دشمنوں کی سازش کا شکار نہ ہوں!

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس میں شبہ نہیں کہ ماضی قریب میں شام کے ظالم حکمرانوں حافظ الاسد اور پھر اس کے بیٹے بشارالاسد نے اہل سنت پر بڑا ظلم ڈھایا ہے لیکن اصل میں اس ظلم کا محرک سیاسی حریفوں کو دبانا ہے، ورنہ شام کا یہ حکمراں خاندان فرقہ نصیریہ سے تعلق رکھتا ہے، جس کو خود اہل تشیع بھی کافر کہتے ہیں۔ اسی طرح شبہ نہیں کہ عراق میں بھی اہل سنت پر بڑے مظالم ہوئے ہیں لیکن صدام حسین نے جو دراصل کمیونسٹ تھا، اہل تشیع پر اور خود مسلمانوں پر بڑے ستم ڈھائے ہیں، صدام حسین تو ایسا ظالم شخص تھا کہ وہ اپنے قریب ترین لوگوں کو بھی بخشنے کیلئے تیار نہیں ہوتا تھا اور انہیں ایسی اذیت ناک تکلیفیں دیتا تھا کہ جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اس میں مسلکی اور نسلی تنگ نظری کا رنگ بھی شامل ہو جاتا تھا لیکن حقیقت میں یہ اقتدار کی ہوس، حکمرانوں کے مخالفین کو برداشت نہ کرنے کا مزاج اور مسلسل حکمرانی سے پیدا ہونے والے غرور کا نتیجہ ہوتا تھا۔ اسی طرح شام میں ایران کے ذریعہ اہل سنت پر جو مظالم ہوئے، جس میں بڑی تعداد میں ان کا قتل ہوا ہے، خواتین کی عزت ریزی ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو ملک بدر کیا گیا ہے، یا ملک بدر ہونے پر مجبور کیا گیا ہے، وہ انتہائی قابل افسوس اور لائق ملامت ہے اور اس کے پیچھے بھی امریکا، اسرائیل اور اس کی درپردہ حمایت کارفرما تھی، شام میں جونئی حکومت آئی ہے اور اس کے بعد جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، خاص کر جیلوں کی جو صورتحال منظرعام پر آئی ہے، وہ حد درجہ تکلیف دہ اور ناقابل بیان ہے اور اس سے بشار الاسد حکومت کی اہل سنت سے دشمنی اور مسلمانوں پر ظلم وجور کی نہایت قبیح صورت سامنے آئی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالم اسلام میں مسلکی رواداری کا فقدان ہے، جس کی بدترین صورت ایران میں اہل سنت کی عظیم الشان مکی مسجد کا انہدام ہے، یہی حال لبنان کا ہے، جہاں اہل تشیع کی نمائندگی کرنے والی تنظیم حزب اللہ نے بزور طاقت ملک پر قبضہ کر رکھا ہے اور اہل سنت ان کے مظالم کا شکار ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عراق، شام اور لبنان میں ہونے والے ان مظالم کے پیچھے ایران کا ہاتھ رہا ہے لیکن بہرحال ایسے حکمرانوں کے ہاں پیش آنے والے واقعات کو امت میں تفریق کا ذریعہ بنانا، اپنے نقصان میں اضافہ کرنا اور خود اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنا ہے۔

موجودہ حالات میں ہماری سوچ اتحاد واتفاق کے لیے ایسے پلیٹ فارم قائم کرنے کی ہونی چاہیے جو تمام مسالک کو انصاف دے سکے اور ان کے جذبات کا لحاظ رکھے، ایران کو بھی چاہیے کہ اپنے رویہ کو درست کرے، اپنے پڑوسی مسلم ممالک کے عوامی مقامات، سفر کے وسائل، معاشی وسائل، ضروریات زندگی سے متعلق وسائل پر حملہ کرنا یقینی طورپر ظلم اور ناانصافی کی بات ہے، اس طرح یہ جنگ عرب اور اسرائیل کی ہونے کی بجائے اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف ہو جائے گی، اسلام دشمن طاقتوں کو اس سے تقویت پہنچے گی اور مسلمانوں کے وسائل تباہ ہوں گے۔

مگر افسوس ہے کہ دونوں طبقوں کے بعض علماء اور مذہبی رہنما ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی اس اختلاف کی آگ کواپنے معاشرے میںگرم کرناچاہتے ہیں اور بے محل بیان دے کر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں (اللہ تعالیٰ ان کو عقل سلیم عطا فرمائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں ایک طبقہ منافقین کا تھا، جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا تھا لیکن حقیقت میں وہ مسلمان نہیں تھا، وہ یہودیوں اور مشرکین مکہ سے ملاہوا تھا اور ان کے لئے جاسوسی بھی کرتا تھا لیکن جب تک ان کی طرف سے کھلے طور پر کفر کا اظہار نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کیا اور اگر کسی منافق کے بارے میں صحابہ نے کارروائی کی درخواست کی توآپ نے انکار کرتے ہوئے فرمایا: لوگ سمجھیں گے کہ اب مسلمان اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو اسی پہلو سے اپنی پالیسی بنانی چاہیے کہ ملت کے باہمی اختلافات کو اپنے حلقہ تک محدود رکھا جائے، دوسرے حلقہ کی دل آزاری سے بچا جائے اور علانیہ اسلام دشمن طاقتوں سے مل جل کر مقابلہ کیا جائے، چاہے یہ مقابلہ زمینی میدان میں ہو، یا فکری میدان میں۔

