جسم و جاں کیا چیز ہے، لہو کیا ہے؟

گزشتہ سے پیوستہ:
ان امراض کا ڈاکٹر پھر یہی علاج تجویز کرتے ہیں کہ مثلا آپ کے جسم میں لوہے کی مقدار کم ہوگئی ہے تو اس مقدار کو بڑھا لیں، چونا (کیلشئیم) زیادہ ہوگیا ہے، تو چونے والی دوائی کا استعمال کم کردیں اور اگر خون میں گلوکوز (شکر) کا تناسب زیرو زبر ہوگیا ہے، تو شکر والی اشیا کم یا زیادہ کرلیں۔ دوسرے الفاظ میں ان زمینی اجزا کا تناسب ایک بار پھر قدرتی فارمولے پر لوٹا لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی یہ مہربانی بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ وہ جانتا ہے کہ انسان کے جسم میں ان عناصر کی کمی بیشی ہوتی رہے گی، اس لئے انسان کے تمام غذائی اجزا میں بشمول پھل و خشک میوے، اس نے تمام زمینی عناصر ایک مناسب مقدار میں سمو دیے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی کوئی کمی بیشی یہاں سے پوری ہوتی رہے۔ چاول، گیہوں، سبزیاں، سیب، کینو، کیلے، اخروٹ، کشمش، اور انگور غرض کون سی غذا ہے جس میں انسانی جسم کے یہ لازمی عناصر موجود نہ ہوں!

اندرونِ جسم کی یہ جھلک اس کے محض ایک پہلو کی تھی۔ ایمان افروز اور دلچسپ۔ اب انسانی مشینری کے بعض دوسرے پہلوئوں کو بھی ہم کھولتے ہیں۔ ایک بار ہماری نکسیر ایسی پھوٹی کہ خون کسی طرح بھی نہ رکنے لگا۔ ڈاکٹروں کے علاج سے ہمیں وقتی افاقہ تو ہوا لیکن ان کے اس خیال نے ہمیں سوچ میں مبتلا کر دیا کہ شاید آپ کا خون پتلا ہوگیا ہے۔ ہیں، تو کیا خون واقعی پتلا اور گاڑھا بھی ہوتا ہے؟ ہم نے سوچا۔ خون پڑتال کی رپورٹ سے بہر حال ثابت ہو ہی گیا کہ ہمارا خون ان دنوں پتلا ہو چکا ہے۔ محاور تا نہیں بلکہ اصلاً اور اسی لئے وہ جمنے نہیں پا تا۔ تب اسی سے ایک اور دعا یہ بھی ہمارے لبوں پر آئی کہ پروردگار جسم میں خون اگر دے تو اس نوعیت کا دے کہ وہ فوری طور پر جم جانے کی صلاحیت رکھتا ہو بلکہ درست معنوں میں یہ کہ خون بہت پتلا بھی نہ ہو کہ زخم لگے تو بہتا ہی چلا جائے اور پھر انسانی وجود کو دائو پر لگا دے اور بہت گاڑھا بھی نہ ہو کہ دل کی شریانوں میں رکاوٹیں پیدا کرنے لگے اور انسان کو موت کی طرف سفر شروع کروا دے۔ خون میں فوری جم جانے کی یہ خاص صفت اگر اللہ تعالیٰ نہ رکھتا تو انسان پھر کبھی زندہ ہی نہیں رہ سکتا تھا، چنانچہ اس جم جانے ہی کی یہ وہ صفت ہے جس پر شاعر نے دعوے سے کہا تھا کہ خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا!

ڈاکٹروں کی جراحی بھی اسی لئے قابلِ اعتماد اور ممکن ہوئی ہے کہ اعضا کی چیر پھاڑ کے بعد ادویا ت کی مدد سے خون فوری جمنے کا عمل شروع کر دیتا ہے۔
ایک اور توجہ طلب پہلو انسانی جسم کا اس کی یہ موٹی جلد اور کھال بھی ہے۔ کھال کی ایک بہت عمدہ صفت یہ ہے کہ کٹنے کے بعد بہت کم عرصے ہی میں یہ دوبارہ باہم جڑنے لگ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ چھوٹے موٹے خراش اور کٹ بغیر کسی دوائی کے آسانی کے ساتھ ازخود جڑ جاتے ہیں۔ حتی کہ محض چند دنوں کے اندر اندر ہی کھال کا متعلقہ حصہ، ہتھیلی یا بازو وغیرہ ایسے ہو جاتے ہیں جیسے وہ کبھی کٹے ہی نہ تھے اور پھر کیسی جڑائی؟ نہ کوئی لکیر دوسرے حصے کی لکیر سے الگ اور نہ کوئی کھال پہلے والی کھال سے علیحدہ۔ بالکل اصلی اور خوبصورت! ہماری جلد میں اللہ تعالیٰ اگر یہ خاص وصف نہ رکھتا تب بھی انسان کہیں کا نہ رہتا۔ بدہیئت اور ڈرائونا سا لگتا۔ خواہ وہ مرد ہوتا یا عورت اور انسان فریاد ہی کرتا رہ جاتا۔
یہ جو آپریشن سرجن حضرات دن رات کرتے پھرتے ہیں، وہ ان کے اسی اعتقاد کا مظہر ہیں کہ کاٹی گئی کھال، یا توڑی گئی ہڈی ایک ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں بہت حد تک اپنی اصلی شکل و صورت میں دوبارہ لوٹ آئے گی۔

