ہر سنی سنائی بات پر ردِعمل دینا دانشمندی نہیں، اور ہر معاملے پر بولنا ذمہ داری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی بھی شعور کی ایک شکل ہوتی ہے۔
ہمیں متحدہ عرب امارات میں رہتے ہوئے ایک طویل عرصہ ہو چکا ہے۔ یہاں کے معاشرتی نظم کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو یہ بات واضح ہوئی کہ امن و امان صرف قوانین کی سختی سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ لوگوں کے رویوں، ان کے طرزِ اظہار اور اپنی حدود کو پہچاننے کے شعور سے جنم لیتا ہے۔ یہاں اختلاف ہوتا ہے مگر انتشار نہیں بنتا، رائے دی جاتی ہے مگر شور نہیں اٹھایا جاتا اور ہر شخص اپنے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کرتا ہے۔اس کے برعکس پاکستان کا ماحول ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ وہاں آزادی اظہار رائے کی وسعت اپنی جگہ، مگر اس کے ساتھ ایک بے ترتیبی بھی جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ہر شخص کو بولنے کا حق حاصل ہے، مگر ہر بات کا وقت، پس منظر اور اثر کم ہی زیرِ غور آتا ہے۔ احتجاج، دھرنے اور بیانات بعض اوقات ایسے موضوعات پر بھی سامنے آ جاتے ہیں جن کا تعلق براہِ راست ملک سے نہیں ہوتا، مگر اس کا اثر ضرور ملک کی معیشت، ساکھ اور عمومی فضا پر پڑتا ہے۔
اسی بدلتے ہوئے ماحول میں میڈیا کی شکل بھی بدل گئی ہے۔ اب خبر صرف اداروں سے نہیں آتی، بلکہ ہر ہاتھ میں موجود موبائل ایک ذریعہ ابلاغ بن چکا ہے۔ اس تبدیلی نے رفتار تو پیدا کی، مگر معیار کو چیلنج بھی کیا۔ تربیت یافتہ صحافی اور سوشل میڈیا کے دانشور ایک ہی صف میں دکھائی دینے لگے، حالانکہ دونوں کے مزاج اور ذمہ داریاں یکسر مختلف ہیں۔پیشہ ور صحافی کے لیے خبر محض اطلاع نہیں، ایک امانت ہوتی ہے۔ وہ اپنی بات تحقیق، سیاق و سباق اور توازن کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اس کے لیے وطن کوئی عارضی موضوع نہیں بلکہ مستقل ذمہ داری ہے۔ اس کے الفاظ میں ٹھہرا ہوتا ہے، اختلاف میں بھی وقار ہوتا ہے اور غلطی کی صورت میں اصلاح یا معذرت کا حوصلہ بھی ہوتا ہے۔دوسری طرف سوشل میڈیا کے بعض نمایاں چہرے فوری ردِعمل کے عادی ہیں۔ ان کی دنیا رفتار، توجہ اور اثر پذیری کے گرد گھومتی ہے۔ وہ بسا اوقات ایک بڑے حلقے تک رسائی رکھتے ہیں، مگر ہر رسائی شعور میں تبدیل نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اس پلیٹ فارم کو ذمہ داری سے استعمال کرتے ہیں، مثبت پیغام دیتے ہیں، اور حالات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی فضا میں مگر ایسے افراد بھی موجود ہیں جو ہر سنجیدہ معاملے کو خود کو نمایاں کرنے کا یا لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کا سنہری موقع سمجھتے ہیں۔
