غزہ،آبادکاروں کی یلغار،مسجد نذرآتش،صہیونی حملوں میں11شہید

غزہ/نیویارک/تل ابیب: یہودی آباد کاروں کی جنوبی الخلیل پر یلغار،مسجد کوآگ لگادی،غزہ میںصہیونی فوج کے پے در پے حملے،11فلسطینیوں کو شہید کردیا۔

عرب میڈیا کے مطابق الخلیل کے مسافر یطا کے گائوں التوانہ میں یہودی آباد کاروں نے حملہ کرکے مسجد کو نذر آتش کردیا۔التوانہ گائوں کی ویلج کونسل کے سربراہ محمد ربعی نے وفا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ حافات ماعون نامی یہودی کالونی سے آئے آباد کاروں نے گائوں پر دھاوا بولا اور شہری کمال موسی ربعی اور محمود سلمان ربعی کے گھروں کے ساتھ ساتھ التوانہ مسجد کو بھی آگ لگادی۔

حملے میںانہوں نے آتش گیر مواد کا استعمال کیا جس سے املاک کا بڑا حصہ جل کر خاکستر ہو گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہودی آباد کاروں نے شہریوں کی گاڑیوں سمیت دیگر املاک کی توڑ پھوڑ اور تباہ کاری بھی کی۔

وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے ایک بیان میں اس گھنائونے جرم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے گھروں میں سے ایک گھر کو جلانا ایک خطرناک کشیدگی اور تمام سرخ لکیروں کو عبور کرنے کے مترادف ہے۔

وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ یہودی آباد کاروں کے گروہوں کا التوانہ مسجد کو جلانا مکمل طور پر دہشت گردی کا عمل ہے جو قابض اسرائیل کی انتہا پسند حکومت کی حمایت اور ہری جھنڈی سے انجام دیا گیا ہے جو مسافر یطا میں ہمارے لوگوں کو بے گھر کرنے اور تنازع کو مذہبی جنگ میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ادھراسرائیل نے غزہ میں تازہ حملے میں تین بچوں سمیت کم از کم 11 فلسطینیوں کو شہید کردیا ۔اتوار کو غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق، شمال مغربی غزہ شہر میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں پانچ افراد پر مشتمل ایک اور خاندان جن میں تین بچے اور ان کے والدین شامل تھے شہید ہو گئے۔

ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے کہا کہ خاندان کا واحد زندہ بچ جانے والا ایک بچہ ہے جو حملے کے وقت گھر پر موجود نہیں تھا۔الشفا اور الاہلی بیپٹسٹ ہسپتالوں کے طبی ذرائع نے بتایا کہ انہیں غزہ شہر کے جنوب مشرق میں زیتون کے محلے میں اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری کے بعد تین فلسطینیوں کی لاشیں اور دو زخمی ملے ہیں۔

الشفا ہسپتال کے ایک طبی ذریعے نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ اس کے علاوہ ایک اسرائیلی جنگی طیارے نے غزہ شہر کے نصر محلے میں ایک اپارٹمنٹ پر فضائی حملہ کیا جس میں ایک خاتون بچے سمیت پانچ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ فضائی حملے سے اپارٹمنٹ تباہ اور قریبی گھروں کو نقصان پہنچا۔

دریں اثنائاقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں بے گھر فلسطینی بچوں میں خسرے کی بیماری کے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 9,300 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق گنجان آباد شہر خان یونس سے ہے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امورکی ایک رپورٹ کے مطابق حد سے زیادہ بھیڑ، جمع ہونے والا کچرا، صاف پانی تک محدود رسائی اور سیوریج کے نظام کی تباہی نے اسرائیل کی طرف سے بے گھر کیے گئے فلسطینیوں کے کیمپوں میں متعدی بیماریوں کے پھیلائو کو تیز کردیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بگڑتی ہوئی صورتحال نے محصور غزہ میں خسرے کو ایک بڑھتے ہوئے عوامی صحت کے بحران میں تبدیل کردیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ میں سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے طبی مسائل بدستور سانس کی بیماریاں اور جلد کی بیماریاں ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے مزید بتایا کہ خصوصاً خان یونس کے اطراف میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ ہفتے چکن پاکس، بیرونی جلد پرجوئوں کے حملوں اور بیکٹیریا سے ہونے والے جلدی انفیکشن کے 18,000 سے زائد نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔اسرائیلی جنگ کے باعث غزہ کا نظامِ صحت شدید متاثر ہو چکا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق اکتوبر2025 ء میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی دفاعی افواج کی کارروائیوں میں کم از کم 420 حماس رہنما شہید ہوچکے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار اور رپورٹس بتاتی ہیں کہ جنگ بندی کے بعد سے اموات کی شرح میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس مدت کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 1,000 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔مئی2026 ء کے دوران 57 حماس اموات ہوئیں جو کہ سب سے زیادہ تعداد تھی جبکہ جون2026 ء میں یہ تعداد کم ہو کر 36 رہ گئی اور ان کا اوسط ماہانہ 40 سے زائد رہا ہے۔