مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اس کا آغاز عموماً ”میگنا کارٹا” سے کیا جاتا ہے۔ یہ دراصل 1216ء میں برطانیہ کے بادشاہ کنگ جان اور جاگیرداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا ایک معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کا اصل مقصد بادشاہ اور جاگیرداروں کے درمیان حقوق اور حدود کا تعین تھا، البتہ عام لوگوں کا بھی اس میں سرسری سا ذکر موجود تھا۔ اسی بنا پر اسے انسانی حقوق کے آغاز کا پہلا تصور قرار دیا جاتا ہے۔مغربی ممالک میں حکومت اور اقتدار کا حق طویل عرصے تک تین طبقوں میں منقسم رہا: (1) بادشاہ، (2) جاگیردار، اور (3) مذہبی قیادت۔ ایک طویل مدت تک عوام انہی تین طبقات کے باہمی اختلافات، کشمکش اور لڑائیوں کی وجہ سے پستے رہے۔ آج خود مغرب بھی اس دور کو جبر و استبداد کا زمانہ قرار دیتا ہے۔
مغربی دنیا نے اس ظالمانہ مثلث سے نجات حاصل کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی۔ بالآخر جاگیرداروں اور حکومت کے درمیان اختیارات اور حقوق کی تقسیم عمل میں آئی اور یوں مغربی دنیا میں انسانی حقوق کے تصور کا باقاعدہ آغاز ہوا۔اس کے بعد 1684ء میں عوامی بغاوت اور انقلابی قوتوں نے پارلیمنٹ کی بالادستی کا قانون پیش کیا اور 1689ء میں برطانیہ نے ”بل آف رائٹس” کی منظوری دے دی۔ دوسری طرف امریکا میں تھامس جیفرسن نے 12 جولائی 1776ء کو مکمل آزادی کا اعلان کیا اور 1789ء میں عوامی حقوق کو دستور کا حصہ بنا دیا گیا۔ اسی سال فرانس میں بھی عوامی جدوجہد کے نتیجے میں چرچ کی سیاسی مداخلت کو مسترد کر دیا گیا اور شہری حقوق کا ایک نیا قانون پیش کیا گیا۔ اس دستور کو ظلم اور حقوق کے درمیان حدِ فاصل قرار دیا جاتا ہے۔ اسی قانون کے ذریعے مذہب کو مکمل طور پر حکومت سے الگ کر دیا گیا، اور یوں اکثر ممالک کے نام کے ساتھ ”سیکولر” کا سابقہ یا لاحقہ بھی جڑ گیا۔
بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں برطانیہ اور جرمنی کے درمیان ایک عظیم جنگ چھڑ گئی، جس میں خلافتِ عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا۔ اس جنگ سے پوری دنیا متاثر ہوئی، لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے اور بالآخر جرمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی کے ساتھ خلافتِ عثمانیہ کا بھی خاتمہ کر دیا گیا۔ اس پس منظر میں پہلی بین الاقوامی تنظیم وجود میں آئی، جسے ”لیگ آف نیشنز ”کہا جاتا ہے۔ اس تنظیم کا مقصد دنیا کے ممالک کے درمیان جنگوں کا خاتمہ اور باہمی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا تھا، لیکن لیگ آف نیشنز اپنے مقاصد میں ناکام رہی۔ نتیجتاً برطانیہ اور جرمنی کے درمیان ایک اور ہولناک جنگ چھڑ گئی، جو تاریخ میں ”دوسری جنگِ عظیم” کے نام سے جانی جاتی ہے۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان کے دو بڑے شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی، پر ایٹم بم گرائے۔ اس تباہ کن جنگ کے بعد 1945ء میں ایک نئی عالمی تنظیم قائم کی گئی، جسے ”اقوامِ متحدہ” کہا جاتا ہے، اور جو آج بھی اسی نام سے موجود ہے۔
پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں انسانوں کے بے مثال قتلِ عام کے نتیجے میں 1948ء میں اقوامِ متحدہ نے ”عالمی منشور برائے انسانی حقوق” کے نام سے ایک اعلامیہ منظور کیا، جس میں تیس دفعات شامل ہیں۔ اس منشور میں آزادی، انصاف اور انسانی وقار کا بار بار ذکر کیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام انسانوں کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں۔ اس وقت عرب اور اسلامی دنیا کے اکثر ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔اس عالمی منشور کے حوالے سے دو بڑے تحفظات سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اقوامِ متحدہ نے پانچ ممالک کو ویٹو پاور دے رکھی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی مرضی سے کسی بھی قانون یا قرارداد کو روک یا تبدیل کر سکتے ہیں اور ان پانچ ممالک میں سے کوئی بھی اسلامی ملک نہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس منشور کی کئی دفعات اسلامی احکام سے متصادم نظر آتی ہیں، جس کی وجہ سے اسلامی ممالک اسے جوں کا توں قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
