عید الاضحی۔ امت مسلمہ کے لیے ایک پیغام

آج عید الاضحی ہے اور عالم اسلام کے دیگر حصوںکی طرح پاکستان کے مسلمان بھی اس موقع پر قربانی کا فریضہ ادا کرکے جد الانبیاءسیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کر رہے ہیں جسے بجا طور پر انسانی تاریخ کے ایک انوکھے اور اپنی نوعیت کے بے مثال واقعے کے طورپر یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کی عظمت کے بیان کے لیے یہ امر ہی کافی ہے کہ خود خداوند تعالیٰ نے اپنے مقدس کلام میں اسے ایک واضح آزمائش سے تعبیر کیا ہے اور اس آزمائش پر پورا اترنے پر اپنے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ہدیہ سلام پیش کیا ہے۔ اپنے فرمانبردار، اطاعت شعار اور معصوم پیارے بیٹے کی گردن پر محض اللہ کے حکم پر چھری پھیرنے کا واقعہ واقعی ایک ایسا واقعہ تھا جس پر زمین و آسمان بھی حیران تھے اور یہ ایک ایسا امتحان تھا جس کا سامنا کرنا کسی عام انسان کے بس کی بات نہ تھی لیکن سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے سعادت مند فرزند سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام نے نہ صرف اس امتحان کا سامنا کیا بلکہ اس میں کچھ اس طرح سے کامیاب اور سرخرو ہوئے کہ خدا وند تعالیٰ نے ان کی اس کامیابی کے اعزاز کو رہتی دنیا تک برقرار رکھنے کا انتظام فرمایا، آج دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہوگا جہاں ان کی اس بے مثال قربانی کی یاد تازہ نہ کی جاتی ہو۔
اس عظیم قربانی پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ منفرد اعزاز بھی بخشا کہ ان کی ذریت میں نبوت کا سلسلہ طیبہ جاری فرمایا جس کی انتہاءخاتم النبیین حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی اور جس نے ہر دور میں عالم انسانیت کو رشد و ہدایت کی راہوں سے آشنا کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ملت ابراہیم کو شرک و بدعت کی آلائشوں سے پاک کرکے دوبارہ ایک ایسی زندہ و جاوید لت میں تبدیل کردیا جس کے سر پر خیر الامم کا تاج سجایا گیا اور جسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی اضافی ذمہ داریوں کے ساتھ قیامت تک آنے والے انسانوں کی قیادت و امامت کا امتیازی شرف عطا کیا گیا۔
امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰة والسلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرنے کا صرف رسمی یا جذباتی طورپر اہتمام نہیں کیا بلکہ شریعت محمدیہ نے اسے باقاعدہ ایک مذہبی فریضے کا درجہ دے کر ہر صاحب استطاعت مسلمان پر واجب قرار دیا تاکہ حالات کی تبدیلی پر زمانے کے تغیر و تبدل سے امت مسلمہ قربانی کے اسی جذبے اور سیرت کو فراموش نہ کردے جس کا مظاہرہ ابتلا اور آزمائش کے لمحات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا۔ اگر غور کیا جائے تو قربانی کا فلسفہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی آزمائشوں اور امتحانات میں وہی نسخہ استعمال کریں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا کہ امتحان کی ہر گھڑی اور ہر لمحے میں ہر قسم کے خونی، خاندانی، لسانی اور قومی رشتوں، ہر قسم کے ذاتی تعلقات، خواہات، قرابت داریوں، ہر قسم کے ماحولیاتی اثرات، عقل و خرد کی ہر قسم کی فسوں کاریوں اور ہر قسم کے حالات وواقعات سے بے نیاز ہوکر صرف اور صرف اللہ کے حکم کی پاسداری اور رب تعالیٰ کی رضا جوئی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو دنیا کی تمام تر محبتوں، واسطوں اور ناطوں سے مقدم رکھی۔
