دو ملکوں کے درمیان جنگ کے دوران عمومی طور پر تجزیے عسکری قوت، ہتھیاروں اور حکمتِ عملی کے گرد گھومتے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کا ایک اہم محاذ قوم کے اندر بھی ہوتا ہے یعنی خیالات، اعتماد، نظم اور اجتماعی شعور کا محاذ۔ اکثر یہی وہ میدان ہوتا ہے جہاں فتح و شکست کا اصل فیصلہ ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے اسی پہلو کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بطور خطیب ایک طویل عرصہ گزارنے کے تجربے کی روشنی میں میں پورے یقین سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ کسی بھی ہنگامی یا جنگی صورتحال میں اصل قوت صرف عسکری تیاری نہیں ہوتی بلکہ اس سے بڑھ کر داخلی ہم آہنگی، قیادت پر اعتماد اور عوام کا نظم و ضبط ہوتا ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو ایک ریاست کو بظاہر کم وسائل کے باوجود بھی ناقابلِ تسخیر بنا دیتے ہیں۔ حالیہ حالات میں امارات کا طرزِ عمل اسی حقیقت کا عملی نمونہ نظر آیا ہے۔ ایک طرف دفاعی سطح پر مکمل تیاری تو دوسری طرف داخلی سطح پر غیرمعمولی یکجہتی۔ یہ وہ امتزاج ہے جو ہر قوم کو نصیب نہیں ہوتا۔ عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے، ریاستی فیصلوں پر اعتماد کیا اور کسی بھی منفی پروپیگنڈے کا شکار ہونے سے گریز کرتے رہے۔ یہ رویہ خود بخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ برسوں کی مسلسل محنت، مربوط پالیسی اور واضح قومی بیانیے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر کسی غیرذمہ دار فرد، چاہے وہ مقامی ہو یا غیر ملکی، کی طرف سے کوئی غلطی سرزد ہوئی تو اس کے خلاف فوری اور بلا امتیاز کارروائی کی گئی۔ اس سے ایک واضح پیغام جاتا ہے کہ قومی مفاد اور اجتماعی نظم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ قانون کی یکساں عملداری دراصل اسی اعتماد کو مضبوط کرتی ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان قائم ہوتا ہے۔
میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق اماراتی معاشرے میں ایک اہم عنصر فکری و سماجی ہم آہنگی ہے، جو مختلف اداروں کی مشترکہ کوششوں سے پروان چڑھتی ہے۔ خصوصاً مساجد کے منبر سے دیا جانے والا پیغام ایک متوازن، ذمہ دار اور اتحاد پر مبنی سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل حالات میں عوام کا ردعمل جذباتی یا انتشار انگیز ہونے کے بجائے سنجیدہ، منظم اور ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ایک قدرے پیچیدہ اور تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔ یہاں دفاعی صلاحیت اور عسکری قوت اپنی جگہ مضبوط ہے، مگر داخلی سطح پر کئی کمزوریاں نمایاں ہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان، سیاسی تقسیم کی شدت، اور قومی بیانیے میں ابہام ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات سیاسی وابستگیاں اس حد تک غالب آ جاتی ہیں کہ قومی مفاد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی بیانیے میں غیر ذمہ دارانہ رویے، بے بنیاد اطلاعات اور جذباتی ردعمل اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ یہ محض اختلافِ رائے نہیں بلکہ ایک ایسا رجحان ہے جو نادانستہ طور پر قومی یکجہتی کو کمزور کرتا ہے۔ جنگ کے دوران سب سے زیادہ نقصان اسی داخلی انتشار سے ہوتا ہے، کیونکہ دشمن کے لیے اس سے بہتر موقع اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک قوم خود ہی اپنی صفوں میں دراڑیں ڈال لے۔
ایسے میں علمائ، دانشوروں اور رائے ساز طبقات کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ اگر وہ معاشرے کو ایک متوازن، ذمہ دار اور حقیقت پسندانہ بیانیہ فراہم کریں، اور محض جذبات ابھارنے کے بجائے فکری تربیت پر توجہ دیں تو اس انتشار کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ منبر، میڈیا اور تعلیمی ادارے سب مل کر اجتماعی شعور کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسی طرح سوشل میڈیا بھی ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ معلومات کی ترسیل کا تیز ترین ذریعہ ہے، مگر اسی رفتار سے افواہیں اور پروپیگنڈا بھی پھیلتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس میدان میں ذمہ داری، شعور اور ایک حد تک مؤثر نظم قائم رکھا جائے تاکہ آزادیِ اظہار اور قومی سلامتی کے درمیان توازن برقرار رہ سکے۔ خلاصہ یہ کہ جنگ کا حقیقی نتیجہ میدانِ جنگ سے زیادہ قوم کے اندر طے ہوتا ہے۔ اگر عوام متحد ہوں، قیادت پر اعتماد ہو، ادارے ہم آہنگ ہوں اور قومی بیانیہ واضح ہو تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اس قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔ لیکن اگر اندرونی طور پر انتشار ہو تو مضبوط ترین دفاع بھی اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ یہی وہ سبق ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فتح صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ دلوں کے اتحاد، فکر کی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کی مضبوطی سے حاصل ہوتی ہے۔