یہی وہ رویہ ہے جو سنجیدہ بیانیے کو کمزور کرتا ہے اور معاشرتی فضا میں بے یقینی پیدا کرتا ہے۔ درحقیقت پاکستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی کی ایک بڑی وجہ یہی زبان و قلم کی بے ہنگم آزادی بھی ہے۔ جہاں لفظ اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو جائیں، وہاں افواہ اور اشتعال حقیقت پر غالب آ جاتے ہیں اور معاشرہ دھیرے دھیرے اضطراب کی گرفت میں آ جاتا ہے اور لوگ بدامنی کا شکار ہوجاتے ہیں۔موجودہ حالات نے اس فرق کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کو درپیش چیلنجز کے دوران یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ آزمائش صرف میدان میں نہیں ہوتی، بلکہ ذہنوں اور رویوں میں بھی ہوتی ہے۔ خوف، افواہیں اور غیر مصدقہ خبریں وہ ہتھیار ہیں جو بظاہر معمولی لگتے ہیں مگر اثر میں گہرے ہوتے ہیں۔
آج ہر فرد، چاہے وہ چاہے یا نہ چاہے، ایک پیغام رسان بن چکا ہے۔ ایک فارورڈ کیا گیا پیغام، ایک مختصر ویڈیو یا ایک ادھوری خبر نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بڑے بیانیے کا حصہ بن سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں احتیاط، شعور اور ذمہ داری کی ضرورت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ایسے مواقع پر رویوں کا توازن بہت کچھ طے کرتا ہے۔ گفتگو میں ٹھہراؤ، معلومات میں تصدیق اور اظہار میں احتیاط ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہیں۔ ہر دیکھی ہوئی چیز کو پھیلانا ضروری نہیں ہوتا اور ہر سنی ہوئی بات کو آگے بڑھانا دانشمندی نہیں۔گھروں کے اندر بھی یہی فضا منتقل ہوتی ہے۔ بچے ہمارے الفاظ سے زیادہ ہمارے انداز کو سیکھتے ہیں۔ اگر ماحول میں بے چینی ہو تو وہی ان کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے اور اگر اعتماد اور سکون ہو تو وہی ان کی شخصیت میں ڈھلتا ہے۔
اسی حوالے سے ایک پرانا منظر ذہن میں ابھرتا ہے۔ سوات کی ایک سیر کے دوران، انتخابی دن قریب تھے۔ ایک کمسن بچے سے یونہی پوچھ لیا کہ وہ کس کو ووٹ دے گا۔ اس نے بغیر کسی توقف کے ایک سیاسی رہنما کا نام لیا اور ساتھ ہی باقی سب کو چور کہہ کر ایک ہی سانس میں رد کر دیا۔ اس معصوم جملے میں معصومیت کم اور ماحول کی بازگشت زیادہ تھی۔ گلی کوچوں میں گونجنے والے نعروں اور خطابات نے اس کے شعور سے پہلے اس کی زبان کو سکھا دیا تھا کہ فیصلہ کیسے سنانا ہے اور بات کیا اور کس طرح کرنی ہے۔
معاشرے کی اصل طاقت اس کے افراد کے رویوں میں ہوتی ہے۔ الفاظ اگر سوچ سمجھ کر ادا کیے جائیں تو وہ اعتماد پیدا کرتے ہیں اور اگر بے احتیاطی سے استعمال ہوں تو وہ بے یقینی کو جنم دیتے ہیں۔ اسی باریک فرق میں ایک مہذب معاشرہ اور ایک بے سمت ہجوم الگ پہچانا جاتا ہے۔نتیجہ کے طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ اصل فرق ہتھیاروں یا حالات کا نہیں، بلکہ رویوں اور طرزِ فکر کا ہے۔ ایک طرف پاکستان ہے، جو حالتِ جنگ میں نہیں، مگر وہاں کا عام انسان خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے، اور دوسری طرف متحدہ عرب امارات ہے، جو آج کل بیرونی چیلنجز اور خطرات کے باوجود اپنے باشندوں کو ایسا نظام اور ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جہاں زندگی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے۔آزادی اظہار اپنی جگہ ایک قیمتی حق ہے، مگر اس کا حسن اس کی ذمہ داری میں پوشیدہ ہے۔ جب لفظ شعور کے ساتھ جڑ جائے تو وہ تعمیر کرتا ہے، اور جب وہ محض ردِعمل بن جائے تو بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے معاشروں کی سمت متعین ہوتی ہے۔
