پاکستان کے لیے کون سا نظام بہتر ہے؟

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو خلفائے راشدین نے نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ عدل، امانت، مشاورت اور جواب دہی کی ایسی مثالیں قائم کیں جو انسانی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہی روشن اصولوں پر چلتے ہوئے مسلمانوں نے عظیم خلافت قائم کی جو بارہویں صدی ہجری تک دنیا کے لاکھوں مربع میل پر پھیلی ہوئی تھی۔

ان ادوار کے حکمرانوں کا طرزِ حکمرانی یہ تھا کہ وہ راتوں کو رعایا کے گھروں کا پہرا دیتے، لوگوں کے مسائل جاننے کے لیے خود گلیوں میں نکلتے، خود جاگتے مگر عوام کو امن اور سکون فراہم کرتے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عمر بن عبدالعزیز جیسے حکمران تاریخ کے وہ روشن باب ہیں جن پر آج بھی دنیا رشک کرتی ہے۔

وقت کے ساتھ دنیا بدل گئی۔ تہذیب و تمدن ترقی کر گئے، آبادیوں میں اضافہ ہوا اور ریاستی معاملات پیچیدہ ہو گئے۔ آج کے دور میں اسلامی ممالک بھی جدید ریاستی نظام کا حصہ ہیں جہاں حکومت کا ایک منظم ڈھانچہ ناگزیر بن چکا ہے۔ اس جدید ریاستی نظام میں بنیادی طور پر دو نظام رائج ہیں: صدارتی نظام اور پارلیمانی نظام۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے ان میں سے کون سا نظام زیادہ موزوں ہے؟

پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کو بالادستی حاصل ہوتی ہے، جبکہ صدارتی نظام میں صدر ریاست اور حکومت دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ تاریخِ عالم پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ عرصے تک نافذ رہنے والا نظام صدارتی نوعیت کا رہا ہے، جو مختلف ادوار میں بادشاہت کی مختلف شکلوں میں سامنے آیا۔ اگرچہ صدارتی نظام اور بادشاہت کو یکساں سمجھ لینا درست نہیں، کیونکہ دونوں میں بنیادی فرق موجود ہے۔

بادشاہت کی کئی اقسام رہی ہیں:
پہلی قسم مطلق العنان بادشاہت ہے، جس میں بادشاہ کسی دستور یا قانون کا پابند نہیں ہوتا۔ اس کی زبان ہی قانون ہوتی ہے اور وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا۔ ٭ دوسری قسم مشاورتی بادشاہت ہے، جس میں بادشاہ اگرچہ حتمی اختیار رکھتا ہے مگر ایک شوریٰ یا کونسل سے مشورہ بھی لیتا ہے، تاہم وہ ان مشوروں کا پابند نہیں ہوتا۔ ٭ تیسری قسم مذہبی بادشاہت ہے، جس میں اقتدار کا سرچشمہ مذہب ہوتا ہے اور مذہبی پیشوا حکمران کی توثیق کرتے ہیں۔ یہ نظام عیسائیت میں رائج رہا اور اسی کے خلاف ردِعمل کے طور پر جدید ریاستی نظام وجود میں آیا۔ ٭ چوتھی قسم دستوری بادشاہت ہے، جس میں بادشاہ دستور کا پابند ہوتا ہے اور اس کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔ آج برطانیہ میں رائج نظام اسی کی ایک مثال ہے جہاں بادشاہ یا ملکہ محض علامتی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ اصل اختیارات پارلیمنٹ اور وزیرِاعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اسی طرز کا پارلیمانی نظام رائج ہے جہاں صدر محض علامتی عہدہ ہے اور تمام انتظامی اختیارات وزیرِاعظم اور کابینہ کے پاس ہیں۔

پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کو قانون ساز ادارہ کہا جاتا ہے، جسے عربی و فارسی میں” مقننہ” بھی کہتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا مقصد قانون سازی اور عوامی نمائندگی ہوتا ہے۔ دنیا میں پارلیمانی نظام کی مختلف اقسام ہیں۔ بعض ممالک میں ”یک ایوانی پارلیمنٹ” ہوتی ہے جبکہ اکثر ممالک میں ”دو ایوانی نظام” رائج ہے، یعنی ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا۔ پاکستان میں قومی اسمبلی ایوانِ زیریں اور سینیٹ ایوانِ بالا ہے۔

