اسلام آباد:آڈیٹر جنرل آف کی جانب سے وزارت آبی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں کے جامع آڈٹ میں مالی سال25-2024 ء کے دوران7 ارب2 کروڑ روپے مالیت کی مالی بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ میں وزارت کے112 انتظامی یونٹس کا جائزہ لیا گیا جن کے دوران 359.6 ارب روپے کے اخراجات اور194.2 ارب روپے کی وصولیوں کی جانچ کی گئی۔آڈیٹرز کی جانب سے نشاندہی کی گئی بے ضابطگیوں کے مقابلے میں جنوری سے دسمبر کے دوران صرف 28 لاکھ 21 ہزار روپے کی وصولی عمل میں آئی جس کی تصدیق بھی کی گئی۔
وزارتِ آبی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں سے متعلق جاری کی گئی نئی آڈٹ رپورٹ میں داخلی کنٹرول کے نظام کی سنگین کمزوریوں،سرکاری خریداری کے قواعد کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں اور انتظامی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی بھی شامل ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بے ضابطگیوں کو ادارہ جاتی ناکامی کی سات بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے، سب سے زیادہ بے ضابطگیاں مالیاتی انتظام میں سامنے آئیں۔

