جموں و کشمیر کے نظامِ حکومت میں آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے انتظامی ڈھانچوں کے درمیان ایک واضح تضاد پایا جاتا ہے، جو کشمیری عوام کے وقار اور حقوق کے حوالے سے دو مختلف نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر میں ایک ایسا نظام پروان چڑھایا ہے جس کی خصوصیت حقیقی قانون ساز خود مختاری اور سیاسی بااختیاری ہے جس کی سب سے نمایاں مثالیں 13ویں اور 15ویں ترامیم کا نفاذ ہیں۔ ان آئینی اصلاحات نے انتظامی اختیارات وفاق سے مظفرآباد کے منتخب نمائندوں کو منتقل کردیے جس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ وزیراعظم اور قانون ساز اسمبلی مالیات، صحت اور تعلیم جیسے اندرونی معاملات پر مکمل کنٹرول رکھیں۔ اختیارات کی یہ نچلی سطح پر منتقلی عوام کی مرضی کے احترام کا ثبوت ہے جس سے اس خطے کو اپنی الگ سیاسی شناخت اور ایک متحرک سول سوسائٹی برقرار رکھنے کا موقع ملا ہے جہاں مقامی قائدین کسی بیرونی اتھارٹی کے بجائے اپنے ووٹرز کے سامنے جوابدہ ہیں۔
اس کے برعکس بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اگست 2019ء میں آرٹیکل 370اور 35اے کی یکطرفہ منسوخی کے بعد نوآبادیاتی طرز کے جبر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس اقدام نے خطے کی نام نہاد خصوصی حیثیت اور آبادیاتی شناخت کے تحفظ کو ختم کردیا جس کے نتیجے میں عملی طور پر اس علاقے کا الحاق کر کے اسے نئی دہلی کے براہ راست کنٹرول میں دے دیا گیا۔ وہاں کی مقامی آبادی کو اب پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA ) اور غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (UAPA ) جیسے سخت قوانین کا سامنا ہے جو بغیر کسی مقدمے کے غیرمعینہ مدت تک حراست اور سیاسی اختلافِ رائے کو جرم قرار دینے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ یہ علاقہ ایک ایسی شدید فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں بڑے پیمانے پر من مانی گرفتاریوں، مواصلاتی رابطوں کی معطلی اور پریس کی منظم خاموشی کے ذریعے بنیادی شہری آزادیوں کو سلب کرلیا گیا ہے جس سے خوف اور ریاستی جبر کا ایک ہمہ گیر ماحول پیدا ہوگیا ہے۔
حکمرانی کا یہ گہرا فرق کشمیری عوام کی فلاح و بہبود اور حقِ خودارادیت کے حوالے سے خلوص کے بنیادی فرق کو ظاہر کرتا ہے جہاں آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان کا ڈھانچہ کشمیریوں کے ثقافتی ورثے اور سیاسی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں ایک قومی مقصد میں شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے وہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی دانستہ پالیسی سے عبارت ہیں۔ غیرکشمیریوں کو زمین خریدنے اور وہاں آباد ہونے کی اجازت دے کر بھارت پر نوآبادیاتی سازش کا الزام ہے جس کا مقصد خطے کی مسلم اکثریتی شناخت کو کمزور کرنا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں نظر آنے والے بااختیار نظام اور مقبوضہ کشمیر کے وحشیانہ قبضے کے درمیان یہ تضاد بھارتی مظالم کو روکنے اور کشمیری عوام کی آزادی کے ساتھ جینے کی خواہش کی حمایت کے لیے عالمی مداخلت کی اخلاقی ضرورت کو اُجاگر کرتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین اخلاص کا فرق اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب کوئی ریاست اور کشمیری سیاسی مرضی کے درمیان تعلق کا جائزہ لے۔ پاکستان کا اخلاص حقِ خودارادیت کے لیے اس کی مسلسل سفارتی اور اخلاقی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ 1948ء کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 47میں درج ہے۔ پاکستان آزاد کشمیر کو اپنے علاقے کا اٹوٹ انگ قرار نہیں دیتا بلکہ وہ آزاد کشمیر کو جموں و کشمیر کی متنازعہ ریاست کے ایک آزاد حصے کے طور پر دیکھتا ہے جس کے حتمی مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی رائے شماری کے ذریعے ہونا ابھی باقی ہے۔ 13ویں اور 15ویں ترامیم کے ذریعے آزاد کشمیر کو دی گئی خود مختاری پاکستان کے اس اُصولی موقف کی عکاسی ہے کہ کشمیری عوام کو اپنی تقدیر خود سنوارنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس بھارت کی بدنیتی اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی ان قراردادوں پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا جنہیں اس نے کبھی خود تسلیم کیا تھا۔ 1948ء میں کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ میں لے جانے کے بعد بھارت نے بعدازاں رائے شماری کے وعدے سے انحراف کیا اور تب سے طاقت کے زور پر کشمیر کو غیرقانونی طور پر بھارت کا ‘اٹوٹ انگ’ قرار دے رکھا ہے۔ بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370کی منسوخی اس تنازعہ کو یکطرفہ طور پر دفن کرنے کی کوشش تھی لیکن یہ مکمل طور پر ناکام رہی۔
کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت اور اس کے ساتھ الحاق کی خواہش کوئی پروپیگنڈا نعرہ نہیں ہے بلکہ یہ مشترکہ شناخت، مذہب، ثقافت اور ظلم کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر مبنی ایک زندہ حقیقت ہے۔ ایل او سی کے پاکستانی جانب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں اور معاشی ترقی، تعلیمی مواقع اور سیاسی آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وہ فخر سے پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، پاکستان کے قومی ایام مناتے ہیں اور اپنے نوجوانوں کو پاکستان کی مسلح افواج میں خدمات کے لیے بھیجتے ہیں۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان رشتہ زبردستی کا نہیں بلکہ فطری ہے جو کئی دہائیوں کی باہمی قربانیوں اور تعاون پر اُستوار ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جدید تاریخ کے بدترین فوجی قبضے کا سامنا کرنے کے باوجود آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش غالب سیاسی آرزو بنی ہوئی ہے۔ بھارتی سربیت کا ہر عمل، چلائی جانے والی ہر گولی، مسمار کیا جانے والا ہر گھر اور حراست میں لیا جانے والا ہر بچہ کشمیری عوام کے بھارتی راج کے خلاف مزاحمت کے عزم کو مزید تقویت دیتا ہے۔
آزاد کشمیر کی خود مختاری کا مقبوضہ کشمیر کے ظلم سے موازنہ کرنے پر سچائی پوری طرح چمکتی ہے کہ پاکستان کشمیری حقوق کا مخلص نگہبان ہے جبکہ بھارت ایک بے رحم قابض ہے۔ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے اور فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے۔ کشمیری عوام اپنا فیصلہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں، وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور بھارتی سربیت کی کوئی بھی مقدار اسے کبھی تبدیل نہیں کرسکے گی۔ جنوبی ایشیا میں تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں اور کشمیر کے عوام آخرکار پاکستان کے پرچم تلے آزادی کی فضا میں سانس لینے کے لیے تیار ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری تاریخ کے درست رخ پر کھڑی ہو اور کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کی حمایت کرے۔

