ہماری اجتماعی ناشکری اور اللہ کا عذاب!

9اور 10مئی کی رات جب لاہور کے لبرٹی چوک اور پنجاب کے مختلف شہروں میں موسیقی، ڈانس، بے حیائی، بیہودگی اور جشن کے نام پر اللہ کی ناشکری اور نافرمانی کا اہتما م کیا گیا تھا، چشم فلک سراپا سوال تھی کہ مسلم قومیں اور سماج اپنی فتوحات کو اس طرح سیلیبریٹ کرتی ہیں؟ کیا مسلم سماج کے لیے فتح منانے کا طریقہ صرف شور، ہجوم، ڈانس، گانا اور بیہودگی ہے یا اس کے پس منظر میں کوئی ایمانی روح، کوئی اخلاق احساس اور کوئی تہذیبی شعور بھی ہوتا ہے؟ کیا یہ اہل پاکستان کی کوئی ذاتی فتح تھی جو انہوں نے اپنے زور بازو سے حاصل کی تھی یا اس فتح کے پیچھے اللہ کی مدد کارفرما تھی؟ معرکہ حق لڑنے والے سپہ سالار خود کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اس معرکہ حق میں اللہ کی مدد نازل ہوتے ہوئے دیکھی۔ ہم نے اللہ کا وعدہ پورا ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس لیے بحیثیت قوم اور مسلم سماج ہمیں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونا چاہیے تھا اور یوم تشکر منانا چاہیے تھا کہ اللہ آپ کی مدد سے ہم پانچ گنا بڑے دشمن سے فتح یاب ہوئے۔ ہمیں لبرٹی کے اس چوک میں جہاںاللہ کی اجتماعی ناشکری اور نافرمانی کا اہتمام کیا گیاصف بستہ سر بسجود ہونا چاہے تھا۔ سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے تھامگر ہم نے جشن جیسے پروگرامز کا انعقاد کرکے اللہ کے عذاب کو دعوت دی۔

اس معرکہ میں اللہ کی مدد کیا اس لیے نازل ہوئی تھی کہ ہم نے ناچ گانے کرتے ہوئے دشمن پر حملہ کیا تھا؟ ہرگز نہیں! بلکہ ہم نے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے، سنت رسولۖ کے مطابق صبح نماز فجر کے بعد حملہ کیا تھا، نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے اور اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے دشمن پر جھپٹے تھے۔ اس لیے ایک سال بعد معرکہ حق کے عنوانات سے جو تقریبات منعقد ہوئیں ہمیں ان کوبھی مذہب کی ہدایات کی روشنی میں منانا چاہیے تھے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”لئن شکرتم لازیدنکم” یعنی اگر تم شکر ادا کرو گے میںتمہیں مزید عطا کروں گا۔ اگر ہم جشن کے بجائے سجدہ شکر ادا کرتے، یوم تشکر مناتے تواللہ ہمارا دفاع مزید مضبوط کرتا اورناشکری اور نافرمانی کی صورت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ولئن کفرتم ان عذابی لشدید ۔” اگر میری ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے اور ہم نے ناشکری کا انتخاب کرکے اللہ کے غضب کو دعوت دی ہے اور یہ غضب کسی بھی صورت میں نازل ہو سکتا ہے۔ معاشی بدحالی کی صورت میں۔ دفاعی کمزوری کی صورت میں۔ مستقبل کی ممکنہ جنگ میں ذلت و شکست کی صورت میں۔ اس لیے مجھے ڈر ہے کہ ہم نے جس طرح ریاستی اور اجتماعی سطح پر اللہ کی ناشکری اور نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کا عذاب ہم پر نازل ہو۔

