اس ہر دلعزیزی سے ہی سب کچھ حاصل ہونا ہے

دنیا بھر کے عسکری ماہرین کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ اور کئی ممالک نے ہمارے ملک، ہماری فوج، ہمارے وزیراعظم اور ہمارے فیلڈ مارشل کی تعریف کی ہے لیکن پاکستان کے اندر موجود کچھ لوگ اب بھی اس ستائش اور اعتراف کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور وہ وہاں اندھیرا دیکھتے ہیں جہاں باقی دنیا کو امید نظر آتی ہے اور ہر کامیابی کو ایک چھپی ہوئی ناکامی قرار دے کر مسترد کر دیتے ہیں۔ ان کا ردعمل حقائق یا شواہد پر مبنی معلوم نہیں ہوتا بلکہ اس کی بنیاد ذاتی تلخی اور اس ضد پر ہے کہ وہ اپنے علاوہ کسی اور کی کامیابی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں خاص طور پر جب اصل ہیرو ہمارے سپاہی اور قائدین ہیں۔

اس کے ساتھ ہی امریکا اور ایران کے درمیان ایک ثالث کے طور پر پاکستان کا انتخاب بین الاقوامی سطح پر موجود بے پناہ اعتماد کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ دونوں ممالک نے اپنی بداعتمادی اور تنازعات کی طویل تاریخ کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے ساتھ پاکستان کے عشروں پر محیط متوازن تعلقات کی بنا پر اسے اپنے درمیان کھڑا ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ بھارت پس منظر میں چلا گیا ہے جبکہ برسوں تک لابی اور پروپیگنڈے کے ذریعے ہمیں تنہا کرنے کی کوششوں کے باوجود پاکستان بین الاقوامی امور میں صف اول میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان بڑے عالمی تنازعات میں ثالثی کر رہا ہے جبکہ بھارت سیاسی بے چینی، معاشی سست روی اور سماجی تنا سے نمٹ رہا ہے اور آج کا پاکستان دفاع، سفارت کاری، معیشت اور اندرونی سلامتی میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔

معرکہِ حق کے بعد دنیا نے پاکستان کو زیادہ اہمیت دینا شروع کر دی ہے کیونکہ ہمارے اقدامات نے خطے میں طاقت کے تاثر کو بدل دیا ہے جبکہ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور ہماری بڑھتی ہوئی عسکری قوت اور کامیاب مظاہروں کی وجہ سے جے ایف تھنڈر طیاروں میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ دفاع پاکستان کا برانڈ بن چکا ہے اور اس سے اربوں ڈالر حاصل ہونے، روپے کو استحکام ملنے، غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم ہونے، ہائی ٹیک ملازمتیں پیدا ہونے اور سیاسی اثر و رسوخ میں اضافے کی توقع ہے جبکہ پاکستان مذاکرات، امن اور تعاون کو فروغ دے کر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ اگر پاکستان کامیاب ہو جاتا ہے تو ہماری بندرگاہیں مزید مصروف ہو جائیں گی، تجارتی راستے محفوظ تر ہوں گے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، توانائی کے اخراجات کم ہوں گے اور ہمارا بین الاقوامی قد مزید بلند ہو جائے گا جس سے پاکستان ایک ناگزیر علاقائی طاقت بن جائے گا۔

پاکستان کا عروج اور سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات سرمایہ کاری، خوشحالی، سلامتی اور وقار کا باعث بنیں گے جبکہ تنہائی کے نتیجے میں صرف پابندیاں، تجارتی رکاوٹیں، دشمنی، کم مواقع اور مزید تباہی ہی ملے گی جیسا کہ تاریخ بار بار ثابت کر چکی ہے۔ جن ممالک کی بہت سے لوگ عزت کرتے ہیں انہیں قرضے، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سیاسی حمایت حاصل ہوتی ہے جبکہ تنہا قوموں کو قومی زندگی کے ہر پہلو میں زیادہ دشمنوں اور بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان نے دوستی کا راستہ چنا ہے لیکن اس مضمون کا مصنف یہ بتائے بغیر کہ اس سے عام پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہوگا تنہائی کو ترجیح دیتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بھی گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے جس کی وجہ سخت پالیسیاں، سرحدوں پر باڑ لگانے، انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی آپریشنز اور دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سپلائی لائنز کاٹنے کی کوششوں کے باعث خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ہونے والی کمی ہے۔ ہزاروں معصوم جانیں بچائی گئی ہیں، شاہراہیں محفوظ ہو گئی ہیں، کاروبار اب ان علاقوں میں بھی چل رہے ہیں جو پہلے عسکریت پسندوں کے قبضے میں تھے اور بچے اب ان اسکولوں میں جا سکتے ہیں جنہیں کبھی انتہا پسندوں سے خطرہ تھا۔ آج کا پاکستان ان سیاسی رہنماں کے دور سے کہیں بہتر ہے جن کے اس مضمون کے مصنف مداح ہیں کیونکہ وہ اپنے پیچھے بدعنوانی، معاشی بدانتظامی، مہنگائی، کم شرح نمو اور بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال چھوڑ گئے تھے۔

