سائنسی جریدے (ایڈوانسِز اِن نیوٹریشن)میں شائع ہونے والی ایک نئی تجزیاتی تحقیق جس میں 8 سے 19 سال عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ذ ہنی کارکردگی اور تعلیمی کامیابی پر خوراک کے اثرات کا جائزہ لینے والی 73 مختلف مطالعات کے نتائج کو یکجا کیا گیا، اہم اور مؤثر نتائج سامنے لائے ہیں۔
تحقیق کے مطابق زندگی کے ابتدائی برسوں، خصوصاً شیر خوارگی کے دوران غیر صحت مند غذائی عادات، نوجوانی میں ذہانت اور ذہنی صلاحیتوں پر طویل المدتی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
محققین کے مطابق، کم عمری میں مناسب غذائیت جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ دماغی ترقی اور تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یہ تبدیلیاں جزوی طور پر بلوغت کے دوران ہارمونز اور اینڈوکرائن نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے زیرِ اثر ہوتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سوانزی یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی پروفیسر ہیلے یونگ، جو اس تحقیق کی مرکزی محقق بھی ہیں، نے کہاہے کہ سب سے اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ ذ ہنی صحت اور ادراکی صلاحیتوں کی بنیاد بہت ابتدائی عمر میں ہی رکھی جاتی ہے۔
اُن کے مطابق زندگی کے ابتدائی برسوں میں ناقص غذائیت کا تعلق بعد میں، یعنی نوجوانی کے دور میں، ذہانت کی سطح میں کمی سے دیکھا گیا ہے اور یہ اثر اس وقت بھی برقرار رہتا ہے، جب دیگر متعدد اثر انداز ہونے والے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

