ابوظہبی:متحدہ عرب امارات نے عالمی توانائی منڈی میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے اوپیک کے بعد عرب پیٹرولیم ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کی تنظیم سے بھی علیحدگی اختیار کر لی۔
عالمی خبر رساںادارے کے مطابق یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک کی توانائی پیداوار میں اضافہ اور طویل المدتی معاشی وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یو اے ای اپنی توانائی پالیسی کو مزید خودمختار بنانے اور عالمی منڈی میں ایک مضبوط کردار ادا کرنے کیلئے یہ فیصلے کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات اس سے قبل اوپیک اور اوپیک پلس سے بھی علیحدگی کا اعلان کر چکا ہے، جو یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔یہ مسلسل فیصلے یو اے ای کی بدلتی ہوئی توانائی حکمت عملی اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک مقامی سطح پر توانائی پیداوار میں تیزی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے اور مستقبل میں توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ یو اے ای نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عالمی توانائی منڈی میں ایک ذمہ دار، قابل اعتماد اور مستقبل بین کردار ادا کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ اوپیک کا قیام 1960 میں عمل میں آیا تھا، جس میں سعودی عرب، ایران، عراق اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک شامل ہیں، جبکہ اوپیک پلس 2016 میں وجود میں آیا تھا جس میں روس سمیت کئی نان اوپیک ممالک بھی شامل ہوئے۔