عالم اسلام کا اس وقت اسرائیل جیسے دشمن سے سابقہ ہے، دنیا میں اس سے زیادہ بے شرم اور ظالم قوم کوئی اور نہیں ہے، اسرائیلی ترانہ ہی کو اگر مسلمان اپنے سامنے رکھیں تو ان کی شقاوت اور ان کے ناپاک عزائم کا اندازہ ہو جاتا ہے، یہ ترانہ عبرانی زبان میں ہے، جس کا اردو ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے:

”جب تک دل میں یہودی روح ہے، تمنا کے ساتھ مشرق (خلیجی ممالک) کی طرف بڑھتا ہے، ہماری امید ابھی پوری نہیں ہوئی، اپنی سر زمین پر ایک ہزار سال کا خواب، اپنے خوابوں کی دنیا یروشلم، ہمارے مشترکہ دشمن یہ سن کر ٹھٹھر جائیں، مصر اور کنعان کے سب لوگ لڑکھڑا جائیں، بیبولون (بغداد) کے لوگ ٹھٹھر جائیں اور ان کے آسمانوں پر ہمارا خوف اور دہشت چھائی رہے، جب ہم اپنے نیزے ان کی چھاتیوں میں گاڑ دیں گے اور ہم ان کا خون بہتے ہوئے اور ان کے سرکٹے ہوئے دیکھیں گے، تب ہم اللہ کے پسندیدہ بندے ہوں گے جو وہ چاہتا ہے۔”

یعنی فلسطین سے عراق تک ان کے نشانہ پر ہیں، جس میں جزیرة العرب اور خلیجی ممالک کے اکثرعلاقے شامل ہیں، افسوس عرب حکمراں کمال بے غیرتی اور نافہمی سے اس ترانے پر کھڑے ہوتے ہیں۔

مقام عبرت ہے کہ ہندوؤں کے درمیان اس درجہ مذہبی اختلاف ہے کہ شاید کسی اور قوم میں ہو، آریہ سماجی ایک خدا کو مانتے ہیں، برہما کماری بھی مورتی پوجا کے قائل نہیں ہیں، مختلف علاقوں کی الگ الگ مورتیاں ہیں، کہیں شیو کی پوجا ہے، کہیں وشنو کی، کہیں گنیش کی پوجا کی جاتی ہے اور کہیں کرشن کی، پھر ذات پات کے اختلاف کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ خود ہندو قوم بھی ان کا ذکر کرنے میں شرم محسوس کرتی ہے لیکن مسلمانوں کی عداوت نے ان کو متحد کر رکھا ہے، یہودیوں کے کئی فرقے ہیں اور سب ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں، ان کے ظاہری شعار بھی الگ الگ ہیں۔ میں نے بیت المقدس اور بعض مغربی ممالک کے سفر میں اس بات کو دیکھا اور وہ اپنی آبادیاں بھی الگ الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیت المقدس کی زیارت کے موقع پر مجھے بیت اللحم جانے کا بھی موقع ملا، جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام پیدائش قرار دیا جاتا ہے، وہاں میں نے خود دیکھا کہ ایک ہی جگہ قریبی فاصلہ سے تین چرچ بنے ہوئے ہیں، معلوم ہوا کہ یہ تینوں الگ الگ عیسائی فرقوں کے ہیں اور وہ سب ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں۔ یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ایسے اہانت آمیز جملے استعمال کرتے ہیں کہ ہم لوگ توان کو نقل بھی نہیں کر سکتے۔ ان سب کے باوجود مختلف گروہوں کو جس چیز نے یکجا کر رکھا ہے، وہ ہے اسلام سے عداوت اور مسلمانوں کی مخالفت۔

مقام افسوس ہے کہ ہمارے دشمن تو ہماری مخالفت کے لیے متحد ہو جائیں اور اہم ایسے نادان ثابت ہوں کہ ایسی صورتحال میں بھی اختلاف کو ہوا دینے کا کام کرتے رہیں۔ اس حقیقت کو قبول کرتے ہوئے کہ دونوں گروہوں کے درمیان شدید اعتقادی اختلافات ہیں، سوال یہ ہے کہ عالم اسلام میں اور خاص کرہندوستان پاکستان میں مشترکہ مقاصد کے لیے کیا اتحاد نہیں ہوسکتا؟ اور اتنے بڑے دشمن کے مقابلے میں ہم آواز ہوکر بات نہیں کی جا سکتی؟ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، ہندوستان میں بھی فرقہ پرست طاقتیں، شیعہ سنی، مقلد غیرمقلد، دیوبندی، بریلوی اختلاف کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہیں اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا جاتا ہے، مسلمانوں کا اختلاف اور ان کی ناسمجھی مسلمانوں کو کمزور سے کمزور تر کرتی جا رہی ہے اور ان کی بے وزنی بڑھتی جا رہی ہے، اس پر جذبات سے نہیں، عقل وشعور اور حکمت ودانائی سے غورکرنے کی ضرورت ہے۔