اسلام آباد:پاکستان میں بچت کی شرح30سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ پاکستانی عوام ہر100روپے آمدنی میں سے صرف 6روپے بچا رہے ہیں۔
یہ انکشاف پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ)کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں پائیڈ نے آئندہ مالی سال27-2026 ء کے وفاقی بجٹ میں قومی بچت مہم شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے طویل مدتی بچت اسکیموں پر دوبارہ ٹیکس مراعات دینے، چھوٹے بچت کنندگان کے تحفظ، قومی بچت مصنوعات کی ڈیجیٹل رسائی بڑھانے اورسالانہ سیونگز موبلائزیشن ڈیش بورڈ بنانے کی تجاویز دیدی ہیں۔
پائیڈ کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کم بچت کی شرح ملک میں سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دے سکتی ہے اور معیشت کو بار بار بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف پروگراموں کی طرف دھکیل رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی عوام ہر100روپے آمدن میں صرف6روپے بچا رہے ہیں جبکہ مہنگائی اور کم منافع کے باعث عوام کا رجحان بینکوں کے بجائے سونا،جائیداد اور نقدی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی بچت کی شرح 6.4 فیصد ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ21 فیصد، بھارت میں28 فیصد اور ویتنام میں تقریباً30 فیصد کے قریب ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ حکومت کی زیادہ قرض گیری نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ دوسروں کے پیسوں سے مستقبل چلانے کا ماڈل مزید نہیں چل سکتا،بچت کو محفوظ،منافع بخش اورآسان بنایا جائے تو پاکستانی زیادہ بچت کریں گے۔

