رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
امریکا کے معروف داعی اور مناظر اسلام شیخ عثمان بن فاروق گزشتہ کئی برسوں سے مغربی معاشروں میں دعوتِ اسلام کی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ اپنی تنظیم ون میسج فاونڈیشن ( Foundation Message One ) کے ذریعے امریکا، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں عوامی مقامات، جامعات، پارکوں اور سڑکوں پر اسلام کا پیغام پہنچانے، علمی مکالموں کے انعقاد، شکوک و شبہات کے ازالے اور قرآنِ مجید کا تعارف کرانے میں مصروف ہیں۔ اگرچہ انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں اور قاتلانہ حملے بھی ہوئے ہیں مگر وہ استقامت کے ساتھ دین کی دعوت میں مصروف ہیں۔ اُن کے دعوتی اسلوب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسلام کو حکمت، دلیل، حسنِ اخلاق اور براہِ راست مکالمے کے ذریعے پیش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہر سال بڑی تعداد میں لوگ اسلام سے متعارف ہوتے اور متعدد افراد مشرف بہ اسلام بھی ہوتے ہیں۔
سنہ 2022ءمیں قطر میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران بھی شیخ عثمان بن فاروق اور مختلف بین الاقوامی دعوتی اداروں نے اس عالمی ایونٹ کو دعوتِ اسلام کے ایک موثر موقع کے طور پر استعمال کیا۔ دوحہ اور دیگر مقامات پر خصوصی دعوتی مراکز قائم کیے گئے جہاں مختلف زبانوں میں قرآنِ مجید کے تراجم، تعارفی کتابچے اور اسلام کے بنیادی عقائد پر مبنی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے ہزاروں شائقینِ فٹبال سے براہِ راست گفتگو کی گئی، ان کے سوالات کے جواب دیے گئے اور اسلام کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں متعدد افراد نے اسلام قبول کیا، جبکہ عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی ان دعوتی کوششوں کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔
اب امریکا میں جاری فیفا ورلڈ کپ کے سلسلے میں بھی شیخ عثمان بن فاروق اپنی دعوتی ٹیم اور شاگردوں کے ہمراہ بھرپور انداز میں سرگرم ہیں۔ ان کی تنظیم ون میسج فاونڈیشن نے ’ورلڈ کپ دعوتی دورہ‘ ( Tour Dawah Cup World ) کے عنوان سے ایک خصوصی مہم شروع کی ہے جس کے تحت مختلف شہروں میں میچوں کے دوران اسٹیڈیمز کے باہر، عوامی پارکوں، تفریحی مقامات اور شائقین کے اجتماعات میں دعوتی کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔ ان مراکز پر آنے والوں کو اسلام کا تعارف پیش کیا جاتا ہے، قرآنِ مجید کے تراجم مفت فراہم کیے جاتے ہیں اور ہر مذہب و فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ کھلے ماحول میں علمی مکالمہ کیا جاتا ہے۔شیخ عثمان بن فاروق کی اسی دعوتی ٹیم سے وابستہ ایک نومسلم امریکی نوجوان جس نے خود بھی تحقیق کے بعد اسلام قبول کیا، ان سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ وہ نوجوان کہتا ہے:
”امریکا کے مختلف شہروں میں ورلڈ کپ کے آغاز سے اب تک چار سو سے زائد افراد اسلام قبول کرچکے ہیں اور یہ واقعی حیران کن بات ہے۔ کل ہم شیخ کے ساتھ بوسٹن کامنز میں موجود تھے، جہاں ہم لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے۔ سبحان اللہ! وہاں دس گیارہ افراد نے اسلام قبول کیا جبکہ اس سے ایک روز پہلے بھی تقریباً دس افراد نے کلمہ شہادت پڑھا تھا۔ میرے خیال میں اب مجموعی تعداد چار سو سے تجاوز کر چکی ہے۔“ وہ مزید کہتا ہے: ”آج بھی بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا یا مسلمانوں نے لوگوں کو زبردستی مسلمان بنایا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ لوگ برسوں سے اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے، غلط معلومات اور یک طرفہ بیانیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ جب انہیں پہلی مرتبہ کسی مسلمان سے براہِ راست بات کرنے، سوال پوچھنے اور اسلام کو اس کے اصل مصادر سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے تو ان کی بہت سی غلط فہمیاں دور ہوجاتی ہیں اور بعض لوگ اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کر لیتے ہیں۔“
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چار سو سے زائد افراد کے قبولِ اسلام کا یہ عدد شیخ عثمان بن فاروق کی دعوتی ٹیم کی جانب سے بیان کیا گیا ہے، جس کا مقصد جاری دعوتی سرگرمیوں کی وسعت اور نتائج کو واضح کرنا ہے۔ اس تعداد کی آزاد ذرائع سے الگ تصدیق موجود نہیں تاہم شیخ عثمان بن فاروق کی تنظیم مسلسل اپنی دعوتی سرگرمیوں کی تصاویر، ویڈیوز اور قبولِ اسلام کی متعدد جھلکیاں عوام کے سامنے پیش کرتی رہتی ہے۔
شیخ عثمان بن فاروق کا دعوتی انداز مغربی معاشروں میں خاص طور پر اس وجہ سے موثر سمجھا جاتا ہے کہ وہ اسلام کو دفاعی انداز میں نہیں بلکہ اعتماد، علمی استدلال اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ وہ بائبل، عیسائیت، الحاد اور دیگر فکری نظریات پر گہرا مطالعہ رکھتے ہیں اور مکالمے کے دوران مخالف نقطہ نظر رکھنے والے افراد کے سوالات تحمل اور احترام سے سنتے ہیں۔ ان کی متعدد عوامی گفتگووں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں اسلام پر سخت اعتراضات کرنے والے افراد طویل گفتگو کے بعد اسلام کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرتے یا مزید تحقیق کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اسلام میں ہدایت کا اصل سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ کوئی داعی، مقرر یا تنظیم کسی کے دل میں ایمان پیدا نہیں کر سکتی۔ قرآن کریم واضح کرتا ہے کہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے، جبکہ انبیائے کرام اور داعیانِ حق کا کام صرف پیغام کو حکمت، اخلاص اور حسنِ اخلاق کے ساتھ لوگوں تک پہنچانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوتِ اسلام کی حقیقی کامیابی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ لوگوں تک حق کا پیغام صحیح انداز میں پہنچ جائے۔
مغربی دنیا میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے بہت سے منفی تصورات کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ جب غیرمسلم تعصب سے ہٹ کر اسلام کا براہِ راست مطالعہ کرتے ہیں، قرآنِ مجید کا ترجمہ پڑھتے ہیں یا مسلمانوں سے کھلے ماحول میں گفتگو کرتے ہیں تو ان میں سے بہت سے افراد کی رائے تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوتِ اسلام کے میدان میں کام کرنے والے ادارے علمی مکالمے، حسنِ اخلاق اور براہِ راست رابطے کو سب سے موثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ شیخ عثمان بن فاروق اور ان کی ٹیم کی موجودہ سرگرمیاں بھی اسی حقیقت کی ایک مثال ہیں کہ عالمی کھیلوں کے اجتماعات صرف تفریح یا مقابلے کا میدان نہیں ہوتے بلکہ تہذیبوں، افکار اور مذاہب کے تعارف کا بھی ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر اس موقع سے حکمت، علم اور خیرخواہی کے ساتھ فائدہ اٹھایا جائے تو بہت سے دلوں تک حق کا پیغام پہنچ سکتا ہے اور یہی ہر داعی کی اصل کامیابی ہے۔

