کل ہمارے دوست عاقل خان صاحب نے ایک بات کر کے ہمیں پریشان کر دیا۔ کہنے لگے: ڈاکٹر صاحب! آپ بھی سیاست دان بنتے جا رہے ہیں۔ قارئین کرام! آپ خود ہی منصف بن کر بتائیں کیا کوئی بھی شریف آدمی اپنے اوپر ایسی تہمت برداشت کرسکتا ہے…!! ہم سے بھی نہیں ہوئی، سوچ میں پڑ گئے کہ ہم نے بزعم خود بڑی شریفانہ زندگی گزاری ہے، آخر عاقل خان صاحب کو ہمارے طرزِ عمل میں ایسی کون سی ناروا تبدیلی نظر آئی جسے انہوں نے ”سیاست” پر محمول کر ڈالا۔ گالم گلوچ تو دور کی بات ہم نے کبھی کسی سے اونچی زبان میں بھی بات نہیں کی۔ اسمبلی ہال تو کجا ہم کسی عام مچھلی بازار میں بھی نہیں جاتے۔ لوٹوں سے بھی ہمارے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔ جب سے مسلم شاور آیا ہے لوٹے سے ہاتھ ملانا بھی متروک ہوچکا۔
پہلے بھی جب کبھی حوائج ضروریہ کے بعد بامر مجبوری لوٹے سے استفادہ کرنا پڑ ہی جاتا تو ہمیشہ دروازہ اندر سے بند رکھتے۔ ہاں یہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کئی مواقع پر ہم نے ”واپس” کی جگہ ”لوٹے” کے لفظ کو ترجیح دی۔ مثلاً ہمارے علاقے کے ایم این اے صاحب اسمبلی کے اجلاس سے ”واپس” آئے تو ہم نے عاقل خان صاحب کو اطلاع دیتے ہوئے کہا۔ ہمارے ایم این اے صاحب ”لوٹے” ہیں اور یہی ان کی ”واحد” خوبی ہے۔ بقول پروین شاکر کہ ”… لوٹا تو میرے پاس آیا”۔ ہماری سیاست سے دوری کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ ایک دفعہ ہمیں گاڑیوں کے اتوار بازار میں بہت ہی اچھی گاڑی بہت کم قیمت میں مل رہی تھی مگر ہم نے نہ لی کیونکہ MNA-420 تھا اُس کا نمبر ۔اس وقت عاقل خان صاحب ساتھ تھے، انھوں نے بہت زور دیا کہ ہمیں گاڑی لے لینی چاہیے مگر ہم نہ مانے وہ بیچارے یہی سمجھتے رہے کہ ہم شاید ”چار سو بیس” کی وجہ سے نہیں لے رہے حالانکہ ہم تو اپنے اوپر ”ایم این اے” کی تہمت لگنے سے خوفزدہ تھے۔
بہرحال خان صاحب کو ہمارے اوپر سیاست کی تہمت لگاتے ہوئے کچھ تو خیال کرنا چاہیے تھا۔ وہ اکثر ہمارے کلینک پر بیٹھے ہوتے ہیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم بالکل غیرسیاسی ہیں، ہم سے تو کسی ایک مریض کے ساتھ دھوکا نہیں ہو پاتا، ہم بڑے پیمانے پر سیاست بھلا کیسے کر سکتے ہیں۔ ہمارے کلینک پر کئی سیاستدان بھی علاج کے لئے آتے ہیں مگر ہم نے ”موقع” موجود ہونے کے باوجود انہیں ”صحیح” دوا ہی تجویز کی۔ ہاں بچپن کی بات الگ ہے اس وقت ہم ضرور سیاست کرتے رہے… معاف کیجئے گا ہمارا مطلب ہے کہ جھوٹ بولتے رہے مگر شعور آنے کے بعد نہیں بولا۔ اب تو ہم کسی دوسرے مشتبہ شخص کی دی اطلاع آگے پہنچائیں تب بھی انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ مثلاً وزیر اطلاعات کی مہیا کردہ اطلاع بیان کرتے وقت ”دروغ بر گردن راوی” کہنا نہیں بھولتے۔ بچپن میں اسکول کے اندر اگر ناسمجھی میں ایم این ایز کی طرح ڈیسک بجائے ہوں تو قابلِ مواخذہ نہیں، کیونکہ اس وقت ہم ایم این ایز کی طرح گریجویٹ تو نہیں تھے۔
اسی طرح ہمیں یہ بھی تسلیم ہے کہ اسکول کے زمانے میں ہم بھی ایم این ایز کی طرح ”ڈنڈے” سے ڈرتے تھے مگر ہمارا معاملہ بالکل الٹ ہے وہ یوں کہ اس وقت ہم خود ”یونیفارم” میں ہوا کرتے تھے اور ڈنڈا ایک ”سولائیزڈ” ماسٹر کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ لہٰذا سیاستدانوں سے مماثلت ہرگز نہیں بنتی۔ عاقل خان صاحب کی غلط فہمی کی شاید یہ بنیاد ہو کہ ہم ”خبریں” دلچسپی سے سنتے ہیں، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایسا ہم سیاست میں دلچسپی کے باعث کرتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خبریں سن کر ہمیں اپنا گھریلو بجٹ ایڈجسٹ کرنے میں مدد ملتی ہے، کیونکہ جب وزیر خزانہ صاحب کا بیان آئے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ اضافہ ہونے والا ہے۔ لہٰذا فوراً دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ سیاستدانوں کی باتیں سن کر ”حالات غیرحاضرہ” سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ نیوز چینلز میں بیٹھے اینکرز ”جرنلزم” کی بجائے ”جنرل ازم” کے نمائندے ہوتے ہیں۔
(مصلحتاً کالم یہی ختم کرنا اگر سیاست ہے تو شاید ہم ان معنوں میں سیاست دان ہی ہیں)
