ہمارے ملک میں جبری گمشدگی یا لاپتہ افراد کا مسئلہ نہایت پیچیدہ ہوتا چلا جا رہا ہے، روز بروز لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور بالخصوص ملک کے دور دراز علاقوں سے نوجوانوں کو غائب کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو ان کے گھروں سے یا باہر کسی بھی جگہ سے اٹھا لیا جاتا ہے اور غائب کر دیا جاتا ہے۔ ان کے گھر والوں کو بھی اطلاع نہیں دی جاتی اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں ہیں۔ وہ ایسے غائب ہوتے ہیں کہ برسوں ان کا پتہ نہیں چلتاکہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ اس لیے ان کے گھر والے ان کے خاندان والے برسوں ان کی راہیں تکتے رہتے ہیں، انہیں تلاش کرتے رہتے ہیں ان کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔
ملک میں جب بھی لاپتگی کا تازہ واقعہ رونما ہوتا ہے، پچھلے سارے واقعات پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔ ان دنوں شاعر احمد فرہاد کا کیس بھی اس پورے المیے کو دوبارہ تازہ کیے ہوئے ہے۔ جب گھر کا کوئی فرد کوئی اپنا پیارا اچانک غائب ہو جائے تو اس کے رشتہ دار تو اس کو تلاش کریں گے اور وہ تب تک تلاش کرتے رہیں گے جب تک وہ مل نہیں جاتا یا یہ خود ختم نہیں ہو جاتے۔ کچھ نوجوان تو چند برس کو تحویل میں رہ کر رہا ہو جاتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کبھی واپس نہیں آتے۔ ان کے والدین ان کے بہن بھائی تلاش کرتے رہتے ہیں، کبھی ایک ادارے میں جاتے ہیں، کبھی دوسرے ادارے میں جاتے ہیں، کبھی عدالتوں میں کیس کرتے ہیں، کبھی کسی اعلی شخصیت کے پاس جاتے ہیں، کوئی ایسا در نہیں چھوڑتے جہاں سے انہیں کچھ امید ہو۔ ہر جگہ جاتے ہیں، ہر ایک کے پاس جاتے ہیں، ہر احتجاج اور ہر ہڑتال میں شریک ہوتے ہیں، ہر احتجاجی کیمپ میں پہنچ جاتے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے کیوں نہ طے کرنا پڑیں، یعنی اپنی طرف سے وہ پوری کوشش کرتے ہیں، اپنی زندگیاں برباد کر دیتے ہیں تاکہ کسی طرح ان کے پیارے انہیں واپس مل جائیں۔ ان کے والدین انہیں تلاش کرتے کرتے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں، آخری دم تک انہیں پکارتے رہتے ہیں، انہیں آوازیں دیتے رہتے ہیں لیکن وہ ہوں تو ان کے پاس آئیں۔
اب جبری گم شدگیوں یا لاپتہ افراد کے پیچھے کون لوگ ہیں اور کون اس گھناونی سازش یا حرکت میں ملوث ہے؟ اس کے بارے میں عوام تو نہیں جانتے لیکن لاپتہ افراد کے لواحقین کی زبانی جو سنا گیا ہے وہ یہاں بیان کرنا ضروری ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں کے حوالے سے ایک کیمپ لگایا گیا جس میں گمشدہ افراد کے لواحقین شریک ہوئے اور انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ وہاں چند لوگوں کی زبانی یہ سنا گیا کہ سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں بندوق بردار افراد آتے ہیں اور گھروں سے نوجوانوں کو اٹھا کر نامعلوم مقام کی طرف لے جاتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہمارے بچوں کو اس طرح اٹھائیں گے اور غائب کریں گے تو کیا ہم ان سے محبت کریں گے یا ہم ان سے نفرت کریں گے اور یہ نفرت ہونا فطری سی بات ہے کہ جب ہمارے سامنے ہمارے بچوں کو اٹھائیں گے، ہماری چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کریں گے تو ہم ان کے ساتھ محبت کیسے کر سکتے ہیں؟ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ جبری گمشدگیوں یا لاپتہ افراد کے پیچھے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نام بار بار آ رہا ہے، جو بڑی افسوسناک بات ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ جنہیں اٹھایا جاتا ہے، اگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں تو یقینا انہیں سزا ملنی چاہیے، انہیں گرفتار بھی کرنا چاہیے۔ ہم نے دہشت گردی میں بہت زیادہ نقصان اٹھایا، ملکی معیشت کا نقصان علیحدہ ہوا اور انسانی جانوں کا ضیاع علیحدہ ہوا جس کی کبھی تلافی نہیں ہو سکتی۔ بہت سے گھرانے برباد ہو گئے، ہنستے بستے گھر دہشت گردی کی نذر ہو گئے، جس کی وجہ سے ہم اس دہشت گردی سے بہت زیادہ تنگ آ چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دہشت گردی ملک سے ختم ہو لیکن اس کے لیے قانونی طریقہ اپنانا ناگزیر ہے، ہمارے ملک میں قوانین موجود ہیں، جن لوگوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شک ہو انہیں قانونی طریقے سے گرفتار کرنے کے عدالتوں میں پیش کیا جائے ان کے اوپر الزام ثابت کر کے انہیں تحویل میں لیا جائے اور اس کے بعد انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے، ان کے گھر والوں کو اطلاع کر دی جائے کہ آپ کے بچہ یا بھائی ہماری تحویل میں ہے اور اس پر یہ جرم ثابت ہوا ہے، یوں کم از کم وہ در در کی ٹھوکریں تو نہیں کھائیں گے انہیں یہ تو معلوم ہوگا کہ ہمارا بچہ کہاں ہے۔
جبری گمشدہ لوگوں کے لواحقین نے یہی کہتے ہیں کہ ہم یہ چاہتے ہیں ان کے ساتھ قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے، انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، عدالتیں کس لیے بنی ہیں، عدالتوں میں پیش کر کے ان پر مقدمہ چلایا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اس سلسلے میں اگر عدالتوں پر بھروسا نہیں اور قانون میں کوئی سقم ہے تو قانون سازی کے ذریعے اس مسئلے کا حل موجود ہے۔
اس طرح کم از کم وہ لوگ درد بدر کی ٹھوکریں کھانے سے تو بچ جائیں گے۔ انہیں معلوم ہوگا کہ ہمارے بچے پولیس کے پاس ہیں، فوج کے پاس ہیں، عدالت میں ہیں یا جیل میں۔ اس سے انہیں تسلی ہوگی کہ وہ کہاں ہیں۔ اب تو انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں؟ اس لیے وہ بیچارے کبھی کہاں تلاش کرتے ہیں تو کبھی کہاں تلاش کرتے ہیں اور اسی طرح ان کے والدین بوڑھے ہوتے ہیں، اکثر اور وہ اپنے بچوں کو یاد کر کر کے آنسو بہاتے رہتے ہیں اور اسی فراق میں دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے کیمپ میں ایک بچی نے کہا تھا میرا بھائی اور میرا کزن دونوں کو لاپتا کیا گیا اور میرے کزن کی والدہ کا چار مہینے قبل انتقال ہوا، آخری وقت وہ کلمے کی بجائے اپنے بیٹے کو پکارتی رہیں اور خواہش کرتی رہیں کہ کاش ایک بار میں اپنے بیٹے کو دیکھ لیتی۔ مجھ سے اس کی جدائی کا صدمہ برداشت نہیں ہو رہا اور یوں بیٹے کو پکارتے پکارتے وہ دنیا سے چلی گئیں۔ یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو اداروں کے بارے میں عوام کے دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہیں جو ملکی ساکھ اور سا لمیت کے لیے نہایت مضر ہے۔ اس لیے اداروں کو چاہیے کہ ایسے قوانین وضع کریں جن کے ذریعے دہشت گردی بھی ملک سے ختم ہو جائے اور لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کا معاملہ بھی حل ہو جائے۔

