روضہ رسولۖ پر حاضری کیسے دیں؟

حج مکمل ہوچکا اور لاکھوں حاجیوں کی اگلی منزل دیار حبیب، روضہ رسول ۖاور ریاض الجنہ میں حاضری ہے۔ فقہ حنفی کی معروف کتاب ‘الاختیار لتعلیل المختار’ ہاتھ آئی تو ورق گردانی کے دوران روضۂ اقدس پر حاضری کے آداب دکھائی دیے۔ چھٹی صدی ہجری کے امام عبداللہ بن محمودالموصلی کی لکھی اس کتاب کو فقہ حنفی کے متون اربعہ یا چار بنیادی کتابوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں روضۂ انور پر حاضری کے آداب کا خلاصہ پیش خدمت ہے:

جو شخص حج کرچکا ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حاضری دے۔ اس حاضری کو فقہائے کرام نے افضل ترین مستحبات میں سے قرار دیا ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرے روزے پر حاضری دی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے میری دنیا سے رخصت ہونے کے بعد میرے روزے کی زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ اسی طرح فرمان نبوی ۖہے: جس شخص نے حج کیا، لیکن میری زیارت نہیں کی بلاشبہ اس نے مجھ سے بے رخی برتی۔ لہٰذا حج کے سفر میں مدینہ منورہ بھی ضروری حاضری دیں۔ جب آپ مدینہ منورہ جانے کا ارادہ کریں تو درود شریف کثرت سے پڑھنا شروع کر دیں اور یہ ذہن میں رکھیں کہ یہ سارا دُرود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جارہا ہے۔ جب مدینہ منورہ کے بلڈنگز دکھائی دینا شروع ہو جائیں تو دعا بڑھا دیں۔ درود شریف کی کثرت کریں اور یہ دعا پڑھیں: اے اللہ! یہ تیرے نبی کا مقدس حرم ہے یہاں کی حاضری کو میرے لیے جہنم سے خلاصی کا ذریعہ بنا دے۔ عذاب سے حفاظت کا سبب بنا دے اور برے حساب کتاب سے بچاؤ کا وسیلہ بنا دے۔ مدینہ منورہ آنے سے پہلے غسل کر لیں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے بعد روضہ اقدس پر حاضری سے پہلے غسل کر لیں۔ اچھی خوشبو استعمال کریں، سب سے بہترین کپڑے زیب تن کریں۔ جب مسجد میں نبوی کی طرف روانہ ہوں تو تواضع، عاجزی اور انکساری کے ساتھ جائیں۔ اپنی چال، ڈھال میں سکینت اور وقار پیش نظر رکھیں اور یہ دعا پڑھیں: بسم اللہ وعلیٰ ملة رسول اللہ۔ پھر یہ آیت پڑھے:

ربِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَ جَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا (سورہ بنی اسرائیل: 80)

مسجد نبوی میں پہنچ کر سب سے پہلے دو رکعت نماز ادا کریں۔ اس کے بعد سجدہ شکر کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے کی زیارت نصیب کی ہے اور پھر دل میں جتنی دعائیں ہیں وہ مانگ لیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے کی زیارت کے لیے روانہ ہو جائے۔ روضہ رسولۖ پر پہنچے تو زیادہ آگے ہونے اور قریب جانے کے بجائے ادب سے دور کھڑا رہے۔ روضہ رسول ۖ کی جالیوں اور دیواروں پر ٹیک لگانے کی کوشش نہ کریں اور ادب سے یوں کھڑا رہے جیسے کسی بہت بڑے دربار میں حاضری ہورہی ہے اور اپنے ذہن میں یہ تصور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضہ اقدس میں کھڑے ہیں اور میرے دُرود و سلام کو سن رہے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو شخص میری قبر پر حاضر ہو کر دُرود شریف پڑھتا ہے، میں اسے سنتا ہوں”۔ اس کے بعد یہ کہے: السلام علیک یارسول اللہ۔ السلام علیک یانبی اللہ۔ السلام علیک یاصفی اللہ۔ السلام علیک یاحبیب اللہ۔ السلام علیک یانبی الرحمة۔ پھر یہ کہے کہ یارسول اللہ آپ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، اپنی امت کو نصیحت فرمائی اور حجت تام کردی، اللہ کے راستے میں جہاد فرمایا اور دنیا سے رخصت ہونے تک دین کے تحفظ کے لیے برسر پیکار رہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی روح، آپ کے جسد اطہر اور آپ کے روضے پر قیامت تک دُرود و سلام بھیجتا رہے۔ اے اللہ کے نبی! ہم تیری زیارت کے لیے آنے والے مسافر ہیں، تیرے روضے کے زائرین ہیں، دُورافتادہ شہروں سے سفر کرکے آئے ہیں، تیرا حق ادا کرنا چاہتے ہیں، آپ کے آثار دیکھنا چاہتے ہیں، آپ کی بابرکت زیارت سے فیضیاب ہونا چاہتے ہیں اور اپنے رب کے دربار میں آپ کی شفاعت کے طلب گار ہیں۔ گناہوں نے ہماری کمر توڑ دی ہے، خطاؤں نے ہمارے کندھوں کو بوجھل کر دیا، ہماری سفارش کرنے والے آپ ہی ہیں، آپ کی ہی سفارش قبول کی جائے گی، آپ کو ہی شفاعت کا حق ملے گا اور مقام محمود آپ ہی کا منتظر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:

