غزہ/تل ابیب: مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبہ دیر جریر پر یہودی آباد کاروں کے حملے اور قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں دو شہری شہید ہو گئے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق فائرنگ سے 52 سالہ عودہ عبد الرحم اور26 سالہ حمد عادل رشدبو مخو جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔قصبے پر یہودی آباد کاروں کے حملے کے نتیجے میں تین شہری شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہودی آباد کاروں نے قابض فوج کے سائے میںقصبے پر دھاوا بولا اور شہریوں پر حملہ کیا۔ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا کہ اس کے عملے نے ابتدائی طور پر پیٹ میں لگنے والے ایک شدید زخمی کا علاج کیا۔قابض اسرائیلی طیاروں کی طرف سے وسطی شہر غزہ میں الغفری چو ک کے قریب ایک گاڑی پر کیے جانے والے بم حملے کے نتیجے میں کئی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قابض طیاروں نے وسطی شہر غزہ میں مفترق الغفری کے قریب ایک سویلین گاڑی کو نشانہ بنایا۔ہلال احمر سوسائٹی نے اعلان کیا کہ اس کے عملے نے سوسائٹی کے السرایا فیلڈ ہسپتال میں زخمیوں کو منتقل کیا جن میں بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی جو اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔
دریں اثناء غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے 280ویں دن تک اس معاہدے کی 3795 خلاف ورزیاں کی ہیں جن کے نتیجے میں 1168 فلسطینی شہید اور 3734دیگر زخمی ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ اس دوران 149 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
میڈیا آفس نے اپنی ایک رپورٹ میں واضح کیا کہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے انسانی امدادی ٹرکوں کی تعداد صرف 59 ہزار 613 رہی جبکہ اس مدت تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 18 ہزار ٹرکوں نے داخل ہونا تھا، اس طرح اس معاہدے پر عمل درآمد کی شرح 35 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکی۔
رپورٹ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل نے رفح زمینی گزرگاہ کے ذریعے صرف 9228 مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت دی جبکہ گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے تحت اب تک 24 ہزار 600 مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی جانی تھی اس طرح اس معاملے میں پابندی کی شرح 37 فیصد رہی۔
ادھریہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں جاری مسلسل اسرائیلی کشیدگی کے سائے میں مسجدِ اقصی المبارک پر دھاوا بول دیا اس دوران مسجد سے بیدخلی کے احکامات، گھروں کی مسماری کے نوٹس اور شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے۔
القدس گورنری نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ 214یہودی آباد کاروں نے دو اوقات (صبح اور دوپہر کے بعد) میں گروپس کی شکل میں مسجدِ اقصی پر دھاوا بولا۔گورنری نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ بیت المقدس میں وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے مسجدِ اقصی پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد 1639 تک پہنچ گئی۔
علاوہ ازیںقابض اسرائیلی افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعدد شہروں اور قصبوں میں دھاوئوں اور چھاپوں کی مہم چلائی جس کے دوران گھروں کی تلاشی اور ان کے سامان کی توڑ پھوڑ کی گئی اور اس کے نتیجے میں 8 شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
حماس کے رہنما عبدالرحمن شدید نے رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبہ دیر جریر کے دو شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ہے جو قصبے پر یہودی آباد کاروں کے غنڈوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے قابض فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گئے تھے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ سفاکانہ جرم مغربی کنارے میں ہمارے عوام کے خلاف قابض حکومت کی طرف سے نافذ کردہ قتل و غارت اور منظم دہشت گردی کی پالیسی کا تسلسل ہے۔
دوسری جانب فلسطین میں کمیشن برائے مزاحمت دیوار و آبادکاری نے انکشاف کیا ہے کہ نام نہاد اسرائیلی لینڈ اتھارٹی نے سلفیت گورنری کی زمینوں پر قائم یہودی بستی اریئل میں ایک نئے آباد کاری منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے جس میں کثیر المنزلہ عمارتوں کے منصوبے کے تحت 342 یہودی آباد کاری یونٹس کی تعمیر شامل ہے۔
کمیشن نے اپنے ایک بیان میں وضاحت کی کہ پروجیکٹ کو نافذ کرنے کے لیے کمپنیوں سے تجاویز وصول کرنے کا عمل 31 اگست تک جاری رہے گا۔
ادھراسرائیل نے جیلوں کی سیکورٹی کے لیے مگرمچھوں کے استعمال کی منظوری دے دی یہ تجویز انتہا پسند وزیر داخلہ اتماربن گویرا نے دی تھی۔
عرب میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جیلوں کی بیرونی حدود اور حفاظتی خندقوں میں مگرمچھ تعینات کیے جائیں گے تاکہ فرار کی کوششوں کو روکا جا سکے۔ابتدائی مرحلے میں افریقہ سے درآمد کیے گئے 50 خونخوار مگرمچھ جیلوں کی سیکورٹی کے لیے استعمال کیے جائیں گے جبکہ اس منفرد سیکورٹی نظام کا آغاز صحرائے نقب میں واقع ایک جیل سے کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے قیدیوں کے بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔تنظیموں کا مؤقف ہے کہ قیدیوں کے خلاف مگرمچھوں کا استعمال عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