اگر ہم اسلامی نقطہ نظر سے انسانی حقوق کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید میں ”حق” کا لفظ تقریباً 288 مرتبہ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی آیا ہے، نبی کریم ۖ کے لیے بھی، قرآنِ مجید کے لیے بھی، دینِ اسلام کے لیے بھی اور یقینی خبر کے لیے بھی۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں ”انسان” کا لفظ 65 مرتبہ، ”ناس” کا لفظ 241 مرتبہ اور ”اُنس” کا لفظ 18 مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام میں انسان اور اس کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔اسلامی قوانین اور وضعی (انسانی) قوانین کے درمیان ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلامی قوانین اٹل اور قطعی ہوتے ہیں، ان میں غلطی کا کوئی احتمال نہیں ہوتا، جبکہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین میں خطا کا امکان بھی ہوتا ہے اور وہ حتمی بھی نہیں ہوتے۔ اسلام کے قوانین تمام قوانین سے بالاتر ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام میں انسانی حقوق محض ایک نظری یا مفروضہ تصور نہیں، بلکہ ایک ثابت شدہ اور عملی حقیقت ہیں۔اسلام نے انسانی حقوق کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا ہے: (1) شخصی آزادی (2) معاشرتی آزادی اسلام انسان کو زندگی کے تحفظ کا حق دیتا ہے، جائیداد کے تحفظ کا حق دیتا ہے، عزت و آبرو کے تحفظ کا حق دیتا ہے، برابری اور مساوات کا حق دیتا ہے، انصاف اور عدل کا حق دیتا ہے، اور تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام نے والدین کے حقوق، اساتذہ کے حقوق، اولاد کے حقوق، ہمسایوں کے حقوق، بیماروں کے حقوق، میاں بیوی کے حقوق، یتیموں کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، غریبوں کے حقوق اور مزدوروں کے حقوق بھی تفصیل سے بیان کیے ہیں۔اب اگر ہم بین الاقوامی انسانی حقوق کے عالمی منشور کا سیرتِ نبوی کی روشنی میں موازنہ کریں تو واضح فرق سامنے آتا ہے۔
عالمی منشور کی دفعہ نمبر 1 کے مطابق تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور عزت و آبرو کے لحاظ سے برابر ہیں۔ چونکہ انسانوں کو عقل عطا کی گئی ہے، اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ سلوک کریں۔ اس کے مقابلے میں اسلام حقوق مانگنے کی بجائے حقوق ادا کرنے کا تصور پیش کرتا ہے۔ یہ فرق نہایت بنیادی ہے، کیونکہ جب حقوق مانگنے کا رواج ہو تو اختلافات جنم لیتے ہیں، لیکن جب حقوق ادا کرنے کی سوچ پیدا ہو جائے تو باہمی نزاع کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔عالمی منشور کی دفعہ نمبر 3 یہ کہتی ہے کہ ہر شخص کو اپنی جان، آزادی اور ذاتی تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اس کے مقابلے میں قرآن و سنت نہ صرف انسان کو بلکہ حیوانات تک کو جان کے تحفظ کا حق دیتے ہیں۔ انسانیت کی عظمت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ حدیثِ نبوی میں فرمایا گیا: ”جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔”اگر ہم عالمی منشور برائے انسانی حقوق کا مجموعی جائزہ لیں تو اس میں چند نمایاں خامیاں بھی نظر آتی ہیں: ٭ پہلی خامی یہ ہے کہ منشور میں کئی مقامات پر حقوق کے مفہوم میں ابہام پایا جاتا ہے۔ ٭ دوسری خامی یہ ہے کہ عملی طور پر طاقتور ممالک ان حقوق کی من مانی تشریح کرتے ہیں اور انہیں ان قوانین پر عمل درآمد کے لیے کوئی مؤثر قوت مجبور نہیں کر سکتی۔ ٭ مزید برآں اس دستور میں ذہنی مریضوں، کم عقل افراد اور معذوروں کے حقوق کا واضح ذکر موجود نہیں۔ حقِ وراثت کا ذکر بھی اس منشور میں نہیں ملتا۔ ٭ اسی طرح ذاتی دفاع کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے، لیکن بین الاقوامی قانون اس پر بھی خاموش ہے۔ معافی کا حق بھی ایک نہایت اہم انسانی حق ہے، مگر عالمی منشور میں اس کا کوئی واضح تذکرہ نہیں کیا گیا۔ان تمام نکات کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی تصورِ انسانی حقوق نہ صرف زیادہ جامع ہے بلکہ زیادہ متوازن، فطری اور قابلِ عمل بھی ہے، جو سیرتِ نبوی کی عملی مثالوں کے ذریعے پوری انسانیت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

