ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے اندر داخلی سطح پر افواج پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہاہے، خلیجی ریاست کویت نے پاکستان کے ساتھ سعودی طرز کے دفاعی معاہدے کی درخواست کی ہے اور اس حوالے سے کافی حد تک ابتدائی ہوم ورک مکمل ہو چکا ہے۔ کویت رقبے کے لحاظ سے ایک چھوٹا ملک ہے لیکن توانائی، وسائل، مالی استحکام اور خلیج میںجغرافیائی حیثیت سے اسے اہم مقام حاصل ہے۔ عراق پر امریکی حملہ ہو، مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاسی صورتِ حال ہو، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہویا خطے میں غیر یقینی حالات، ان سب عوامل نے خلیجی ریاستوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے ایسے قابلِ اعتماد شراکت دار تلاش کریں جو نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہوں بلکہ ان پر اعتماد بھی کیا جا سکے اور پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے جب بھی افواجِ پاکستان کا ذکر کیا جاتا ہے تو گفتگو کا رخ فوراً دفاعی بجٹ کی طرف موڑدیا جاتا ہے۔ برسوں سے ایک مخصوص تاثر عوام کے ذہنوں میں بٹھایا جا رہا ہے کہ فوج قومی وسائل کا سب سے بڑا حصہ استعمال کرتی ہے۔
گویا یہ ادارہ صرف ایک خرچہ ہے جس کا بوجھ پوری قوم اٹھا رہی ہے۔ حالانکہ اگر عالمی اعداد و شمار اور دفاعی تجزیوں کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان محدود وسائل کے باوجود دنیا کی بہترین پیشہ ور افواج میں شمار ہوتا ہے۔ دفاعی بجٹ کو ہمیشہ ملکی معیشت، جغرافیہ، خطرات اور قومی ضروریات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جسے مشرق میں ایک بڑی فوجی طاقت، مغرب میں غیر مستحکم سرحد، شمال میں حساس جغرافیائی حالات اور اندرونی دہشت گردی جیسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے ملک کے لیے مضبوط دفاع کوئی عیاشی نہیں بلکہ بقا کی بنیادی ضرورت ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ فوج پر کتنا خرچ ہوتا ہے بلکہ یہ ہے کہ کیا فوج صرف خرچ کرتی ہے یا قومی ترقی کا ایک ذریعہ بھی بن سکتی ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی تقریباً ہر بڑی طاقت نے اپنی عسکری قوت کو صرف دفاع تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قومی معیشت، صنعت، ٹیکنالوجی اور عالمی اثر و رسوخ کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔
آج امریکا، فرانس، برطانیہ، روس، چین، ترکی، جنوبی کوریا اور اسرائیل جیسے ممالک دفاعی صنعت کو اپنی معیشت کا اہم ستون بنا چکے ہیں۔ یہ ممالک نہ صرف اپنے لیے جدید اسلحہ تیار کرتے ہیں بلکہ دنیا بھر کو دفاعی سازوسامان، تربیت، مشاورتی خدمات، ٹیکنالوجی اور سیکورٹی تعاون فراہم کرکے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔ ان کے لیے فوج صرف ایک دفاعی ادارہ نہیں بلکہ قومی معیشت، تحقیق، صنعت اور برآمدات کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پاکستان بھی اب اس میدان میں قدم رکھنے والا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے دفاعی پیداوار کے شعبے میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں تیار ہونے والا جے ایف 17 تھنڈر دنیا کے کئی ممالک کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ نائجیریا اور میانمار اس طیارے کے خریدار بن چکے ہیں جبکہ آذربائیجان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بھی مختلف سطحوں پر مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں تیار ہونے والی دفاعی مصنوعات، پاکستان آرڈیننس فیکٹریز کی مصنوعات، بحری سازوسامان، ڈرون ٹیکنالوجی، تربیتی پروگرام اور دیگر عسکری خدمات پاکستان کے لیے مستقبل میں قیمتی برآمدی شعبے بن سکتے ہیں۔ دفاعی خدمات صرف اسلحہ فروخت کرنے کا نام نہیں بلکہ جدید دنیا میں عسکری تربیت، انٹیلی جنس تعاون، سائبر سیکورٹی، بارڈر مینجمنٹ، انسداد دہشت گردی، فوجی مشاورت، امن مشنز، لاجسٹک سپورٹ اور تکنیکی معاونت بھی ایک بڑی صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ پاکستانی افواج ان تمام شعبوں میں قابلِ ذکر تجربہ رکھتی ہیں۔
خلیجی ممالک اس حوالے سے پاکستان کے لیے سب سے موزوں منڈیاں ہیں۔ ان کے پاس مالی وسائل موجود ہیں لیکن آبادی کم ہونے کی وجہ سے انہیں پیشہ ور افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس تربیت یافتہ افرادی قوت بھی ہے، عسکری تجربہ بھی اور قابلِ اعتماد ساکھ بھی۔ اگر اس شعبے میں منظم حکمت عملی اختیار کی جائے تو دفاعی تعاون پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کے بعد افریقہ ایک وسیع اور ابھرتی ہوئی منڈی ہے۔ افریقی ممالک دہشت گردی، داخلی شورش، سرحدی تنازعات اور دفاعی کمزوریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں نہ صرف اسلحہ بلکہ تربیت یافتہ افسران، فوجی مشیر، انسداد دہشت گردی کی مہارت اور دفاعی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ پاکستان ان ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح وسطی ایشیا کی ریاستیں بھی پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون، سی پیک، شنگھائی تعاون تنظیم اور علاقائی روابط کے تناظر میں پاکستان کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اس ساری گفتگو کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دفاعی ادارے تنقید سے بالاتر ہیں یا ان کی کسی بھی پالیسی پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ جمہوری معاشروں میں کوئی بھی ادارہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوامی احتساب کے اصول سے مستثنیٰ نہیں ہوتا۔ تاہم تعمیری تنقید اور ادارہ جاتی تضحیک میں واضح فرق ہونا چاہیے۔ آج پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ مشرقی سرحد پر مسلسل چیلنجز موجود ہیں، مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خطرات دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں، خطے کی جغرافیائی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش میں پاکستان کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں قومی وحدت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد اس ملک کی سرحدوں کی حفاظت، دشمن کے مقابلے میں دفاع اور قومی سلامتی کی عملی ذمہ داری انہی افواج کے کندھوں پر ہے۔
اختلافات اپنی جگہ، سیاسی بحث اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی کے ستونوں کو کمزور کرنے والا ہر طرزِ فکر بالآخر ریاست ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جس میں ریاستی ادارے مضبوط ہوں، ان کی اصلاح بھی ہو، ان کی حوصلہ افزائی بھی ہو، اور انہیں قومی ترقی کا فعال حصہ بنانے کے لیے عملی منصوبہ بندی بھی کی جائے۔ اگر پاکستان اپنی دفاعی صنعت کو وسعت دے، عسکری خدمات کی برآمد کو قومی پالیسی کا حصہ بنائے، خلیجی ممالک، افریقہ اور وسطی ایشیا میں دفاعی تعاون کو فروغ دے اور اپنی پیشہ ورانہ عسکری صلاحیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اختیار کرے تو وہ دن دور نہیں جب افواجِ پاکستان صرف ملکی سلامتی کی ضامن ہی نہیں بلکہ قومی معیشت کی مضبوطی میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کرنے والا ادارہ بن جائیںگی۔

