حبس کی فضا میں تازہ ہوا کا جھونکا

ملک کے معروف دینی ادارے جامعة الرشید میں قومی پیغام امن کمیٹی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب جس میں تمام اسلامی مکاتب فکر کے جید علماء سمیت مختلف اقلیتی مذاہب کے نمایندوں نے شرکت کی اور قومی یکجہتی کا مشترکہ پیغام جاری کیا،سخت حبس زدہ ماحول میں ٹھنڈی ہوا کے خوشگوار جھونکے کی مانند محسوس کی گئی ہے اورمین اسٹریم میڈیا سمیت اہم قومی حلقوں نے اسے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ملکی تاریخ میں اہم قومی پیشرفت سے تعبیر کیا ہے۔اس اجتماع کے موقع پر جہاں مختلف مکاتب فکر کے علماء اور رہنماؤں کے ایک ہی مسجد میں ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کا منظر انتشار کی فضا میں اتحاد کا شاندار مظہر ثابت ہوا ہے، وہیں عیسائی،ہندو اور سکھ برادری کے نمایندوں کی جانب سے وطن عزیز پاکستان اور اس کی مسلم اکثریت کے ساتھ قومی معاملات پر یکجہتی اورہم آہنگی کے جذبات کا اظہار پوری قوم کے لیے حوصلے اور امید کا پیغام ثابت ہوا ہے۔

وطن عزیز پاکستان کو لمحۂ موجود میں جن ہمہ جہت چیلنجوں اور سنگین خطرات کا سامنا ہے،ان سے ہر محب وطن پاکستانی آگاہ ہے ۔ اس وقت ملک کی سرحدوں بالخصوص مغربی سرحد پر ہمیں ایک پراکسی جنگ کا سامنا ہے جس کے تحت ایک طرف خیبر پختونخوا میں جہاد اور شریعت کے نام پر فساد پھیلانے والے عناصر سرگرم عمل ہیں تو دوسری جانب بلوچستان میں قوم پرستی اور حقوق کے نام پر کچھ لوگوں کو مسلح کرکے وفاق پاکستان سے آمادہ پیکار کرلیا گیا ہے۔تیسری جانب اب آزاد کشمیر میں بھی عوامی مطالبات کے نام پر شورش پھیلانے کی کوشش ہورہی ہے۔اوپر سے سیاسی دھینگا مشتی اور مذہبی فرقہ وارایت کو ہوا دی جارہی ہے۔ان تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے قومی سلامتی کے ادارے پوری تندہی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ہماری مسلح افواج ،سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے مادر وطن کے دفاع کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں تاہم جیساکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور رئیس جامعة الرشید و چانسلر الغزالی یونیورسٹی مفتی عبد الرحیم نے بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے، اس طرح کی ہمہ گیر یلغار کا مقابلہ صرف فوجی طاقت سے نہیں کیا جاسکتا،جنگیں فوجیں نہیں بلکہ قومیں لڑا کرتی ہیں۔دنیا کی کوئی بھی فوج خواہ وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہواور کتنے ہی مقدس کاز پر کاربند کیوں نہ ہو،اگر اس کے پیچھے قوم کا جذبہ،اتحاد اور عزم کار فرما نہ ہو،وہ کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتی۔ وطن عزیز پاکستان کو درپیش خطرات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی پاکستانی قوم کے تمام مذہبی،سیاسی،نسلی ، لسانی اور سماجی طبقات کا متحد اور یکجان ہونا وقت کی ناگزیر ترین ضرورت ہے۔اس کے بغیر ہم اپنی سلامتی، خودمختاری اور آزادی و استحکام کی جنگ نہیں جیت سکتے۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں قومی سطح پر اتحاد ویکجہتی اور قومی ایشوز پر یکسوئی و یگانگت کی وہ وفضا موجود نہیں ہے نجس کی ملک کو ضرورت ہے۔یہاں کے سیاسی،مذہبی اور سماجی حلقوں اور ریاست کی اکائیوں کے درمیان بد گمانیوں اور بد اعتمادی کی ایک وسیع خلیج قائم ہوچکی ہے۔یہاں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر لوگ قومی سلامتی سے کھلواڑ کرنے بھی نہیں ہچکچاتے،مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کے نام پر قتل وغارت سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ریاست اور اس کے کلیدی اداروں پر حملے کرنے کو بہادری باور کیا جاتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ مادروطن کے دفاع اور سلامتی پر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے قوم کے بیٹوں کی قربانیوں کے استخفاف کو بھی معمولی سمجھا جاتا ہے۔ ملک اور ملت کے خلاف افواہیں پھیلانے والوں،عوام میں مایوسی کی فصل کاشت کرنے والوں اور منفی خبروں اور تبصروں کے ذریعے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں پر کوئی قدغن نہیں ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم کا ایک بڑا طبقہ ذہنی انتشار کا شکار ہے جس سے فائدہ اٹھاکر عالمی و علاقائی اسلام دشمن و پاکستان دشمن قوتیں اپنے آلہ کار عناصر کے ذریعے پاکستان میں بد امنی پھیلانے اور یہاں کے مختلف طبقات کو باہم دست و گریباں کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں اور بعد قسمتی سے ان کی یہ سازشیں بہت حد تک کامیاب بھی ہورہی ہیں اور ہم ان سازشوں کا شکار ہورہے ہیں۔

