غزہ لہولہو،72ہزارشہادتیں،لاشوں پر صہیونی اہلکاروں کا جشن

غزہ/تل ابیب:گزشتہ پونے تین سال سے غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جاری جنگ میں شہادتوں کی تعداد72 ہزار 939 تک پہنچ گئی ہے۔

غزہ میں کام کرنیوالی فلسطینی وزارت صحت کے مطابق7 اکتوبر2023 سے اب تک ایک 72 لاکھ 927 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ بھر کے اسپتالوں میں اسرائیلی حملے سے شہید ہونے والی کی لاش اور 8 زخمی افراد لائے گئے۔

فلسطینی وزارت صحت نے مزید کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر مبنی حملوں میں اب تک 930 فلسطینی شہید اور 2 ہزار 819 زخمی ہو چکے ہیں۔

ادھرغزہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں عام فلسطینیوں کا قتل معمول بن گیا۔امریکی خبر رساں ادارے کو سابق اسرائیلی فوجیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے۔

اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں کو غزہ کے دیگر حصوں سے الگ کرنے والی نام نہاد ”یلو لائن” کے قریب آنے والے ہر فلسطینی پر گولی چلانا اور فلسطینیوں کے قتل کا جشن منانا عام بات ہے۔اس کے علاوہ جنگ بندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک فوجی نے مزید بتایا کہ اسے جنگ بندی کہنا مذاق ہے۔

ایک فوجی نے بتایا کہ ایک موقع پر انہوں نے فلسطینیوں سے بھری ایک گاڑی پر حملہ کر کے اس میں سوار ہر فرد کی ہلاکت کا جشن منایا۔ فوجی نے کہا کہ ”وہ ایک جنگل کا ماحول تھا”۔اسرائیلی فوجیوں میں یہ احساس عام تھا کہ فلسطینی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں۔