی غذا تلاش کرتا ہے۔

اسلام میں حفاظت اخلاق کی بڑی اہمیت ہے اور والدین بھی اس سلسلہ میں جوابدہ ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوسعید خدری اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو بچہ ہو، تو اسے چاہیے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کی تربیت کرے، پھر جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کا نکاح کردے، اگربالغ ہونے کے باوجود اس کا نکاح نہیں کیا اور وہ گناہ میں مبتلا ہوگیا تو اس کے باپ پر بھی اس کا گناہ ہوگا۔ (شعب الایمان)

دوسری اہم مصلحت یہ ہے کہ بعض دفعہ باپ لب گور ہوتا ہے، ظاہری حالات کے تحت اندیشہ ہے کہ اس کے بچوں کو یتیمی کا داغ لگنے والا ہے اور اس کی موت کے بعد خاندان میں ایسے ذمہ دار اور دیانت دار لوگ نہیں ہیں جن سے امید رکھی جاسکے کہ وہ صحیح طور پر بچوں کی تربیت کرسکیں گے اور مناسب رشتہ تلاش کر کے اس کے بے سہارا بچوں کی شادی کریں گے، ابھی بچے نابالغ ہیں، لیکن ایک موزوں اور مناسب رشتہ ہاتھ آرہا ہے تو ایسی صورت میں یقینا مصلحت یہی ہے کہ اس وقت اس کا نکاح کردیاجائے کہ اس میں اس کے لب گور سرپرست کے لیے سکون قلب بھی ہے اور اس کے بچوں کے مستقبل کے محفوظ ہونے کی امید بھی۔

یقینا یہ مصلحتیں ایسی نہیںہیں جنہیں نظرانداز کردیاجائے، اس لئے قانون ایسا بنانا چاہیے جس میں مفادات کو حاصل بھی کیاجائے اور نقصانات سے حفاظت بھی ہو۔یہ کہاجاسکتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو نابالغی کے نکاح سے بچا جائے، اگر باپ اور دادا کے علاوہ دوسرے اولیا نکاح کریں یا باپ یا دادا ہی نکاح کریں، لیکن وہ اپنے اختیارات کا صحیح استعمال کرنے کے اہل نہ ہوں تو بالغ ہونے کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کو اس نکاح کے باقی رکھنے یا ختم کردینے کا اختیار دیاجائے۔ یہ حدود و قیود جن کی اسلام میں رعایت کی گئی ہے، اگر ملحوظ ہوں تو کم سنی کے نکاح کی مضرتوں سے بچا بھی جاسکتا ہے اور اس کی مصلحتیں حاصل بھی کی جاسکتی ہیں۔

بعض حضرات غلط فہمی پیدا رتے ہیں کہ اسلام میں نکاح نابالغہ کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ علما اسلام نے اپنے طور پر اس طرح کی بات لکھ دی ہے، حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالت نابالغی کے نکاح کا درست ہونا قرآن مجید سے بھی ثابت ہے (الطلاق)، احادیث سے بھی، (مسلم، ابوداؤد، نسائی، مصنف ابن شیبہ)اور اجماع امت سے بھی (المغنی،باب النکاح، موسوعہ الاجماع فی الفقہ الاسلامی) نیز جب لڑکے اور لڑکیاں جسمانی طور پر بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح جلد کردینا چاہئے، اس کاحکم بھی قرآن و حدیث میں موجود ہے اور فقہا اسلام نے بھی اس کی صراحت کی ہے۔جب لڑکے یا لڑکیاں بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح جلد کردینا چاہیے تاکہ وہ گناہ میں مبتلا نہ ہوں۔ چنانچہ قران مجید میں بھی غیرشادی شدہ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح کاحکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہے: وانکِحوا الایامی مِنکم ۔ (سورہ نور) اس کے علاوہ متعدد حدیثوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ (مسلم:، بیہقی فی شعب الایمان)

حاصل یہ ہے کہ اسلام نے کم سنی میں لڑکے یا لڑکی کے نکاح کی ترغیب نہیں دی ہے،البتہ اس سے منع بھی نہیں کیا ہے اور اس کی گنجائش رکھی ہے، جس کا ثبوت قرآن مجید سے بھی ہے، حدیث سے بھی ہے، آثار صحابہ سے بھی ہے اور اس امت کا اجماع و اتفاق بھی ہے۔ نیز یہ حکم بعض مصالح پر مبنی ہے۔

البتہ بالغ ہونے کے بعد تاکید کے ساتھ نکاح میں عجلت کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ اس سے اخلاقی اقدار کا تحفظ متعلق ہے اور نکاح میں تاخیر سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، جو ایک پاکیزہ سماج کے لیے ہرگز مناسب نہیں۔ نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں میں کم سنی کی شادی کا رواج بمقابلہ برادران وطن سے بہت کم ہے اور خیار بلوغ کے ذریعہ اس کی تلافی کی گنجائش موجود ہے۔