’وقفے وقفے سے فاقہ‘ ہر کسی کے لیے مؤثر نہیں، نئی تحقیق

وزن میں کمی کے لیے دنیا بھر میں مقبول ہونے والی ’’انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ‘‘ یعنی ’وقفے وقفے سے فاقہ‘ کرنے کی غذائی حکمت عملی سے متعلق نئی تحقیق نے اہم انکشاف کیا ہے کہ یہ طریقہ ہر فرد کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں، اور صرف کھانے کے اوقات محدود کرنا وزن گھٹانے یا میٹابولزم بہتر بنانے کی ضمانت نہیں۔

ماہرین کے مطابق انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کی مختلف اقسام، جیسے 16:8 ڈائٹ یا 5:2 پلان، اس بنیاد پر مقبول ہیں کہ مخصوص وقت یا دنوں میں کھانے کی مقدار محدود کی جائے۔ اسی طرح ٹائم ریسٹرکٹڈ ایٹنگ (TRE) میں روزانہ کھانے کو 10 گھنٹے یا اس سے کم دورانیے تک محدود رکھا جاتا ہے، جبکہ باقی وقت فاقہ کیا جاتا ہے۔

تاہم جرمن انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن نیوٹریشن کی نئی تحقیق کے مطابق صرف کھانے کے اوقات بدلنے سے صحت میں نمایاں بہتری نہیں آتی، جب تک مجموعی کیلوریز میں کمی نہ کی جائے۔ تحقیق میں زائد الوزن یا موٹاپے کا شکار 31 خواتین کو شامل کیا گیا، جنہوں نے مختلف اوقات پر مبنی دو الگ الگ TRE شیڈولز پر عمل کیا۔

ایک شیڈول میں شرکاء نے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کھانا کھایا، جبکہ دوسرے میں دوپہر 1 بجے سے رات 9 بجے تک۔ دونوں صورتوں میں دی جانے والی غذا تقریباً ایک جیسی تھی اور اس میں کیلوریز اور غذائیت کی مقدار برابر رکھی گئی۔

تحقیق کے دوران خون کے نمونے، جسمانی ردعمل اور اندرونی حیاتیاتی گھڑی یعنی سرکیڈین ردھم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اگرچہ کھانے کے اوقات جسمانی گھڑی پر اثرانداز ہوتے ہیں، مگر انسولین حساسیت، بلڈ شوگر، خون میں چربی یا سوزش کے اشاریوں میں کوئی نمایاں طبی بہتری سامنے نہیں آئی۔

تحقیق کی سربراہ پروفیسر اولگا رامخ کے مطابق وزن کم کرنے یا میٹابولزم بہتر بنانے کے لیے صرف وقت نہیں بلکہ توانائی کے توازن، یعنی کیلوریز کی مجموعی مقدار، بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مطالعات میں نظر آنے والے فوائد غالباً غیر ارادی کیلوری کمی کا نتیجہ تھے، نہ کہ صرف کھانے کا دورانیہ محدود کرنے کا۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر فرد کا جسمانی نظام، جینیاتی ساخت اور روزمرہ حیاتیاتی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کے اثرات بھی سب پر یکساں نہیں ہو سکتے۔

اگرچہ جینیفر اینسٹن، ہیلے بیری اور کورٹنی کارڈیشین جیسی معروف شخصیات نے اس طرزِ غذا کو مقبول بنایا، اور کئی افراد اسے وزن میں کمی، ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں کمی اور آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے مؤثر سمجھتے ہیں، لیکن ماہرین اب بھی اس کے طویل مدتی فوائد اور ممکنہ خطرات پر منقسم ہیں۔

بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کئی افراد فاقے کے بعد ایک وقت میں زیادہ خوراک کھا لیتے ہیں، جس سے کیلوریز میں مطلوبہ کمی نہیں ہو پاتی۔ کچھ تحقیقات میں تو دل کے امراض، فالج یا قبل از وقت موت جیسے خدشات بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔

تحقیق کا مجموعی پیغام یہی ہے کہ وزن گھٹانے کے لیے صرف کھانے کا وقت بدلنا کافی نہیں، بلکہ متوازن غذا، مناسب کیلوری کنٹرول اور مستقل صحت مند طرزِ زندگی ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