جدید دنیا تمام اقوام کے ساتھ وابستگی، تعاون اور مثبت تعلقات کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ یہ اکیسویں صدی میں کامیابی کی اصل کنجیاں ہیں۔ کوئی بھی ملک چاہے وہ کتنا ہی بڑا یا طاقتور کیوں نہ ہو، کونے میں چھپ کر اور کسی سے بات کرنے سے انکار کر کے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی ملک سب کو دشمن بنا کر اور تمام ممکنہ شراکت داروں کے ساتھ تعلقات ختم کر کے خوشحال نہیں بن سکتا۔ اس دور میں کامیابی ان کی ہے جو پل بناتے ہیں، جو دوست بناتے ہیں، جو مشترکہ چیلنجوں پر تعاون کرتے ہیں اور جو سابقہ حریفوں کے ساتھ بھی مشترکہ بنیادیں تلاش کرتے ہیں۔ ہمیں، خاص طور پر لکھاریوں اور دانشوروں کو، معاشرے میں ناامیدی اور مایوسی پھیلانے کے بجائے ذمہ دار اور بالغ شہریوں کے طور پر برتا کرنے کی ضرورت ہے۔ لکھاریوں کی آواز طاقتور ہوتی ہے اور وہ اس آواز کو تعمیر یا تباہی کے لیے استعمال کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ جو لوگ تباہی کا انتخاب کرتے ہیں وہ کسی بھی معنی خیز طریقے سے پاکستان کی مدد نہیں کر رہے، وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور جب اس دور کی مکمل کہانی لکھی جائے گی تو تاریخ ان کا سخت فیصلہ کرے گی۔ ہمیں صرف میں کے بارے میں سوچنے سے آگے بڑھنا ہوگا اور ایک مشترکہ تقدیر اور مشترکہ چیلنجوں والی قوم کے طور پر “ہم” کے بارے میں سوچنا شروع کرنا ہوگا۔ ملک کسی بھی ایک شخص، کسی ایک پارٹی، کسی ایک خاندان یا کسی ایک مایوسی سے بڑا ہے۔ جب ہم ملک کو اول رکھتے ہیں تو ہم سب مل کر جیتتے ہیں اور جب ہم خود کو اول رکھتے ہیں تو ہم سب مل کر ہارتے ہیں۔

حقیقت وہی ہے جسے پوری دنیا ہر روز سفارتی بیانات، دفاعی معاہدوں، تجارتی سودوں اور عالمی رہنماؤں کے تعریفی کلمات کے ذریعے دیکھ رہی ہے اور تسلیم کر رہی ہے۔ پاکستان ابھر رہا ہے اور چمک رہا ہے اور کوئی بھی منفی اخباری مضمون، تلخ تبصرہ اور ذاتی مایوسی اس حقائق پر مبنی حقیقت کو نہیں بدل سکتی۔ پاکستان کے عروج، سب کے ساتھ اس کے دوستانہ تعلقات اور عالمی امور میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے نتائج آخر کار پورے ملک اور تمام پاکستانیوں کے لیے ترقی، خوشحالی اور مثبت مواقع لائیں گے، چاہے وہ امیر ترین کاروباری ہو یا غریب ترین کسان۔ پاکستان میں آج پیدا ہونے والا ہر بچہ اس قوم سے زیادہ مضبوط، زیادہ معزز اور زیادہ خوشحال قوم کا وارث ہوگا جس میں دہائیوں قبل میں پیدا ہوا تھا۔ یہ ایسی چیز ہے جسے خوشی اور شکر گزاری کے ساتھ منانا چاہیے، یہ ایسی چیز ہے جسے محنت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے اور یہ ایسی چیز ہے جسے ان لوگوں سے محفوظ رکھنا چاہیے جو حسد یا تلخی کی وجہ سے اسے گرانا چاہتے ہیں۔

مایوس مصنف کو اپنی مایوسی کے کونے سے جو چاہے لکھنے دیں، چھوٹے گروہ اور ناکام سیاسی گرووں کو دوسروں کی کامیابی کے بارے میں جتنا چاہیں شکایت کرنے دیں، ہم میں سے باقی لوگ ایک ایسے پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے جو سب کو عزیز ہے کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اپنی زندگیوں میں تجربہ کیا ہے کہ یہ طریقہ کار کام کرتا ہے۔ ہم نے عالمی رہنماں کی تعریفیں دیکھی ہیں، ہم نے قابل اعتماد اتحادیوں کے ساتھ دفاعی معاہدے دیکھے ہیں، ہم نے دہشت گردی اور تشدد میں کمی دیکھی ہے، ہم نے اپنی قوم کا بڑھتا ہوا بین الاقوامی قد دیکھا ہے اور ہم مکمل اعتماد کے ساتھ اور بغیر کسی شک کے جانتے ہیں کہ سب کا عزیز بننا ہمیں یہاں تک لے آیا ہے اور ہمیں امن، وقار، سلامتی اور تمام پاکستانیوں کی خوشحالی کے مستقبل کی طرف اور بھی آگے لے جائے گا، اب بھی اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی۔