امسال عالم اسلام میں عید الاضحی ایک ایسے ماحول میں منائی جارہی ہے جب سرزمین انبیاءفلسطین کی قربان گاہ میں گزشتہ تقریباً تین برسوں میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں،معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اسلام کی عظمت اور القدس کی حرمت کی خاطر قربانیاں دینے کی روایت کا احیا کیا اور پوری دنیائے انسانیت کو ہمت و عزیمت کا درس یاد کرادیا ہے۔اگر چہ صہیونی درندوں کی جانب سے بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے اور اس میں ۳۷ ہزار سے زاید مسلمانوں کا خون بہایا گیا ہے اور غزہ کی پٹی کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے، ایٹم بم کے علاوہ جدید دنیا کا کوئی ایسا مہلک ہتھیار نہیں ہے جو غزہ کے محصور عوام پر نہ آزمایا گیا ہو مگر یہ امر پوری دنیا کے لیے باعث حیرت ہے کہ ناجائز صہیونی ریاست اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی فلسطینی مسلمانوں کے عزم اور حوصلے کو نہیں توڑ سکی اور فلسطینی مسلمان اس وقت بھی اپنی سرزمین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غزہ کی جنگ نے ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کو دنیا کے سامنے کچھ اس طرح بے نقاب کردیا ہے کہ اب صہیونیت ایک بار پھر دنیا کی مبغوض ترین اصطلاح بنتی جارہی ہے اور صہیونیوں کے لیے دنیا میں چھپنے کی جگہیں کم ہوتی جارہی ہیں۔صہیونی لابی نے فلسطین کے قضیے سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے رواں سال امریکا کے صہیونیت نواز صدر ٹرمپ کے ذریعے ایران پر حملہ کروادیا جس کا ایک مقصد ایران اور خلیجی ممالک کو باہم متصادم کرواکر گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرنا تھا مگر مقام شکر ہے کہ عرب واسلامی ممالک صہیونی لابی کی چال میں نہیں آئے اور انہوں نے ایران کے حملوں کے باوجود ضبط و تحمل سے کام لیا،جس کے نتیجے میں امریکا اور اسرائیل کی سازشیں ناکام ہوئیں۔اب امریکا پاکستان سمیت عرب و اسلامی ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے اور نام نہاد ابراہیم اکارڈ میں شامل ہونے کے لیے دباو¿ ڈال رہا ہے تاہم توقع رکھی جانی چاہیے کہ اسلامی ممالک اس دام فریب میں بھی نہیں آئیں گے اور فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
اس تناظر میں امت مسلمہ کے لیے عید قربان کا پیغام یہی ہے کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کے لیے پوری دنیا کے مسلمانوں کو فلسطینی عوام کی طرح ، ہمت، جرا¿ت، عزیمت ، قربانی اور حوصلے کا علم بلند کرنا ہوگا اور جہاں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے، یا ان کی سرزمین پر قبضہ کیا گیا ہے، وہاں کے مسلمانوں کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ فی الوقت پوری دنیا کے مسلمانوں کو فلسطینی مسلمانوں کی جدوجہد کی ہر ممکن طریقے سے حمایت کرنی چاہیے۔ دنیا بھر کے مسلمان نوجوانوں کو اپنے مظلوم بھائیوں تک امداد پہنچانے کے لیے ارض فلسطین پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ مخیر مسلمانوں کو فلسطینیوں تک مالی امداد پہنچانے کے لیے معتبر ذرائع استعمال کرنے چاہئیں اور کم سے کم درجے میں تمام مسلمانوں کو ان تمام کمپنیوں کا مکمل اور مستقل بائیکاٹ کرنا چاہیے جن کا سرمایہ فلسطینیوں کے قتل عام کے لیے اسرائیل کی مدد یا اس کو اسلحے کی فراہمی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ جنگ صرف فلسطینیوں کی جنگ نہیں ہے بلکہ پورے عالم اسلام کی جنگ ہے، اس سے بھی بڑھ کر یہ بہیمیت اور سفاکیت کے خلاف انسانیت کی جنگ ہے۔