جب میں پاکستان میں ہونے والی اس طرح کی بیہودگی، بے حیائی اور سرعام اللہ کی ناشکری کی بات کرتا ہوں تو کہا جاتا ہے یہ کلچر ساری اسلامی دنیا میں موجود ہے۔ میرا ایمان ہے کہ موجودہ عصر میں پاکستان کو اللہ نے دین اسلام اور اسلامی تاریخ و تہذیب کا محافظ بنایا ہے، اس لیے ہمیں کم ازکم اللہ کی اس عطا کی نافرمانی اور ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ نے اسلام اور قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ اسلام نے قیامت تک باقی رہنا ہے۔ تو اسباب کے درجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ آج اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے پاکستان کے سپرد کی ہے۔ پاکستان میں جتنا دین کا کام ہو رہا ہے دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہو رہا۔ سب سے زیادہ دینی مدارس یہاں ہیں، دنیا بھر سے ہزاروں لوگ حتیٰ کہ امریکا، آسٹریلیا اور یورپ سے ہزاروں سٹوڈنٹس دینی تعلیم کے حصول کے لیے یہاں کے مدارس میں آتے ہیں۔ پاکستان سے ہزاروں جماعتیں دنیا بھر میں دین کا پیغام لے کر جاتی ہیں۔ جتنے بڑے علماء ہیں وہ پاکستان میں ہیں۔

پھر سیاسی سطح پر اور عالمی اثر و رسوخ میں بھی اسلامی دنیا میں اللہ نے پاکستان کو بڑا مقام عطا کیا ہے۔ عسکری اور دفاعی قوت کے اعتبار سے بھی پاکستان اسلامی ممالک میں ایک ممتاز درجہ رکھتا ہے۔ تو یہ تمام علامتیں ثابت کرتی ہیں کہ اسباب کی سطح پر آج اسلام کی حفاظت و اشاعت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے پاکستان کے سپرد کی ہے اور ابھی حال ہی میں اللہ نے ہمیں محافظِ حرمین کا بھی ٹائٹل دیا ہے تو یہ سب چیزیں اسباب کے درجے میں ثابت کرتی ہیں کہ اللہ نے موجودہ عصر میں پاکستان کو دین اسلام کا محافظ قرار دیا ہے۔ لیکن ہم جس طرح اپنے رب کی ناشکری اور نافرمانی کر رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کا عذاب ہم پر نازل ہو اور ہم سے یہ ذمہ داری چھین کر اللہ تعالیٰ کسی اور قوم یا کسی اور ملک یا کسی اور علاقے کو دے دیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں اور ملکوں پر اللہ کا عذاب اور زوال اچانک شروع نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے جرائم کی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے۔ یہ عذاب اور زوال ترجیحات کی تبدیلی، ناشکری، اخلاقی غفلت اور اپنی اصل شناخت سے دوری کے نتیجے میں آہستہ آہستہ جنم لیتا ہے۔

اس سارے معاملے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں، مذہبی قائدین، مدارس کے ذمہ داران اور ضلعی سطح پر مذہب کے ذمہ داران کو اس ناشکری کاا ندازہ ہے؟ اگر ہے تو انہوں نے کیا کیا؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ یعنی ان مذہبی قائدین نے اس جشن کے انعقاد سے پہلے ضلعی انتظامیہ سے مل کر کوئی مشترکہ پروگرام کے انعقاد کی پلاننگ کیوں نہیں کی؟ یا اس بیہودگی کے بعد ضلعی انتظامیہ سے مل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہو اور انہیں تذکیر کی ہو؟ اس سے بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے مذہبی طبقات میں یہ پوٹینشل یا بالفعل ایسی قیادت یا صلاحیت موجود ہے جو حکومتی مشینری سے مل کر اس طرح کے معاملات اٹھائے؟ میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں، اگرآپ کے پاس ہو تو ضرور عنایت کیجیے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی مشینری میں اثر و رسوخ حاصل کیا جائے اور وہاں تنقید کے ساتھ تذکیر بھی کی جائے۔

سوچئے، سوال اٹھائیے، اپنا کردار ادا کیجئے۔ اسلامی تاریخ و تہذیب اور اسلامی تعلیمات کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائیے۔ ریاستی اور اجتماعی سطح پر اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کے جو پروگرامز ہوتے ہیں ان پر تنقید بھی کیجئے اور اس میں ملوث افراد کی تذکیر بھی کیجئے۔ قبل اس کے کہ اللہ کا عذاب ہم پر نازل ہواور ہم بحیثیت قوم اور بحیثیت ملک شکست و ذلت کا شکار ہوں۔