ہمارا یہ جسم جو اگرچہ چھ فٹ کا ہے لیکن بس ایک ننھے سے دل کے اشارے ہی پر حرکت کرتا ہے۔ اسی کی حرکت سے باقی سارے اعضا حرکت کرتے ہیں اور اسی کی بندش سے باقی سارے اعضا خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
ایک دل کے دھڑکنے ہی پہ موقوف ہے جسم کی ساری رونق!
مگر فی الاصل یہ دل خود کیا ہے؟ ایک ایسا متحرک آلہ یا چالو مشین جسے ستر سے اسی سالوں تک عموماً کسی بھی ریسٹ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ماں کے پیٹ سے جو یہ اپنی دھڑکن کا آغاز کرتا ہے تو زندگی کی آخری سانس تک چوبیس گھنٹے تک ملسل دھڑکتا ہی رہتا ہے۔ کام اس کا ہے صبح و شام چلنا چلنا، چلنا، مدام چلنا!

دنیا کی طاقتور سے طاقتور مشین بھی ستر اسی سال تک لگاتار اس طرح کام نہیں کر سکتی۔ دس بارہ گھنٹوں کے وقفے وقفے سے انہیں ایک بڑا شٹ ڈائون ضرور درکار ہوتا ہے مگر ایک یہ دل! اس کو کسی شٹ ڈائون کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ فیول (غذا اور پانی) کی تو اس دل کو ضرورت رہتی ہے لیکن طویل مرمت جیسے مشغلے سے یہ با لکل بے نیا ز ہے۔ اس کا شٹ ڈائون تو دراصل کسی کے اپنے شٹ ڈائون کا سبب بن جاتا ہے۔ بہت کم ہی افراد ہوتے ہیں جنہیں بائی پاس آپریشن یا مرمت سے گزر کر اپنے دل کو ترو تازہ کرنا پڑتا ہے۔

تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہیکہ دل اور نہ چلے؟ اور دل، اور رک رک کر کھڑا ہو جائے؟ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ رکے گا تو زندگی جاں سے گزر جائے گی ا ور وہ رکے گا تو سمجھ لو کہ زندگی آنکھیں بند کر کے لیٹ جائے گی! حیرت انگیز امر یہ بھی ہے کہ جسم کے تمام اعضا کی نقل و حرکت اگر دل کی دھڑکن کے ساتھ وابستہ ہے تو ان تمام اعضا پر کنٹرول ایک چھوٹے سے دماغ کا ہے۔ اسی کی منشا و مرضی کے مطابق یہ دیکھتے ہیں کہ کب انہیں کون سا کام کرنا ہے اور دیکھتے ہیں کہ کب انہیں کسی کام سے رک جانا ہے؟ دنیا میں آج تک بننے والی تمام مشینیں، چھوٹی یا بڑی، جسمانی مشقت والی یا الیکٹرانک سہولتوں والی، دل دہلادینے والی، یا دل شادمان کر دینے والی، ان تمام مشینوں میں بس یہ ایک انسانی جسم کی مشینری ہی ایسی ہے جسے حیرت انگیز طور پر آج تک مکمل طور پر کوئی سمجھ ہی نہیں سکا ہے اور جو سب سے زیادہ پیچیدہ اور سب سے زیادہ حیران کن ہے۔ یہی وہ مشینری ہے جس پر آج تک لاتعداد پہلوئوں سے غور کیا جا رہا ہے۔ کل بھی اس پر بیش قیمت کتابیں لکھی جایا کرتی تھیں اور آئندہ بھی لکھی جائیں گی، کتابِ جسم کی تفسیریں بہت سچی بات تو یہ ہے کہ انسان کے پاس اگر سوچنے والا کوئی دل ہو تو ساڑھے پانچ اور چھ فٹ والا یہ جسم ہی اسے اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلانے کے لیے کافی ہے، مگر وہ جو کہا ہے اللہ تعالیٰ نے کہ مگر کم ہی ہیں اللہ کے بندوں میں سے جو اس کے شکر گزار بنتے ہیں۔ قلیل من عبادی الشکور۔ سچ ہے اے پروردگارکہ
ہر چیز سے ہے تیری کاریگری ٹپکتی
یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا