23اپریل 2026ء کو جامعہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کے مہتمم جناب صاحبزادہ مولانا اشرف علی خان انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
ملک عزیز کے نامور قومی رہنما، داعی ومبلغ اسلام شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان کے وصال کے بعد جامعہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کے مہتمم حضرت مولانا قاضی احسان الحق بنے۔ آپ نے اپنے والد مرحوم کی امانت کو خوب ثمربار رکھا۔ ان کے وصال کے بعد ان کے برادر خورد مولانا اشرف علی خان کو جامعہ کا مہتمم مقرر کیا گیا۔ مولانا اشرف علی اپنے والد گرامی کی حیات میں کپڑے کا کاروبار کرتے تھے، لیکن اپنے برادر اکبر گرامی قدر کے وصال کے بعد تمام کاروبار ترک کر کے خالص جامعہ کے اہتمام، جامع مسجد کی خطابت، پرانا قلعہ کی مسجد و مدرسہ کے انتظام و انصرام کے لیے خود کو وقف کردیا۔ آپ نے اس میدان میں قدم کیا رکھا کہ اپنے والد گرامی کے تمام خیر کے جاری کاموں کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ جس نے بھی آپ کی مساعی جمیلہ کو دیکھا جھوم اٹھا۔ اس دوران ایک دفعہ ایک حادثہ میں جامعہ کی پوری عمارت جلا دی گئی۔ جامع مسجد کا بھی نقصان ہوا۔ خود آپ کے صاحبزادے جاںبحق ہوگئے۔ جس نے سنا وہیں پر وہ غم زدہ ہوگیا۔ اس سانحہ پر اگر خیرخواہوں کا یہ حال تھا تو خود مولانا اشرف علی خان پر کیا گزری ہوگی؟ اللہ، اللہ! حق تعالیٰ نے اس قیامت خیز سانحہ پر آپ کو کوہِ استقامت اور جبل جرأت بنا دیا۔ اپنی تمام تر بیماریوں کو بھول گئے۔ تمام آنے والے مہمانوں کو سہارا دینا، مسجد و مدرسہ کی تعمیر نو کے لیے کمربستہ ہونا، دن، رات، صبح و شام، گرد و گرما کی پروا کیے بغیر آگے بڑھے۔ قدرت حق نے اپنی رحمت خاص سے آپ کا ہاتھ تھاما۔ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع و عریض خوشنما جامعہ تعلیم القرآن اور جامع مسجد کی تعمیر ثانی کے مرحلہ کو سر کر لیا۔
ان تمام حوصلہ شکن حالات کے باوجود ایک دن بھی جامعہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو معطل نہیں کیا۔ بس تعلیم القرآن کی بجائے انہیں پرانے قلعہ کی مسجد و مدرسہ میں منتقل کر لیا۔ جو ںہی جامعہ کی تعمیر ثانی کا جو حصہ مکمل ہوتا اتنے حصہ میں تعلیمی سرگرمیوں کو بحال کر دیا جاتا۔ اس تیزی اورسرعت کے ساتھ سب کچھ ہوا کہ آپ نے کسی کو محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ کچھ ہوا بھی ہے۔ یہ استقامت و بلند ہمتی لائق تحسین و باعث مبارکباد ہے۔ آپ اپنے والد مرحوم کی تفسیر جواہر القرآن کو قرآن مجید کے متن و ترجمہ اور تفسیر سمیت اس احسن انداز میں کمپیوٹر ایڈیشن میں منصہ شہود پر لائے کہ مثال قائم کر دی۔ جامعہ کے ترجمان ماہنامہ تعلیم القرآن کی اشاعت کے تسلسل کو برقرار رکھا۔ اپنے والد گرامی کے تمام متعلقین و منتسبین اور اندرون وبیرون حلقہ کے افراد سے اپنے والد مرحوم کے زمانہ کی طرح رابطہ برقرار رکھا۔ بیرون ملک کے اسفار ہوئے، جہاں جاتے مسرتیں بکھیر کر آتے۔ یورپ، افریقہ، امارات، حجاز مقدس کے اسفار ہوئے۔ غرض یہ کہ انہوں نے اپنے والد مرحوم کے حلقہ کی تازگی کو پژمردہ نہیں ہونے دیا۔ ملک عزیز کی تمام دینی تحریکوں، اداروں، جماعتوں کے ساتھ محبت و الفت کے ماحول کو مدہم نہیں ہونے دیا۔ اپنی جماعت اشاعت التوحید والسنہ میں بھی اعتدال کو برقرار رکھنے کے لیے سرگرم عمل رہے۔ جہاں کہیں انتہاپسندی کی طرف دوستوں کا رجحان دیکھتے تو سد راہ بننے کی مقدور بھر کوشش جاری رکھنے میں دریغ نہ کرتے۔ وفاق المدارس کے مسئلہ پر اپنی پوری توانائی صرف کر کے سواد اعظم کا ساتھ دیا۔ جمعیت علماء اسلام سے اپنے والد مرحوم کے تعلقات کو آگے بڑھایا۔
دنیا جانتی ہے کہ تمام دینی تحریکوں کا راولپنڈی میں تعلیم القرآن راجہ بازار کا پلیٹ فارم مرکز رہا ہے۔ تحریک ختم نبوت کے تحفظ کے لیے آپ نے اپنے آپ، جامعہ و مسجد کو اس مرکزیت کا معمار ثانی ثابت کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر اشاعت التوحید والسنہ کی نمائندگی ہمیشہ حضرت شیخ القرآن فرماتے تھے۔ آخر وقت تک آپ نے اس روایت کو بھی پروان چڑھایا۔ صحت کے زمانہ میں چناب نگر کی سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس پر بڑی بشاشت اور قلبی محبت کے ساتھ تشریف لاتے، بیان کرتے، اپنے بزرگوں کی یاد تازہ کرتے اور پورے حلقہ کے دل موہ کر لے جاتے۔ ان کے اہتمام کی زندگی ایثار و امتحان اور قربانی کی زندگی تھی۔ بڑے بڑے حادثات کو جھیل کر پھر سر و قد ہو جانے کی انہوں نے ایک مثال قائم کی۔ جوان بیٹے کے سانحہ ارتحال سے دو چار ہونا ہر صاحب دل باپ جانتا ہے، کہ کتنا جان گسل مرحلہ ہوتا ہے۔ آپ کو قدرت نے اس میں بھی سرخرو کیا۔ آخر انسان تھے، کہاں تک ان جھمیلوں سے نبرد آزما ہوتے؟ تھک گئے اورعوارض نے گھیر لیا۔ گردوں نے بغاوت کی تو زمین سے لگ گئے، لیکن اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ توفیق کے ساتھ بیماری کے ساتھ بھی نبرد آزما رہے۔ ان کی بیماری کے نشیب و فراز کی بابت باخبر تو رہے لیکن ان کی وفات کی خبر نے چونکا دیا۔ مجھ مسکین کے تو وہ استاد زادہ تھے، مخدوم بھی تھے اور مخدوم زادہ بھی۔ ان کے جنازہ کے دن راولپنڈی، اسلام آباد جڑواں شہر ایران اور امریکا کے ممکنہ مذاکرات کے باعث لاک ڈاؤن کا شکار تھے۔ صاحبزادہ کے جنازہ میں شرکت نہ ہو سکی۔ اللہ ربُّ العزت جامعہ تعلیم القرآن کو سدا بہار رکھیں اور اس کے معمار ثالث مولانا اشرف علی خان کو اپنی رحمتوں کا محور بنائیں۔ آمین بحرمتک یاارحم الراحمین!