دو ایوانی نظام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایوانِ زیریں میں منظور ہونے والے قوانین پر ایوانِ بالا میں مزید غور و فکر کیا جائے تاکہ جذباتی، عجلت میں کیے گئے یا سیاسی دباؤ کے تحت بننے والے قوانین سے ملک کو بچایا جا سکے۔ ایوانِ بالا میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین کی موجودگی اس لیے ضروری سمجھی جاتی ہے تاکہ قانون سازی کے ممکنہ نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں عملی طور پر ایوانِ بالا کے اس کردار کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ اکثر اوقات وہاں بھی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر افراد منتخب کیے جاتے ہیں جس سے سینیٹ کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ سینیٹ کے پاس آزادانہ قانون سازی کا اختیار بھی محدود ہے اور اکثر معاملات میں قومی اسمبلی ہی حتمی فیصلہ کرتی ہے۔

صدارتی نظام کی بات کی جائے تو دنیا کے تقریباً پچاس ممالک میں یہ نظام رائج ہے، جن میں امریکہ اور فرانس نمایاں مثالیں ہیں۔ ان ممالک میں صدر کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر عوام منتخب کرتے ہیں۔ صدر اپنے طور پر ماہر اور اہل افراد پر مشتمل کابینہ تشکیل دیتا ہے اور حکومت چلاتا ہے۔ اس نظام میں صدر پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کے دباؤ یا بلیک میلنگ سے نسبتاً آزاد ہوتا ہے کیونکہ اسے براہِ راست عوامی مینڈیٹ حاصل ہوتا ہے۔ صدارتی نظام میں عوام کی رائے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کیونکہ انہیں نہ صرف اپنے نمائندے منتخب کرنے کا بلکہ صدر کا انتخاب کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ اس سے حکمران براہِ راست عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین کے نزدیک یہ نظام استحکام اور فیصلہ سازی میں تیزی کا باعث بنتا ہے۔

پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے بھی پاکستان کے لیے صدارتی نظام کو زیادہ موزوں قرار دیا تھا۔ 10 جولائی 1947 کی ایک میٹنگ کے تحریری نوٹس آج بھی موجود ہیں جن میں قائداعظم نے واضح طور پر کہا کہ پارلیمانی نظام برطانیہ کے لیے تو مناسب ہو سکتا ہے مگر پاکستان جیسے نوآزاد ملک کے لیے صدارتی نظام بہتر ہوگا۔ قائداعظم مسلم لیگ کے اندرونی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش کو بخوبی سمجھ چکے تھے، اسی لیے وہ ایک مضبوط اور مستحکم نظامِ حکومت کے حامی تھے۔ بدقسمتی سے قائداعظم کی رحلت کے فوراً بعد پاکستان میں برطانوی پارلیمانی نظام نافذ کر دیا گیا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہ نظام پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، جماعتی مفادات، الزام تراشی اور اقتدار کی کشمکش کے سوا کچھ نہ دے سکا۔ حکومتیں بار بار تبدیل ہوئیں، پالیسیاں تسلسل کا شکار رہیں اور عوامی مسائل جوں کے توں رہے۔

آج وقت آ گیا ہے کہ ہم تعصب اور روایت سے ہٹ کر یہ سوچیں کہ پاکستان کے لیے کون سا نظام واقعی مفید ہو سکتا ہے۔ صدارتی نظام کو آزمانا کوئی کفر یا بغاوت نہیں بلکہ ایک انتظامی تجربہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے آئین، عدل، شفافیت اور اسلامی اصولِ مشاورت کے تحت نافذ کیا جائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اصل مسئلہ نظام کا نام نہیں بلکہ اس کا نفاذ، دیانت داری اور عوامی مفاد ہے۔ اگر صدارتی نظام پاکستان کو سیاسی استحکام، بہتر حکمرانی اور عوامی فلاح دے سکتا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر فیصلے کرتی ہیں، نہ کہ وہ جو ماضی کی غلطیوں کو بار بار دہراتی رہیں۔