ہمارے مرد، ہماری عورتیں، ہمارے لڑکے، ہماری لڑکیاں اور ہمارا معاشرہ، عقل وخرد سے عاری جس جانب بگٹٹ بھاگ رہے ہیں، اس کا ایک اندوہناک واقعہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے تاکہ شاید ہمیں کچھ کان ہوجائیں اور اگر ہم مدہوشی میں لپٹے ہوئے ہیں تو ہوش کی دنیا میں واپس لوٹ آئیں۔ یہ دردناک داستان امریکا کے ایک ایسے بچے کی ہے جس کا باپ کسی لڑکی کے ساتھ اپنی ہوس پوری کر کے معاشرے میں کہیں گم ہو چکا تھا، البتہ یہ بات طے تھی کہ اس عمل میں لڑکی کی اپنی مرضی وخوشی بھی شامل تھی۔ غیر قانونی بچے کو جنم دینے کے بعد لڑکی نے اسے ایک لاوارث سماجی ادارے میںڈال دیا تاکہ اولاد کے بکھیڑوں سے وہ یکسر آزاد رہے۔ امریکا میں اس طرز کے اداروں کو فوسٹر ہائوسز کہا جاتا ہے بلکہ اس طرح کے رضاکارانہ افعال کو بھی قانونی حیثیت حاصل ہے۔
چنانچہ بچہ اسی طرح ادارے میں پرورش پاتا اور پھلتا پھولتا رہا۔ یہاں اسے ہر قسم کی سہولت حاصل تھی، تاہم شعور آنے پر یہ سوال اسے تنگ کرنے لگا کہ اس دنیا میں ا سے لانے کے ذمے دار کون ہیں؟ باپ سے زیادہ فطری طورپر اسے ماں کی طلب رہتی تھی۔ کہاں ہے میری ماں؟ وہ مجھ سے ملنے کیوں نہیں آتی؟کیوں اس نے مجھے لاوارثوں کی مانند یہاں چھوڑ رکھا ہے؟ جھنجھلاہٹ، چڑچڑے پن اور انتقام کے جذبات رفتہ رفتہ اسے بے حال کرنے لگے۔ ادارے کی چار دیواری میں وہ توڑ پھوڑکرنے لگا۔ اپنے ساتھی بچوں اور نگراں شخصیات سے وہ کبھی کبھی چیخ چیخ کر باتیں کرتا۔ کبھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا اور کبھی ماں ماں کرکے کر کے سرد آہیں بھرتا۔ رفتہ رفتہ وہ آخر کار ایک نفسیاتی مریض بن گیا۔
حالات جب قابو سے باہر ہونے لگے اور بچہ ا ن سے نہیں سنبھلنے لگا تو ایک اچھے ماہر نفسیات سے رجوع کیا گیا جو اتفاق سے ایک پاکستانی مسلم ڈاکٹر تھے۔ ڈاکٹر نے اس کے ساتھ دوستی گانٹھنی شروع کردی تاکہ بچے کی اصل کہانی سامنے آسکے۔ اول اول تو بچے نے ڈاکٹر کو کوئی اہمیت نہیں دی لیکن ڈاکٹر کی مستقل مزاجی اور نرم رویے نے بچے کو رفتہ رفتہ اس سے بے تکلف کر دیا۔ ایک بار بچے نے، جو اب اٹھارا انیس سال کا ہوگیا تھا، دوستی دوستی میں ڈاکٹر کو جو کچھ بتایا، اسے پڑھ کر ہماری اپنی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ مناسب ہے کہ ہم بچے کی کہانی اس کے اپنے ا لفاظ ہی میں سنیں۔