ان حالات میں قوم کو ایسے رہنماؤں اور مسیحاؤں کی ضرورت ہے جو ذاتی و گروہی مفادات سے اوپر اٹھ کر قوم کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔مقام شکر ہے کہ پاکستان میں ابھی ایسے بالغ نظر،درد مند اور اولو العزم لوگ موجود ہیں جو حالات کی نزاکت کا ادراک بھی رکھتے ہیں اور ان حالات میں قوم کی درست سمت میں رہنمائی اور قیادت کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ جامعة الرشیدنے اپنے کشادہ دامن میں تمام مکاتب فکر اور پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے نمایندوں کو جگہ دے کر اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے جذبے کا عملی مظاہرہ کرکے شیخ الہند مولانا محمود حسن کی اس عظیم تحریک کی یاد تازہ کردی ہے جو انہوں نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے دوران تمام ہندوستانی طبقات کو ساتھ ملاکر شروع کی تھی اورجو بالآخرہندوستان کی برطانوی استعمار سے نجات پر منتج ہوئی۔

یہ سچ ہے کہ پاکستان میں کچھ غیروں کی عیاری اور کچھ اپنوں کی نادانی کے باعث حالات نہایت گمبھیر ہوچکے ہیں،یہاں کاشت کی جانے والی نفرتوں کی فصل اب جنگل کی شکل اختیار کرچکی ہے،امید اور حوصلے کی کرنوں پر اندیشوں اور وساوس کے مرغولے غالب آتے دکھائی دے رہے ہیں تاہم ابھی بھی پاکستانی قوم کے لیے مایوسی اور ناامیدی کوئی آپشن نہیں ہے۔ہمیں ہر حال میں امید اور حوصلے کی شمع جلائے رکھنی ہے اور اپنے عزم،جذبے اور عمل سے دنیاکو دکھانا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور اپنی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں بحیثیت قوم اپنے وژن ،رویوں اور طرز وفکر وعمل میں وسعت لانی ہوگی،منفی ذہنیت،ملک دشمن پروپیگنڈے کو مسترد کرنا ہوگا، ریاستی اداروں کے خلاف دشمن قوتوں کی مخاصمانہ مہم کا حصہ بننے سے انکار کرنا ہوگا، ہر قسم کی سیاسی یا مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو مسترد کرنا ہوگا اورایک ذمہ دار پاکستانی شہری کی حیثیت سے ملک کے ہر محاذ پر دفاع کے لیے تیار رہونا ہوگا۔ جامعة الرشید نے ہر قسم کی مخالفتوں اور مخاصمانہ تنقید کی پروا کیے بغیر ملک میں مذہبی رواداری اور قومی وحدت کا شاندار عملی مظاہرہ کرکے دکھایا ہے۔دیگر دینی اداروں کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور قوم کو متحد کرنے کی فکر کا ساتھ دینا چاہیے۔