انسان کی زندگی دراصل وقت کے چند سانسوں کا نام ہے۔ یہی وقت کسی کے لیے نجات کا وسیلہ بن جاتا ہے اور کسی کے لیے حسرت و محرومی کا عنوان۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں رحمت سے سال کے بعض دنوں، راتوں اور مہینوں کو ایسی خاص فضیلت عطا فرمائی ہے جن میں نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ بندہ تھکے ہوئے دل کو پھر سے بیدار کرے، عبادت کی طرف لوٹے، اپنے گناہوں کی تلافی کرے اور آخرت کی تیاری کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام میں ‘مواسمِ طاعت’ کی بڑی اہمیت ہے۔ رمضان، شبِ قدر، یومِ عرفہ اور عشرہ ذوالحجہ ایسے ہی روحانی موسم ہیں جو انسان کو اللہ کے قریب لانے کے لیے عطا کیے گئے ہیں۔ خوش نصیب وہ ہے جو ان لمحات کی قدر پہچان لے، کیونکہ بعض اوقات زندگی کی ایک سچی توبہ، ایک خالص دعا اور ایک آنسو انسان کی پوری تقدیر بدل دیتے ہیں۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ترجمہ: ”اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں یقین آجائے۔” مفسرین نے یہاں ”یقین” سے مراد موت لی ہے۔ گویا بندہ مؤمن کی زندگی کا آخری لمحہ بھی عبادت، تعلقِ الٰہی اور بندگی سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔
ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن انہی مبارک اوقات میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سب سے افضل دن قرار دیا۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ کے نزدیک کسی بھی دن کا نیک عمل ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب نہیں۔صحابہ کرام نے عرض کیا: کیا جہاد بھی نہیں؟آپ علیہ السلام نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور پھر کچھ واپس نہ لایا۔’ یہ وہ عظیم اعزاز ہے جو سال کے کسی اور دن کو حاصل نہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ رمضان کی آخری راتیں اپنی جگہ افضل ہیں کیونکہ ان میں شبِ قدر ہے مگر ذوالحجہ کے یہ دن اپنے اعمال اور عبادات کے اعتبار سے پورے سال کے دنوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔ذرا غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کی قسم کھائی: والفجر، ولیالٍ عشر۔ اکثر مفسرین کے نزدیک دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔ اللہ جس چیز کی قسم کھائے اُس کی عظمت خود واضح ہو جاتی ہے۔یہی وہ دن ہیں جن میں حج ادا کیا جاتا ہے، قربانی کی جاتی ہے، یومِ عرفہ آتا ہے، تکبیرات کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور بندہ اپنے رب کے سامنے عاجزی و انکساری کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یومِ عرفہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے؛ ایک گزشتہ سال اور ایک آنے والے سال کا۔
افسوس یہ ہے کہ ہماری زندگیوں میں ان مبارک ایام کی روح کمزور ہوتی جارہی ہے۔ بازار روشن ہیں مگر دل بجھے ہوئے۔ گھروں میں تیاری تو بہت ہے مگر عبادت کی وہ کیفیت کم دکھائی دیتی ہے جس کی طرف قرآن و سنت بلاتے ہیں۔حالانکہ ان دنوں میں سب سے زیادہ مطلوب چیز اعمالِ صالحہ کی کثرت ہے۔ روزہ، ذکر، تلاوتِ قرآن، صدقہ، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، صلہ رحمی، دعا، استغفار اور خاص طور پر تکبیرات کا اہتمام۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد
یہ وہ کلمات ہیں جو کبھی مسلمانوں کے بازاروں، گلیوں اور گھروں میں گونجا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بازاروں میں نکلتے اور بلند آواز سے تکبیر کہتے، لوگ انہیں سن کر خود بھی تکبیرات شروع کر دیتے۔ یہ اجتماعی نعرہ نہیں بلکہ انفرادی طور پر سنت کو زندہ کرنے کا ایک خوبصورت منظر تھا۔آج یہ سنت ہمارے معاشروں میں تقریباً اجنبی ہو چکی ہے۔عشرہ ذوالحجہ ہمیں صرف عبادت نہیں سکھاتا بلکہ زندگی کی حقیقت بھی یاد دلاتا ہے۔ انسان نہیں جانتا کہ اگلا سال اس کی زندگی میں آئے گا بھی یا نہیں۔ کتنے لوگ پچھلے ذوالحجہ میں ہمارے ساتھ تھے اور آج قبروں میں جا سوئے۔ اسی لیے ان دنوں کی سب سے بڑی پکار توبہ ہے۔سچی توبہ صرف زبان کے الفاظ نہیں بلکہ دل کی واپسی کا نام ہے۔ گناہ پر ندامت، فوراً اس سے رک جانا اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ۔کیونکہ گناہ انسان کو گناہ کی طرف کھینچتا ہے جبکہ نیکی دل میں روشنی پیدا کرتی ہے۔یہ دن دراصل روح کی تجدید کا موقع ہیں۔ اگر کوئی حج پر نہیں جا سکتا تو وہ بھی محروم نہیں۔ اس کے لیے مسجد کا ایک سجدہ، قرآن کی کچھ تلاوت، محتاج کی ایک مدد، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور دل سے نکلی ہوئی ایک دعا بھی اللہ کے ہاں عظیم بن سکتی ہے۔زندگی بہت مختصر ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ انسان خواہ کتنی ہی دنیا سمیٹ لے، آخرکار اسے اپنے اعمال کے ساتھ ایک تنگ قبر میں اترنا ہے۔ وہاں نہ مال ساتھ جائے گا، نہ عہدہ، نہ شہرت۔ صرف وہی نیکیاں باقی رہیں گی جو اخلاص کے ساتھ کی گئی ہوں۔
اِس لیے ان مبارک دنوں کو معمول کا حصہ نہ بنائیے۔ انہیں غنیمت جانیے۔ شاید یہی چند دن ہماری زندگی کا رخ بدل دیں۔ شاید یہی وہ ساعتیں ہوں جن میں اللہ کی رحمت بندے کو چھو لے اور اس کی تقدیر بدل جائے۔ جن دلوں پر غفلت کی گرد جم چکی ہے، انہیں چاہیے کہ ذوالحجہ کی ان فضاؤں میں اپنے رب کی رحمت تلاش کریں، کیونکہ اللہ کی رحمت کی ہوائیں چل رہی ہیں اور سعادت مند وہی ہے جو ان سے اپنا دامن بھر لے۔