جب میں بہت چھوٹا ہوتاتھا تو یہاں بہت خوش تھا۔ بچوں کے ساتھ کھیلتا، کھلونوں سے خوش رہتااور ادارے (فوسٹر ہائوس) کے تحت دورے کرتا۔ مجھے یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا تھا مگر جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا، مجھے سخت احساسِ محرومی نے گھیرنا شروع کر دیا۔ یہاں بعض بچوں کو تو اپنی مائوںکا پتہ ہوتا ہے اور کبھی کبھی وہ یہاں آبھی جاتی ہیں لیکن میری ماں؟ ڈاکٹر جب میں آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتا ہوں تو خود سے سوال کرتا ہوں کہ یہ آنکھیں کس کی ہیں؟ میری یا میرے ماں باپ کی؟ اور میری رگوں میں خون کس کا دوڑ رہا ہے؟ آپ ہی مجھے بتائیں ڈاکٹرکہ کیا مجھے یہ حق حاصل نہیںہے کہ میں جان سکوںکہ مجھے اس دنیا میںلانے کا ذمے دار کون ہے؟ آج میری کوئی پہچان نہیں ہے۔ اس بھری پری دنیا میں بالکل ہی تنہا فرد ہوں۔ بس یہی وہ سوالات ہیں جومجھے غصے اور انتقام میں بجھا ہوا بنا دیتے ہیں۔
ماہر نفسیات نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر لڑکے کا ایک ہی جواب تھا۔ مجھے میری ماں سے ملوا دو۔ مجھے انہوں نے جان بوجھ کر کیوں ٹھکرایا ہے؟ دوسرے بچوںکی مانند میں بھی چاہتا ہوں کہ میرے سر پر بھی باپ کا لمس بھرا ہاتھ ہو اور میں بھی کبھی ماں کی آغوش میں سر رکھ کے سوئوں۔ مگر کب؟ کیسے؟ اور کہاں؟ ڈاکٹر آپ ہی بتائیں کہ جب وہ میرا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے تو اس دنیا میں لے کر وہ مجھے آئے کیوں تھے؟ ایک بار اس نے کہا کہ مجھے اپنی گمنام ماں سے شدید محبت ہے۔ میں اسے چومنا چاہتا ہوں۔ اسے تحفے دینا چاہتا ہوں۔ اس کے ہاتھ سے کچھ لے کر کھانا چاہتا ہوں لیکن پھر ساتھ ہی غصے بھرے چہرے کے ساتھ گرج کر کہا کہ نہیں نہیں۔ مجھے اس سے نفرت ہے۔ میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔
باہر اپنے ہم عمر لڑکوں کو چلتا پھرتا اور قریبی پارک میں چھوٹے بچوں کو اپنی مائوں کے ساتھ کھیلتا کودتا دیکھتا تو اس کا دکھ اور بھی بڑھ جاتا۔ وہ سوچتا۔ میں اپنا دکھ کس پر ظاہر کروں؟ اور کون ہے جو مجھے خوشیوں کی بے ساختہ داد دے؟
عمر کے اس حصے پرپہنچ کر وہ ا یک عجیب و غریب بچہ بن گیا تھا۔ خوشی، غصہ، انتقام، ہنسی، اداسی، بے خوابی، بڑبڑاہٹ اور آنسو۔ ڈاکٹر کی پیہم کوششوں کے باوجود لڑکے کی نفسیاتی کیفیت درست نہیں ہوپارہی تھی۔ حالانکہ اسے بتا ہی دیا گیا تھا کہ تمہاری ماں نے اپنے مستقبل کو بچانے کی خاطر تمہیں یہاں رکھا ہے اور اب وہ دنیا کے سامنے آکر تمہیں اپنا وجود نہیں کہلوانا چاہتی، تاہم بچے کا بس ایک ہی اصرار ہوتا مجھے میری ماں سے ملوادو۔ اس سے ملنا میرا بنیادی حق ہے۔ مجھے میرے باپ کی بھی ایک جھلک دکھا دو کیونکہ باپ کو پانا بھی میرا حق ہے۔ وہ کہتا کہ اگر مجھے میری ماں مل جائے تو ممکن ہے کہ کرب سے گزارے ہوئے میرے ایام کی تلافی ہو جائے۔ پھر جب وہ کبھی بہت زیادہ منتقم مزاج بنتا تو لہجہ بدل کر کہتا کہ نہیں مجھے اپنی ماں سے نفرت ہے۔ اگر وہ کہیں مجھے مل جائے تو میںاسے سیدھے سیدھے گولی مار دوں گا۔