وَ لَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا اَنْفُسَہُمْ جَآئُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَ اسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا

اے اللہ کے نبی! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر کے حاضر ہوئے ہیں، اپنے گناہوں پر توبہ کے طلب گار ہیں، اپنے رب کے دربار میں آپ کی سفارش کے خواست گار ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ آپ کے راستے پر ہی ہمیں موت دے اور قیامت میں آپ کے ساتھ ہی ہمارا حشر فرمائے۔ آپ کے حوض پر ہمیں حاضری کی توفیق دے اور آپ کے ہاتھ سے جام کوثر نصیب فرمائے۔ ہمیں کوئی رسوائی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اے اللہ کے نبی! شفاعت کردیجئے۔ شفاعت کیجیے۔ ہماری سفارش کر دیجئے۔

اس کے بعد اگر کسی دوسرے شخص نے درخواست کی ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے پر ہمارا سلام عرض کر دیں، تو وہ سلام اس طرح سے عرض کریں: السلام علیک یا رسول اللہ فلاں بن فلاں کی طرف سے۔ وہ آپ سے رب کے دربار میں سفارش کا طلب گار ہے، اس کی بھی شفاعت کر دیجئے اور سارے مسلمانوں کی شفاعت کردیجئے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضے پر حاضر ہو اور کہے: السلام علیک یا خلیفة رسول اللہ۔ السلام علیک یا صاحب رسول اللہ۔ السلام علیک یا رفیق النبی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آپ ان کے بہترین خلیفہ ثابت ہوئے، ان کے راستے پر چلے اور مرتدین کے خلاف قتال کیا۔ اسلام کی حفاظت کی اور اپنے انتقال تک اللہ کے دین کے مددگار اور حامی و ناصر رہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے روضے پر حاضر ہو کر کہے: السلام علیک یا امیرالمومنین، اے بتوں کو توڑنے والے، اے اسلام کو عزت دلانے والے، اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے اور آپ کو اپنا خلیفہ نامزد کرنے والے سے بھی راضی ہو جائے۔ آپ نے اسلام اور مسلمانوں کی مدد فرمائی، یتیموں کی کفالت کی، صلہ رحمی کی اور اسلام کو مضبوط کیا۔ آپ مسلمانوں کے پسندیدہ خلیفہ تھے، ہدایت پانے والے اور ہدایت پھیلانے والے تھے۔ آپ نے مسلمانوں کو متحد کیا، ان کی غربت کو دور کیا، ان کی کمزوری کو طاقت میں بدل دیا۔

اس کے بعد دو قدم پیچھے ہٹ جائے اور کہے: اے اللہ کے نبی کے دونوں ساتھیو، وزیرو، مشیرو اور مدد گارو! آپ پر سلام ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کاوشوں پر بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ ہم آپ دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں اپنا وسیلہ بناتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری شفاعت فرمادیں۔ ہمیں اسلام پر جینے اور مرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! مستحب ہے کہ روضہ رسول پر حاضری کے بعد جنت البقیع میں بھی حاضری دیں۔ اسی طرح اُحد کے شہدائے کرام کی قبروں پر جمعرات کے دن جانا بھی مستحب ہے۔