نوکریاں ختم جمع پونجی ضبط” یو اے ای سے سینکڑوں پاکستانیوں کی اچانک ملک بدری”

پاکستان کے مختلف دیہاتوں میں ان دنوں ایک عجیب اداسی اور پریشانی کا ماحول ہے۔ یہاں کے 100 سے زائد ایسے محنت کش نوجوان اچانک اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں جن کے پاس نہ تو ان کی نوکریاں بچی ہیں، نہ وہ اپنا سامان ساتھ لا سکے اور نہ ہی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی نکال پائے ہیں جو انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں دن رات ایک کر کے جمع کی تھی۔

یہ لوگ ان ہزاروں پاکستانی شہریوں میں شامل ہیں جنہیں ایران جنگ کے دوران یو اے ای سے اچانک ملک بدر کر کے پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس غیر متوقع اقدام نے پاکستانی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے بھی اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے  نے ایسے 103 پاکستانیوں کی امیگریشن دستاویزات، ویزا اسٹیٹس کے اسکرین شاٹس اور پروازوں کی تفصیلات کا جائزہ لیا ہے جنہیں وہاں سے نکالا گیا، اور ان میں سے 24 افراد کا ذاتی انٹرویو بھی کیا گیا ہے۔

انٹرویو دینے والے ہر شخص نے بتایا کہ فلائٹ میں بٹھانے سے پہلے انہیں اپنا ذاتی سامان اٹھانے یا بینکوں میں موجود اپنی بچت کی رقم نکالنے کی بالکل اجازت نہیں دی گئی اور انہیں درجنوں دیگر ہم وطنوں کے ساتھ جہاز میں بٹھا کر واپس بھیج دیا گیا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یو اے ای کی حکومت نے کس قانون یا معیار کے تحت ان پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے چنا۔ رائٹرز کے مطابق، اس حوالے سے یو اے ای کی وزارتِ خارجہ سے جب سوالات پوچھے گئے تو انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