بلوچستان، دہشت گردی اور قومی اتحاد کی ضرورت

بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ ضلع زیارت میں پولیس چوکی پر ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے میں نو پولیس اہلکاروں کی شہادت نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔ اگرچہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا، تاہم یہ سانحہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان اب بھی دشمن قوتوں کی سازشوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وطن کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے یہ پولیس اہلکار اور سیکیورٹی فورسز کے جوان پوری قوم کے محسن ہیں، جن کی قربانیاں قومی تاریخ کا روشن باب ہیں اور رہیں گی۔بلوچستان رقبے کے لحاظ سے محض پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ نہیں بلکہ قدرتی وسائل سے مالا مال ایک ایسی سرزمین ہے جس کے سینے میں سونا، تانبا، کوئلہ، گیس، کرومائیٹ اور دیگر قیمتی معدنی ذخائر پوشیدہ ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ، ساحلی پٹی اور جغرافیائی محل وقوع اسے خطے کی سیاست اور عالمی معیشت میں غیر معمولی اہمیت عطا کرتے ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو پاکستان دشمن قوتوں کو بے چین رکھتے ہیں۔ دشمن جانتا ہے کہ اگر بلوچستان ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہو گیا تو پاکستان معاشی خودمختاری اور علاقائی تجارت کا ایک طاقتور مرکز بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی طاقتیں بلوچستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور انتشار کو ہوا دینے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض مقامی عناصر، خواہ ذاتی مفادات، سیاسی محرومیوں یا گمراہ کن پروپیگنڈے کے زیر اثر ہوں، دشمن قوتوں کے آلہ کار بن کر اپنے ہی صوبے اور اپنے ہی عوام کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ چند گمراہ افراد کی یہ سرگرمیاں بلوچستان کے غیور اور محب وطن عوام کی نمائندگی ہرگز نہیں کرتیں، جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے قربانیاں دی ہیں اور ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے واضح اور دوٹوک موقف سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف متعدد مواقع پر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی اور ریاست کسی صورت پسپائی اختیار نہیں کرے گی۔ ان کا یہ موقف بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی کئی دہشت گرد کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں سے ملتے ہیں، جہاں سے دہشت گرد عناصر منصوبہ بندی، تربیت اور سہولت کاری حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان مسلسل عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔

اسی تناظر میں پاکستان کے حکام بارہا اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ مشرقی ہمسایہ بھارت بھی پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔ ماضی میں گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا معاملہ ہو یا بلوچستان میں تخریب کاری کے دیگر شواہد، پاکستان بارہا عالمی برادری کو اس جانب متوجہ کرتا رہا ہے کہ بعض بیرونی قوتیں بلوچستان کے امن اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ مقصد واضح ہے؛ پاکستان کو داخلی انتشار میں الجھا کر اس کی معاشی اور سٹریٹیجک پیش رفت کو روکنا۔ تاہم دشمن شاید یہ حقیقت بھول جاتا ہے کہ پاکستانی قوم اور اس کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف ایسی قربانیاں دی ہیں جن کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ ہزاروں فوجی جوان، پولیس اہلکار، ایف سی کے سپاہی، انٹیلی جنس اہلکار اور عام شہری اس جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور بے شمار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز نے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی کمر توڑ دی ہے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ آج بھی پاک فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور دیگر ادارے دن رات وطن کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں محض عسکری کامیابیاں نہیں بلکہ قومی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کی عظیم مثال ہیں۔ بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں، ویران صحراؤں اور سرحدی علاقوں میں تعینات جوان شدید موسمی حالات اور مسلسل خطرات کے باوجود اپنے فرائض تندہی سے سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ وہ گمنام ہیرو ہیں جن کی بدولت ملک کا امن قائم ہے اور ترقی کا سفر جاری ہے۔یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق اور بارود سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس جنگ کا ایک اہم محاذ فکری اور نظریاتی بھی ہے۔ نوجوانوں کو گمراہ کن بیانیے، نفرت انگیز پروپیگنڈے اور جھوٹی اطلاعات کے ذریعے ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع، سماجی انصاف اور مثبت قومی بیانیے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو ترقیاتی منصوبوں، روزگار اور جدید تعلیم کے مواقع فراہم کرنا دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ قومی سلامتی کے معاملات پر سیاسی تقسیم دشمن کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے اپنی جگہ اہم ضرور ہے، مگر دہشت گردی اور قومی سلامتی کے معاملات پر پوری سیاسی قیادت کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو قومی اتفاقِ رائے کا مرکز بناتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ جب سیاسی قیادت متحد ہو، ریاستی ادارے یکسو ہوں اور قوم ایک آواز بن جائے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔بلوچستان کا امن صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا سوال ہے۔ یہ صوبہ اگر ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا اور اگر اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشیں کامیاب ہوئیں تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ اسی لیے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف سیکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے قومی اتحاد، سیاسی یکجہتی اور اجتماعی شعور کا مظاہرہ کریں۔ دشمن چاہے مغربی سرحدوں سے دراندازی کرے یا مشرقی سرحد سے سازشوں کے جال بچھائے، پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پوری قوم اس کے عزائم کو ناکام بنانے کی صلاحیت اور عزم رکھتے ہیں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی قومی مفاد کا راستہ ہے اور یہی ان شہداء کا ہم پر قرض بھی، جنہوں نے پاکستان کے امن اور استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ قوم اگر متحد رہے تو دہشت گردی کا عفریت بھی شکست کھائے گا اور بلوچستان سمیت پورا پاکستان امن، استحکام اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار ہوگا۔