رپورٹ:ضیاء چترالی
سعودی عرب مہبطِ وحی اور نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی مبارک سرزمین ہے۔ خیر و بھلائی کا مرکز۔
جہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے عرب معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا اور لاکھوں لوگوں کی آنکھیں نم کر دیں۔
یہ واقعہ قحطان قبیلے کے ایک معزز شخص سے متعلق ہے، جنہوں نے اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو قصاص سے صرف چند گھنٹے قبل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کر دیا۔
10 فروری 2019ء کو جدہ شہر کے مشرقی علاقے الحمدانیہ میں ایک اجتماعی جھگڑے کا واقعہ پیش آیا، جس میں نوجوان احمد القريقري الحربي جاں بحق ہوا۔
عدالتوں میں مقدمہ چلا، شواہد اور گواہوں کی روشنی میں مترك عایض المسردي القحطاني پر قتل کا جرم ثابت ہوا اور اس کو قصاص کی سزا سنائی گئی۔
برسوں کی قانونی کارروائی کے بعد بالآخر سزائے موت کے نفاذ کا وقت مقرر ہو گیا۔ قاتل کے اہل خانہ اور قبائلی عمائدین مسلسل مقتول کے والد سے رابطے میں رہے اور انہیں قصاص معاف کرنے کے لیے مختلف مالی پیشکشیں کی جاتی رہیں۔
جدہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ مترك القحطانی کی جانب سے حميد القريقري کو لاکھوں ریال کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے ہر قسم کی مالی ترغیب کو مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بیٹے کے خون کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔
جب قصاص کے نفاذ میں صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے تو وہ خود چل کر قاتل کے گھر پہنچ گئے اور اعلان کر دیا کہ وہ قاتل کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے اجر کی امید میں معاف کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں ایک ریال بھی قبول نہیں کریں گے۔ یہ سن کر قاتل کی ماں ان کے پاؤں میں گر گئی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قاتل اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا ہے۔
اس واقعے کو مزید غیر معمولی اس لیے سمجھا گیا کہ انہوں نے نہ صرف قصاص کا حق چھوڑا بلکہ وہ مالی معاوضہ بھی قبول نہیں کیا جو شرعی اور قانونی طور پر مقتول کے ورثاء کو دیا جا سکتا تھا۔
سعودی عرب میں قتل عمد کے مقدمات میں اگر اولیائے دم قصاص سے دستبردار ہو جائیں تو دیت وصول کی جا سکتی ہے۔ موجودہ عدالتی نظام کے مطابق قتل عمد میں دیت کی مقدار تقریباً چار لاکھ (400,000) سعودی ریال سمجھی جاتی ہے، جبکہ قتلِ خطا کی دیت تین لاکھ (300,000) سعودی ریال ہے۔ لیکن مترك القحطانی نے نہ قصاص لیا، نہ دیت لی اور نہ ہی کسی قسم کا مالی معاوضہ قبول کیا۔ انہوں نے قاتل کی جان بخشی کو اپنی آخرت کا سرمایہ بنا لیا۔
اسے عربی روایات میں مروّت، نخوت، حلم اور عفو و درگزر کی ایک نادر مثال سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایک باپ اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو تختۂ دار پر دیکھنے کا پورا حق رکھتا تھا، اس نے انتقام کے بجائے درگزر کو ترجیح دی۔
یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں اس واقعے کو شہامت، اخلاق اور اسلامی تعلیماتِ عفو کا ایک روشن نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بلاشبہ اپنے بیٹے کے قاتل کو معاف کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، لیکن جو لوگ ایسا کر گزرتے ہیں وہ معاشروں میں صرف ایک فرد کو زندگی نہیں دیتے بلکہ رحم، درگزر اور انسانیت کی ایسی مثال قائم کر جاتے ہیں جو نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہے۔