دارالامان فوسٹر ہائوس میں اگرچہ ہرنئے آنے والے بچے کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا لیکن اب انیس سال بعد اس کی ہسٹری کی تلاش مشکل ہوچکی تھی۔ (ڈیجیٹل دورسے پہلے کی بات ہے) تاہم لڑکے کی بڑھتی ہوئی طلب ِمامتا کے باعث اس کے کوائف کی چھان بین شروع ہوئی تو بالآخر اس کی ماں کی تفصیلات حاصل ہو گئیں۔ بچے کو فوسٹر ہائوس میں داخل ہی اس کی ماںنے کروایا تھا۔ ورنہ بچے کا باپ تو کہیںگم ہو چکا تھا۔ ریکارڈ میں ماں کا نام، عمر اور پتہ سب کچھ درج تھا۔ کئی سینئر ڈاکٹروں اور بعض پاپایانِ گرجا سے مشاورت کے بعد آخرکار طے پایا کہ بچے کی بگڑتی ہوئی حالت کے پیشِ نظر (جس میں وہ یاتو خودکشی کرلیتایا کسی دوسرے کی زندگی کو نقصان پہنچا دیتا) اسے اس کی ماں سے ملوا ہی دیا جائے، چنانچہ اس کی اطلاع صاحبزادے کو بھی دے دی گئی جس کے ساتھ ہی بچے کی ماں کو بھی اطلاع دے دی گئی جس نے مرض کی شدت کے باعث ڈاکٹر کو مجبوراً اپنے گھر آنے کی اجازت دی۔
ایک صبح پاکستانی ڈاکٹر دیے ہوئے پتے پر روانہ ہوگیا۔ یہ سفر بہت نیک مقصد کی خاطر کیا جا رہا تھا۔ کسی نوجوان کی دماغی حالت درست کر دی جائے اور اسے معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جائے۔ مکان پر پہنچ کر مذکورہ خاتون جو باقاعدہ شادی کر کے اب مسز نیلسن بن چکی تھی، ملاقاتی کمرے میں آئی۔ ڈاکٹر کی باتوں سے اسے تمام پرانی باتیں یاد آنے لگیں۔ مامتا کا بچھڑا ہوا جذبہ اس پر بھی حاوی ہونے لگا۔ اپنے بیٹے کی موجودہ حالت کے بارے میں سن کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے منہ کھولا اور کہامیں کتنی بدقسمت ہوں ڈاکٹر اپنے ہی بچے کو اپنا پیار نہ دے سکی لیکن ڈاکٹر اسے یہ بتا دینا کہ تمہاری طرح ساری زندگی تمہاری ماں بھی تمہاری یاد میں سسکتی رہی ہے۔ تمہیں نہیں معلوم ڈاکٹر، مگر میں بتاتی ہوں کہ کب کب میں نے اسے یاد نہیں کیا؟ کب اس کی یاد نے میرا دامن نہیں تھاما ہے؟ کب کب میں اس کے لئے پھوٹ پھوٹ کر نہیںروئی ہوں؟ مگر میرے بچے مجھے معاف کردینا کیونکہ تمہیں اپنے سے دور پھینک دینے کا مقصد میرا یہ تھا کہ اگر میں اپنی بدنامی کے داغ سے محفوظ رہوں تو تم بھی میرے بیٹے ہاں تم بھی اس سے محفوظ رہو۔ ڈاکٹر اسے یہ بھی بتانا کہ میں صرف یہی چاہتی تھی کہ اسے میرے ناپاک وجود کا علم نہ ہو۔ بس یہی سوچ کر میں نے اپنے دل پر بھاری پتھر رکھ لیا تھا۔ (جاری ہے)

